مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ


تحریر ، محمد احمد مرتضی

یوں تو کشمیر کا مسئلہ انگریز سامراج کے دور میں شروع ہوا لیکن وقتا فوقتا اس میں اتار چڑھاؤ آتا رہا کشمیر شاید واحد خطہ زمین ہے جسے بار ہا چند کوڑیوں کے عوض آبادی سمیت فروخت کردیا گیا انگریز سامراج نے بھی اسے 70 لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ڈوگر راجہ کے ہاتھوں فروخت کردیا اس وقت سے کشمیری عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں 1930 میں انہوں نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا 1947 میں تقسیم ہند کے وقت کشمیری عوام کو بھی آزادی کی کرن نظر آئی لیکن انگریز ہندو گٹھ جوڑ نے ان سے امید کی کرن چھین لی اور خطہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اس وقت سے اب تک کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں اقوام متحدہ میں منظور قرار دادوں کے باوجود دنیا بھر کے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی اس حوالے سے 72 سال سے تقاریر ہوتی ہیں لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی میں طویل ترین تقریر کا اعزاز سربراہ مملکت کی حیثیت میں فیڈل کاسترو کو حاصل ہے۔ یہ تقریر کاسترو نے 1960 میں کی یہ تقریر ساڑھے چار گھنٹے جاری رہی۔

تقریر کا بیشتر حصہ امریکہ کے خلاف تھا اگر تقریر کا کوئی اثر ہوتا تو کاسترو نے یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ دنیا کی ہر برائی، ہر مصیبت اور ہر دکھ درد کی جڑ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے اس تقریر کا نہ تو مندوبین نے کوئی اثر لیا اور نہ ہی امریکی میڈیا اور رائے عامہ نےاس کے برعکس امریکی میڈیا نے ان زندہ مرغیوں میں زیادہ دلچسپی لی، جو کاسترو اپنے ساتھ کیوبا سے لائے تھے –

اقوام متحدہ کی ایسیی ہی غیر معمولی تقاریر میں ایک مشہور تقریر یاسر عرفات کی بھی تھی یاسرعرفات کو 1974 میں غیر جانب دار تحریک کے ممبر ممالک کی مشترکہ تحریک پر اقوام متحدہ میں آ کر خطاب کرنے کی دعوت دی گئی تھی یاسرعرفات اپنے فوجی یونیفارم میں سٹیج پر تشریف لائے، انہوں نے اسرائیل اور صیہونیت کے خلاف ایک تفصیلی اور پر جوش خطاب کیا انہوں نے کہا کہ سامراج، نوآبادیاتی نظام، نیو نو آبادیاتی نظام اور نسل پرستی کی سب سے بڑی شکل صہونیت ہے انہوں نے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم، تشدد کا دلگداز انداز میں ذکر کیا مگر فلسطین کے حوالے سے مختلف ممالک نے پہلے سے جو پالیسی اپنا رکھی تھی اس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہ آئی اور نہ ہی کسی نئے ملک کی حمایت حاصل ہوئی

ایک مشہور تقریر وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز کی بھی تھی اس تقریر میں اس نے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کو شیطان کہا تھا ہوگو شاویزنے نوم چومسکی کی کتاب مندوبین کودکھائی تھی کہ اس میں امریکہ کے بارے میں کیا لکھا ہے مندوبین نے اس تقریر سے خوب لطف اٹھایا مگر کسی ملک نے وینزویلا کو اس تنہائی سے نکلنے میں مدد نہ کی جس میں امریکہ نے اسے دھکیل رکھا تھا
اقوام متحدہ میں اس طرح کی تقاریر میں ایک تقریر لیبیا کے معمر قذافی کی بھی ہے۔ قذافی کی یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی تقریر تھی، مگر اس نے اگلی پچھلی ساری کسر اس ایک تقریر میں ہی پوری کر دی۔ قذافی نے مسلسل ایک سو منٹ خطاب کیا۔ اس تقریر میں قذافی نے نصف صدی کے شکوے اورامریکہ کی طرف سے ہونے والی عالمی سازشوں پر گفتگو کی۔ سازشی نظریے بیان کیے۔ اس نے الزام لگایا کہ امریکہ نے دنیا میں سوائن فلو پھیلایا ہے۔ قذافی نے جان ایف کنیڈی کے قتل کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ پر سولات اٹھائے اور حکومتی موقف کو چیلنج کیا۔ مگر اس بار بھی میڈیا اور رائے عامہ نے قذافی کی اقوام متحدہ کی سنسی خیز تقریر سے زیادہ اس کی اقوام متحدہ سے باہر کی سرگرمیوں میں زیادہ لی-

اقوام متحدہ میں خروشیف کی تقریر بھی بہت مشہور ہوئی، جس میں اس نے مخالفین کو زندہ دفن کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ مگر میڈیا اور مندوبین نے ان کی تقریر کے بجائے اس جوتے میں زیادہ دلچسبی لی، جو انہوں نے فلپائن کے نمائدے کو چپ کرانے کے لیے ڈیسک پر مارا تھا-

کشمیر کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر بھی ایک شاہکار تقریر تھی۔ زبان و بیان، دلیل اور جوش و خروش کے حوالے سے شاید ہی کسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے فلور پر اس سے بہتر تقریر کی ہو۔ اس تقریر میں مضبوط دلائل بھی تھے، اور ایک جذباتی اپیل بھی، جو انسان کے دل کو چھوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ یقین ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ انصاف ہو گا۔ ان پانچ ملین لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے-

بھٹو نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا حق خود ارادیت کا اصول ایشیا اور افریقہ سے لے کر پوری دنیا کے لیے ہے سوائے جموں کشمیر کے عوام کے؟ کیا وہ کوئی اچھوت ہیں کہ ان کو حق خودارادیت نہیں دیا جا سکتا؟ ان کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا؟ جموں کشمیر کے عوام کے اس حق سے انکار کا مطلب اصولوں پر طاقت کا تسلط ہے۔ طاقت کو اصولوں پر برتری نہیں ہونی چاہیے۔ اصول طاقت سے برترہیں۔

یہ ایک پر مغزاور جذبات کو جھنجھوڑ دینے والا خطاب تھا، مگر اس کا نتیجہ کچھ نہ نکل سکا۔ کشمیر پر جن ممالک کی خاموش رہنے کی پالیسی تھی، ان کی خاموشی نہ ٹوٹ سکی اس کے بعد متعدد بار پاکستان کے وزرائے اعظم نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے ضمیر کو جھنجوڑا لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی ہندوستان میں ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی نے اپنے منشور میں واضح لکھا اور جلسوں اور جلوسوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے سرعام اس عزم کا اعادہ کیا اگر اس بار بی جے پی کی حکومت آئی تو میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردوں گا اس کے باوجود ہمارے وزیراعظم اور دیگر پالیسی میکرز نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مودی اگر الیکشن جیت جائے تو کشمیر پہ بات ہوسکتی ہے پھر وہی ہوا جس کا انتظار تھا مودی جیت گیا اور کشمیر پہ ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی اور ہم محض تقاریر تک ہی محدود رہے آج تک ریاست کا بیانیہ تھا کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے مگر مودی حکومت کے اس اوچھے ہتھکنڈے کے بعد ریاست کا بیانیہ یکسر تبدیل ہوگیا اور کشمیر بنے گا پاکستان کی بجائے آزاد کشمیر ہماری جان کا نعرہ زبان زد عام ہوا مودی نے اس ظلم کے بعد انٹرنیشنل کمیونٹی کو ساتھ ملانے کے لیے مختلف ممالک کے دورے کیے جبکہ ہمارے حکمران ملک میں جلسے کرکے اپنا فریضہ منصبی نبھاتے رہے اس پہ ستم ظریفی یہ کہ ہمارے وزیر خارجہ نے بیان دیا مسئلہ کشمیر پہ ہمیں 58 ممالک کی حمایت حاصل ہے لیکن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں قرار دار جمع کروانے کے لیے صرف 16 ممالک کی حمایت درکار تھی جو ہمیں نہ مل سکی ترکی اور ایران کے علاوہ کوئی بھی مسلم ملک ہمارے موقف کی تائید میں ساتھ کھڑا نہ ہوا جبکہ.اس سیشن میں ہم نے یمن جنگ کے حوالے سے سعودی عرب کے ناجائز موقف کی بھی حمایت کی لیکن سعودی عرب ہمارے جائز موقف میں بھی ساتھ کھڑا نہ ہوا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے مسلم امہ کا مقدمہ پرزور انداز میں پیش کیا ایسے ہی ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ٹرمپ کی موجودگی میں امریکہ کو دہشت گرد قرار دیا اسی کے ساتھ وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں بہت عمدہ تقریر کی لیکن کیا فائدہ اس تقریر کا جب 16 ممالک کی بھی حمایت حاصل نہ کرسکے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مضبوط دفاعی حکمت عملی اپنانے اور مسلم امہ کو ساتھ ملا کر انڈیا اور امریکہ پر دباو بڑھانے کی ضرورت ہے آزادی نہ اب تک کسی کو بھیک میں ملی ہے نہ آئندہ ملے گی آزادی کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے جو کام مودی سرکار نے کیا ہے اس کے بعد مسئلہ کشمیر ابھی نہیں تو کبھی نہیں کی پوزیشن میں آگیا ہے اور اس کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے وگرنہ آئندہ 70 سال بھی تقاریر کرتے رہیں کچھ حاصل نہ ہو گا-مسئلہ کشمیر پہ ٹرمپ کی ثالثی بھی دیکھ لی ایک طرف ثالثی کی بات کی دوسری طرف مودی کے جلسے میں عالم اسلام کو دہشتگرد قرار دیا اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے خود سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے انگریز یہودی اور ہندو گٹھ جوڑ آپ کے ساتھ کھڑا نہ ہوگا اگر اب بھی آپ نے کچھ نہ کیا تو پھر الامان الحفیط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں