سر میں گولی ماردو یا کھڑکی سے باہر پھینک دو ، درخواستوں کی وصولی کیلئے دفترکا پتہ نہیں دوں گا

پاکستان میں صف اول کے بیوروکریٹس کی میگا پراجیکٹس میں مبینہ کرپشن گرفتاریوں اور طویل قید کے پیش نظرسرکاری افسران کسی بھی میگا پراجیکٹ کی تجاویز کے لئے اپنے دفاتر کے پتہ جات دینے سے انکاری ہو گئے ہیں – اس حوالے سے معروف صحافی عمر چیمہ نے ایک جاری کردہ اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اس افسر نے واضح طور پر انکار کردیا۔ اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے دفتر کا پتہ اظہار دلچسپی (ای او آئی) کی تجاویز جمع کرانے کیلئے استعمال کرنے دے – انہیں 5 ارب روپے کی مائیکرو کریڈٹ اسکیم، جس کے آغاز کا ارادہ حکومت رکھتی ہے، آؤٹ سورس کرنے کی دعوت دی جارہی تھی۔ابتدائی طور پر وزارت خزانہ کو خدمات فراہم کرنے والے کے انتخاب کا عمل بجا لانے کیلئے کہا گیا جو غریبوں کو سود سے پاک قرضے دے سکے۔ اس نے انکار کردیا پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کہا گیا۔ اس نے بھی انکار کردیا۔اس صف میں وزارت ہاؤسنگ تیسرے نمبر پر تھی۔موجودہ حکومت کا حصہ ایک شخصیت کے مطابق وہ اس ضروری کام پر راضی ہوگیا۔ پہلے مرحلے میں ای او آئی تجاویز کو یہ دیکھنے کیلئے مدعو کیا گیا کہ اس مقررہ کام کی ادائیگی کیلئے سب سے بہترین خدمت فراہم کرنے والا کون ہوگا۔ دلچسپی رکھنے والے اداروں سے درخواستوں کی فراہمی کیلئے اشتہار میں پتہ دینے کی ضرورت تھی۔ جیسا کہ انہیں اس فیصلے کے حوالے سے مطلع کردیا گیا تھا، انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سیکریٹری ہاؤسنگ نے ناراضگی دکھانے کیلئے انہیں طلب کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق نافرمان افسر کو بھی بتادیا گیا تھا کہ اس طرح کی حرکتیں ان کی مستقبل میں ترقی کے امکانات کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا افسر جو چھوٹا سا کام کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو وہ بے کار اور قومی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے جواب سے اپنے باس کو حیرت زدہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے حوالے سے دھمکی دینے کے بجائے میرے سر میں گولی ماردو۔مجھے کھڑکی سے باہر پھینک دو۔ جو بھی چاہتے ہو کرو لیکن میں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ درخواستیں وصول کرنے کیلئے میرے دفتر کا پتہ استعمال کرے – سیکریٹری نے اس کے باوجود زور دیتے ہوئے پوچھا کہ تم اپنے انکار کی وجہ بتاؤ۔افسر نے جواب دیا کہ سر اس کا تعلق 5 ارب روپے کے منصوبے سے ہے۔ مجھے مشکل میں مت ڈالیں۔ جیسا کہ دلائل کا تبادلہ جاری تھا، سیکریٹری نے پوچھا کہ اس منصوبے میں ان کا کوئی کردار ہی نہیں تو وہ کیسے مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔افسر نے جواب دیا کہ اگر مستقبل میں 5 ارب روپے کے منصوبے کی تحقیقات شروع ہوگئیں تو مجھے ان بنیادوں پر غیر ضروری طور پر پھانس لیا جائے گا کہ اظہار دلچسپی کی تجاویز دینے کیلئے میرے دفتر کا استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق افسر کے دماغ میں چھپا خوف بے بنیاد نہیں تھا۔یہ اس برتاؤ کی بنیاد پر تھا جو ان بیوروکریٹس کے ساتھ روا رکھا گیا جو مسلم لیگ نون کی حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے میگا پراجیکٹس میں شامل تھے۔ ٹھیک فواد حسن فواد سے لے کر احد چیمہ تک اور ہاؤسنگ پراجیکٹس اور پینے کے صاف پانی کی اسکیموں کی ذمہ داری ادا کرنے والے بیوروکریٹس یا تو سلاخوں کے پیچھے ہیں یا انکوائریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔مقدمات میں نیب من صوبوں میں ان کے حصے پر کوئی بھی غلطی ڈھونڈنے میں ناکام رہا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف دیگر الزامات لگاکر ان کی قید کو بھی طول دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بیوروکریٹس کی قسمت سےسبق سیکھتے ہوئے موجودہ حکومت کے میگا پراجیکٹس کی سربراہی کرنے والے افسران کو ان کے خیر خواہوں کی جانب سے مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ خود کا تبادلہ نسبتاً کم اہم عہدوں پر کروالیں۔ ایک وفاقی سیکریٹری کا کہنا ہے کہ خواہ میری اہلیہ ہو، بھائی، رشتہ دار اور دوست، تمام کے تمام مجھے مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ تبادلے کی درخواست دے دو۔

اس صورتحال میں کون سا سرکاری آفیسر کام کرے گا اورکسی بھی بڑے پراجیکٹس کی سربراہی سنبھالےگا – یہی پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بھی سمجھی جارہی ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں