پٹوار کلچر کی تبدیلی یا حکومتی پَھبتی


تحریر، افضال احمد تتلا

خبر ہے کہ پٹواری کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے حکومت کا خیال ہے کہ پٹواری کا نام تبدیل کرکے بہتری لائی جاسکتی ہے اس لیے اب پٹواری کو پٹواری کی بجائے ویلج آفیسر کہا جائے گا پٹوار کلچر کے تحت پٹواریوں کے پاس 17 رجسٹرڈ موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پٹواری بادشاہ بنے ہوئے ہیں زمینوں کے لین دین کے معاملے میں ہر قسم کی رپورٹ پٹواری سے لی جاتی ہے پٹواری اپنی رپورٹ کے تحت کچھ بھی کرسکتا ہے جس کی وجہ سے سائلین کا پٹواری کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے اسی لیے سابقہ گورنمنٹ آف پنجاب کے دور حکومت میں وراثتی انتقال سے لےکر جائیداد کی خریدوفروخت کرنے والوں کو ان کے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوجاتا تھا کہ اس تمام پراسیس میں ان سے کسی نے رشوت تو نہیں لی یہ الگ سوال ہے کہ رشوت دینے والے اس کے جواب میں کس حد تک صداقت سے کام لیتے تھے پٹواریوں کے اختیارات کا اندازہ ان کے زیر ملکیت رجسٹرز سے لگایا جا سکتا ہے ایک پٹواری کے پاس روزنامہ واقعاتی, روزنامہ پڑتال, روزنامہ کارگزاری, روزنامہ ہدایت, رجسٹر فقدان زمین, رجسٹر گردواری , رجسٹر فرد بدر, رجسٹر اجرت نقول, رجسٹر تغیرات, رجسٹر مثل حقیقت,لال کتاب(لال کتاب کے حوالے سے مختلف روایات موجود ہیں ایک روایت کے مطابق ریونیو ریکارڈ کو لال رنگ کے کپڑے میں لپیٹ کر رکھنے کا رواج 125 سال پرانا ہے۔برصغیر میں زمینوں کا ریکارڈ بننے کی شروعات بنگال اور بہار سے ہوئی اس وقت سے ریونیو یا زمینوں کا ریکارڈ لال رنگ کے کپڑے میں لپیٹ کر رکھنے کی روایت کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق لال رنگ ان کاغذات یا ریکارڈ کے زیادہ اہم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے عوام کی ایک جماعت کے مطابق برصغیر میں زمین کو سب سے زیادہ قیمتی ملکیت تصور کیا جاتا ہے چاہے وہ سرکاری زمین ہو یا کسی فرد کی ذاتی ملکیت ہو وہ ہر لحاظ سے سب سے زیادہ قیمتی ملکیت ہوتی ہے جبکہ پٹواری سسٹم جسے ریونیو سسٹم کہا جاتا ہے اس کا زیادہ تر تعلق کیونکہ زمینوں کے معاملات سے رہتا ہے اس لیے ریونیو کا ریکارڈ لال کپڑے میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے), فیڈبیک, رجسٹر انتقالات, شجر پارچا, عکس شجرہ کھتونی اور رجسٹر آبیعانہ ہوتا ہے۔جن لوگوں کا پٹواری سے واسطہ پڑا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پٹواری صاحبان ان رجسٹروں کے ہوتے ہوئے خود کو کیا سمجھتے ہیں عوام تو رہے عام آدمی,پٹواری صاحبان تو افسران بالا کو بھی چکمہ دینے میں ماہر ہوتے ہیں قدرت اللہ شہاب صاحب ضلع جنگ میں اپنی بطور ڈپٹی کمشنر تعیناتی کے دوران پٹواری دھوکہ دہی کا ایک واقع اپنی کتاب شہاب نامہ میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ایک مفلوک الحال بڑھیا میرے دفتر میں آئی اور رو رو کر بتانے لگی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے جیسے پٹواری نے اپنے کاغذات میں اس کے نام منتقل کرنا ہے مگر وہ رشوت کے بغیر اس کام کو کرنے سے انکاری ہے رشوت دینے کی توفیق نہیں کئی ماہ سے طرح طرح کے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہوں مگر کہی شنوائی نہیں اس کی درد ناک بپتا سن کر میں نے بڑھیا کو اپنی کار میں بٹھایا اور جنگ سے ساٹھ ستر میل دور اس کے گاؤں میں جاکر پٹواری کو جا پکڑا۔ڈپٹی کمشنر کو اچانک اپنے گاؤں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہوگے پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی کہ بڑھیا شر انگیز عورت ہے زمین کے انتقال کی جھوٹی درخواستیں دیتی رہتی ہے اپنی قسم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پٹواری بھاگ کر اندر سے ایک جزدان اٹھا لایا اور اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا “حضور دیکھیے اس مقدس کتاب کو سر پر رکھ کر قسم کھاتا ہوں” گاؤں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہہ جناب ذرا بستہ کھول بھی دیکھ لیں جب بستہ کھولا گیا تو اس میں سے پٹوار خانے کے رجسٹر برآمد ہوئے اب ایسی بگڑی ہی مخلوق کو تبدیلی سرکار نے تبدیل کرنے کا فیصلہ کچھ یوں کیا ہے کہ ان کا نام تبدیل کردیا جائے پتہ نہیں یہ “تبدیلی والے” ہر چیز کو تبدیل کرنے پر ہی کیوں تلے ہوئے ہیں اب ان کون سمجھائے کہ ایسی تبدیلی تو پنجاب میں شہبازشریف صاحب بھی پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کرکے لاچکے ہیں اور اس کے نتیجے میں پنجاب پولیس میں جتنی بہتری آئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے تبدیلی سرکار کے علم میں اضافہ کےلیے میں یہاں قدرت اللہ شہاب صاحب کا ہی پٹواری کی”طاقت” کے حوالے سے بیان کیا ہوا ایک اور واقع لکھ رہا ہوں”صدر ایوب ایک روزمجھے اپنے ساتھ اپنے آبائی علاقے لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ان کی والدہ محترمہ ان سے شدید ناراض ہیں اور ملاقات سے انکاری ہے تھوڑی سی کوشش کے بعد پتہ چلا کہ ان کو تین شکایات تھیں ایک یہ کہ ایوان صدر کی کاریں جب کسی کام سے گاؤں آتی ہیں تو یہاں کی چھوٹی چھوٹی سڑکوں پر تیز چلتی ہیں جس سے گاؤں کے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جو گاڑی گاؤں آئے تو آہستہ اور احتیاط سے چلے دوسری شکایت یہ تھی گاؤں کے کئی لڑکے تعلیم ختم کر کے گھر بیکار بیٹھے ہوئے ہیں ان کو نوکری کیوں نہیں ملتی اگر نوکری نہیں ملنی تھی تو کالجوں میں پڑھایا کیوں گیا؟تیسری شکایت یہ تھی کہ میری زمین کا پٹواری ہر فصل پر 50روپے فصلانہ وصول کیا کرتا تھا لیکن اب وہ زبردستی سو روپیہ مانگتا ہے کہتا ہے کہ “تمہارا بیٹا اب پاکستان کا حکمران ہو گیا ہے” پٹواری کے فصلانہ کا ریٹ دگنا ہونے پر صدر ایوب ہنس کر چپ ہو رہے اور کچھ نہ بولے”

اصل میں 1540ء میں شیر شاہ سوری نے پہلی بار زمینوں کے ریکارڈ کی دیکھ بھال کے لیے جو نظام متعارف کروایا تھا وہ اتنا بہتر اور موثر نظام تھا کہ بعدازاں اسی نظام کو انگریز سرکار نے 1848ء میں متعارف کروایا تب سے آج تک پنجاب میں تمام زرعی اراضی کی تفصیلات بشمول ملکیت اسی نظام کے تحت ریکارڈ کی جاتی ہیں مگر اس نظام یعنی محکمہ ریونیو کو انگریز سرکار نے مقامی لوگوں کو دبانے کے لیے بھی استعمال کیا سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کی بناء پر پٹواری حضرات اپنی من مانیاں کرنے لگے جبکہ افسران بالا کو نذرانے پیش ہونے کی وجہ سے پٹواری سے تنگ آئے ہوئے عوام کی جب کہی بھی شنوائی نہ ہونے لگی تو لوگوں نے ذہن میں بٹھا لیا کہ مختلف دفتروں میں خواری کی بجائے یہی پر مک مکا کر کے اپنا کام کرلینا زیادہ بہتر ہے اس پٹواریوں نے مزید شہہ پکڑی اور یہ ہر دور حکومت میں من مانیاں کرتے رہے اب پنجاب کا 2 لاکھ مربع مربع میٹر سے زائد رقبہ اور 5 کروڑ 65 لاکھ کے لگ بھگ اراضی مالکان کا انحصار ایک طرح سے پٹواریوں پر ہو کر رہ گیا ہے اگر موجودہ حکومت واقعی ہی پٹوار کلچر میں بہتری لانا چاہتی ہے تو صرف پٹواری کا نام بدلنے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ اس سے ملتی جلتی حکومتی پھبتی پنجاب کے عوام شہباز شریف کے دور حکومت میں پنجاب پولیس کی وردی کی تبدیلی کے روپ میں بھگت رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں