مسیحی نوجوان کی پولیس حراست میں ہلاکت ، پوسٹ مارٹم میں کیا انکشاف سامنے آیا ہے؟؟

لاہور میں ایک اور نوجوان پر پولیس کا تشدد سامنے آیا ہے ، تھانہ شمالی چھائونی کی حدود میں پولیس تشدد سے مسیحی نوجوان عامر کی ہلاکت کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں عامر مسیح پر تشدد کی تصدیق ہو گئی ہے – پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے عامر مسیح کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عامر کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے،، عامر مسیح کے دونوں ہاتھوں، پاؤں، کمر اور بازؤں پر تشدد کے نشانات تھے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عامر مسیح کی دونوں پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں – اسی طرح عامر مسیح کو کینٹ کے ایک ہسپتال میں لیجانے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی منظر عام پر آگئیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے سول کپڑوں میں ملبوس دو موٹرسائیکلوں پر سوار تین پولیس اہلکار عامر مسیح کو ہسپتال علاج کیلئے لائے،عامر کے لڑکھڑانے پر پولیس اہلکاروں نے طیش میں آ کر اسے لاتوں سے مزید تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں پولیس اہلکار ہسپتال کی لابی میں بھی عامر مسیح کو ہسپتال انتظامیہ کے سامنے زدوکوب کرتے رہے-

واضح رہے کہ عامر مسیح کیس کا مرکزی ملزم سب انسپکٹر تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا ہے جبکہ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی پولیس اپنے پیٹی بھائی سب انسپکٹر ملزم ذیشان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی اس کیس کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور یقین دہانی کروائی ہے کہ ملزمان جلد گرفتار کر لئے جائیں گے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں