موذی سے مودی تک ………… (تحریر، قمر بخاری)

جس معاشرے میں گندگی، گھٹن اور تعفن بڑھ جائے تو وہاں موذی امراض پھیلنے لگتی ہیں جس سے وسیع پیمانے پر لوگ متاثر ہوتے ہیں مگر کسی ایسے معاشرے کی قیادت گندگی سے لتھڑے ہوئے تنگ نظر اور متعفن ذہنیت کے حامل کسی بھیڑیے نما انسان کے ہاتھ لگ جائے تو وہاں ”مودی“ امراض پھوٹ پڑتی ہیں بلکہ اس معاشرے کے لوگوں میں بھی خوب پھوٹ پڑتی ہے۔ موذی امراض سے تو بچاؤ ممکن ہے مگر مودی امراض سے بچاؤ تو نہیں البتہ بیچ بچاؤ کا ٹرمپ کارڈ استعمال ہو سکتا ہے۔ مودی ذہنیت کے حامل لوگوں کی چونکہ معاشرتی سطح پر خوب ”کسائی“ ہو چکی ہوتی ہے لہٰذا اپنی اس محرومی کا ازالہ کرنے کے لئے وہ قصائی کا روپ دھار لیتے ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے وہ کشتوں کے پشتے لگاتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے وچار سے لوگ لاچار ہونے لگتے ہیں اور اپنی اندھی طاقت کے زعم میں جسے یہ شکتی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ لوگوں کے لئے ”سختی“ ثابت ہوتی ہے۔ اس شکتی کے گھمنڈ میں وہ رافیل جیسے ”ویمان“ پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں اور ان کے زیرعتاب لوگ اپنے ایمان کی قوت سے ان کی سختیوں کا مقابلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں جن دنوں فیچر فلموں کی بہتات تھی ان دنوں جب بھی لوگ بور ہوتے تھے تو مووی دیکھنے چلے جاتے تھے لیکن اب تفریح کے بے شمار ذرائع دستیاب ہیں لہٰذا لوگ مووی پر کم توجہ دیتے ہیں تاہم جب وہ بور ہونا چاہتے ہیں تو بھارتی چینلز لگا کر مودی دیکھ لیتے ہیں جس سے ان کا باقی دن مودی کی طرح بہت تکلیف میں گزرتا ہے۔ عربی زبان کا ایک مقولہ ہے ”قتل الموذی، قبل الایذا“ موذی کو نقصان پہنچانے سے پہلے قتل کر دینا چاہیے اگر موذی کا نکتہ اڑا دیا جائے تو کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ حسب حال دکھائی دیتا ہے۔ رسوائی، شرمندگی اور شیطانیت کو اگر مخفف کی صورت میں لکھا جائے تو آر ایس ایس بنتا ہے اور مودی اسی آر ایس ایس کی پیداوار ہے۔ مودی امراض کی علامات ظاہر ہونے پر متاثرہ افراد ”گاؤموتر“ اپنے معدے میں اتار کر باطنی مودیانہ کیفیت کی تسکین کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مشروب سے نہ صرف وہ لوگ اپنی گندگی اور پلیدگی کو چارجنگ پلگ کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں بلکہ اسے زیادہ مقدار میں پینے سے ان کے چہرے پر مودی جیسے خدوخال اور تاثرات بھی نمایاں طور پر سامنے آنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ گائے کے گوبر کو گوبرنایاب قرار دیتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ گوبرنایاب اور گاؤموتر کا خزانہ پاکستان سے بڑی مقدار میں برآمدات کی صورت میں پڑوسی ملک کثیر زرمبادلہ کے عوض بھجوایا جانے لگے اور اگر وہاں ڈیمانڈ زیادہ بڑھ گئی تو ہمیں تمام سیوریج نالوں کا رخ بھی ادھر کی طرف کرنا پڑے گا۔ اگرچہ ہندوستان کے مودی النسل حکمران گائے گائے کی رٹ لگائے رکھتے ہیں مگر پاکستان کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں گائے گائے پوری دنیا گائے مگر کوئی پاکستانی نہ گائے۔ مودی امراض کے حامل معاشرے میں جب گاندھی کے نظریے پر جنونیت کی آندھی کا نظریہ غالب آنے لگے تو سمجھ لیں کہ اقدارو روایات کو خس و خاشاک کی طرح بکھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جواہر لال نہرو کے دیش میں جب ریاست گجرات کے قصابوں کے ہاتھوں خون سے لال نہروں کے عذابوں کو رواج دیا جانے لگے تو سمجھ لیں کہ خونی انقلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ مودی امراض پھیلانے والے تنگ نظر اور انتہاپسند لوگ جس ”ہندوتوا“ کو لئے پھرتے ہیں وہ درحقیقت ایک ہندو توا ہے جس سے سیکولر ہندوستان کا پوری دنیا میں منہ کالا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مودی کی سوچ کا عکاس یہ نظریہ جو ان دنوں پوری شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے اس کی وجہ سے ہندوستان کی سیکولرازم کی صراحی بری طرح مودھی ہو چکی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک میں پھوٹ پڑنے والے ان مودی امراض کے جراثیم صرف اسی معاشرے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اب یہ تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مودی امراض کے بڑھتے ہوئے طوفان کو عمودی انداز سے روکنے کی کوشش کریں ورنہ یہ معاشرہ ایک بار پھر قبل ازاسلام کا دورجاہلیت کی قبیح رسومات کا حامل معاشرہ بن جائے گا جسے ایک پیغمبر ہی سدھار سکتا ہے مگر اب تو پیغمبروں کا باب بند ہو چکا ہے لہٰذا ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ ان مودی امراض کے خلاف قدرت کاملہ اپنے طریقے سے کوئی ایسا اہتمام بروئے کار لائے گی جس سے فرعون اور نمرود و شداد کی طرح یہ دور بھی ایک عبرت کے باب کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں گم ہو کر رہ جائے گا۔ مودی پوری دنیا میں اپنے ظالمانہ اقدامات پر خود کو فاتحانہ انداز میں نمایاں کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ حق و باطل کے ابدی ٹکراؤ میں ہمیشہ باطل کو شکست فاش ہوئی ہے اور حق غالب رہا ہے۔ آج کشمیر کے چناروں کو نفرت کے انگاروں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ عزتوں و عصمتوں کی پامالی کی خوفناک دیوالی کا مکروہ کھیل جاری و ساری ہے۔ نوجوانوں کو پابندسلاسل کرنے اور ان پر پیلٹ گنوں کے ذریعے ان کی خوبصورتی نوچنے اور بینائی چھیننے کے وحشیانہ مناظر وقوع پذیر کئے جا رہے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ لاالہ الا اللہ کا ورد کرنے والے اپنے رب کے سوا کسی موذی یا کسی مودی سے نہیں ڈرتے۔ مودی امراض کا وائرس پھیلانے والے بہت جلد خود ہی اسی وائرس کی لپیٹ میں آ کر دنیا بھر کے لئے عبرت کا نشان بن جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں