اقوام متحدہ میں اردو تقریر ……………. (شہریارخان)

ایک چینل میں کام کرتے ہوئے کافی مدت ہو گئی تھی، ماحول بے حد اچھا تھا۔ بیورو چیف بھی ہنسی مذاق والے تھے۔ ایک نیا سلسلہ شروع ہوا اور بڑی خبر پہ بیورو چیف کے بیپر کا سلسلہ شروع ہوا، ایک مرتبہ وہ بیپر دے کر واپس آئے تو ایک رپورٹر نے ان کی تعریف کی انتہا کر دی۔ سر آج کا بیپر بہت شاندار تھا، آپ نے زبردست باتیں کی ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ مانیٹرنگ کے لئے لگی تمام سکرینز کی آواز بند تھی، میں نے کہہ دیا سر یہ جھوٹ بول رہا ہے ٹی وی کی آواز بند تھی۔۔سب ہنس پڑے اور بیورو چیف صاحب نے ہنستے ہوئے کہا یار تو بہت جھوٹا ہے تو وہ بولا سر میں نے نوکری بھی تو کرنی ہے۔ اس پہ پہلے سے بھی زیادہ بلند آواز میں قہقہے لگے۔۔ میں اپنے اس دوست کی صلاحیتوں کا معترف ہو گیا۔۔

آج میں زرتاج گل کی صلاحیتوں کا معترف ہو گیا ہوں۔ انہوں نے بھی نوکری کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ بہت جلدی ترقی کی مزید منازل طے کر لیں گی۔ انہوں نے بھی اقوام متحدہ میں عمران خان کی غالبا تقریر نہیں سنی مگر نوکری پکی کرنے کے لئے ویسے ہی تعریف شروع کر دی کہ واہ واہ کیا خطاب کیا ہے کپتان نے؟؟۔ کمال کر دیا کیسی شاندار تقریر تھی۔ یہ بات میں یقین سے اس لئے کہہ سکتا ہوں کہ محترمہ زرتاج گل کی زبان بھی تعریف کرتے ہوئے پھسل گئی اور وہ کہہ گئیں کہ عمران نے قومی زبان میں خطاب کر کے قوم کے دل جیت لئے ہیں۔

اگر ان کے ٹی وی کی آواز بھی کھلی ہوتی اور وہ واقعی تقریر سن رہی ہوتیں تو انہیں معلوم ہوتا کہ انہوں نے انگریزی میں تقریر کی اور لوگ ان کی تعریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے انگریزوں کی زبان میں ہی انہیں جواب دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ زرتاج گل بی بی مزید ترقی کریں اور مراد سعید سے بھی آگے نکل جائیں لیکن نوکری پکی کرنے کے لئے ٹی وی کی آواز ضرور کھول لیں تاکہ سن سکیں کہ باس کیا کہہ رہا ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں