سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر اثرات


تحریر، مہک ملک

سوشل میڈیا اطلاعات کا تیز ترین ذریعہ ہے جسکے اثرات بھی تیزی سے مرتب ہورہے ہیں اس کی بدولت دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے جسکے مثبت اور منفی اثرات ہمیں تیزی سے پھیلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں سوشل میڈیا پروپیگینڈا کا سب سے بڑا ٹول بن کر سامنے آیا ہے نوجوان نسل کیلئے یہ پسندیدہ مشغلہ ہے سوشل میڈیا پر کوئی بھی شخص کبھی بھی کوئی بھی مواد اپ لوڈ کر سکتا ہے اور ہم یہ اندازہ نہیں لگا پاتے کہ اپ لوڈ کرنے والا شخص کون تھا اور کس ادارے سے اس کا تعلق ہے بہت بڑی تعداد میں جعلی اکائنٹس سوشل میڈیا پر موجود ہیں جسے کسی صورت اخلاقی حرکت نہیں کہا جاسکتا انٹرنیٹ کی بدولت دنیا میں باہمی رابطہ قائم رکھنا اور اطلاعات کی فراوانی نہایت آسان اور تیز رفتار ہوگئی ہے۔ ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا سے وہ کچھ حاصل نہیں کرپارہی جو کچھ حاصل کیا جانا چاہئے انٹرنیٹ کی ہزاروں ایپلیکیشنز ہیں جن سے آپ اپنی تعلیم ،مذہب اور جنرل نالج کو بڑھانے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں لیکن ھماری نوجوان نسل میں ایسی اپلیکیشز مقبول ہیں جو ان کیلئے شہرت کا باعث بنیں چاہئے وہ شہرت اچھائی کے معانی میں ہو یا برائی کے اجکل ٹک ٹاک نامی ایپلیکیشن معاشرے میں وبا کیطرح پھیل چکی ہے کئی گھر بھی اس کی بدولت تباہی کا شکار ہوئے مگر اس کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے سوشل میڈیا میں فیسبک کو اگر فیک بک کہا جائے تو بے جا نہ ہوگاسماجی رابطے کی ایسی درجنوں ایپلیکیشنز معاشرے میں عدم برداشت افواہ سازی اور جہالت کو جنم دے رہی ہیں جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کا ایک سمندر ان سائٹ پر موجود ہے اور نوجوان نسل ان میں غوطہ زن ہے ھمارا مذہب تیزی سے متاثر ہورہا ہے ان سائٹ پر جہالت اور جھوٹ پر مبنی اقوال ذریں اور احادیث کو پھیلایا جارہا ہے جسکی بنا پر کم عمر نوجوان جوکے ایک اندازے کے مطابق% 75 مواد سوشل میڈیا پر جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج جھوٹ تیزی سے اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے۔آج نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خود کو فیمس کرنے کے چکر میں خطرناک مقامات پر سلفیاں بناتے ہوئخود کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد تعلیم یافتہ طبقہ کا اور یونیورسٹیز کے طلبا کی ہے۔مگر حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اتنے جدید ٹیکنالوجی واکے دور میں کئی افراد ایسے بھی ہیں جنہیں فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس ایپ، اسکائپ، ٹک ٹاک اور کئی دوسری ایپلیکیشنز سے نہ ہی کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی کوئی شناشائی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ کب کے انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں اور ان کے ہر کام کا سسٹم انٹرنیٹ کی گرفت میں ہے جبکہ ہمارے ملک پاکستان میں اب تک یہ رفتار کافی سست ہے۔ہم جسطرح انٹرنیٹ کی بدولت ترقی کی منازل طے کر سکتے تھے۔ ہم ویسے اپنی قوت کار میں اضافہ نہیں کر پائے ۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملکی معیشت میں زراعت روح کی حیثیت رکھتی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اس ملک میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی ہمارے ہاں کاروباری نظام میں کوئمثبت تبدیلی نہیں لائی گئی آج بھی دفاتر اور دیگر اداروں میں وہی پرانہ سسٹم قائم ودائم ہے جس سے ملک کا نظام چل رہا ہے جیسے کہ زراعت اور کاشتکاری کا وہی پرانہ نظام۔ اگر آج کسانوں کو زراعت کے نئے طریقوں سے آگاہ کیا جائے اور نئی ٹیکنالوجی کو دریافت کیا جائے تو ہمارا ملک پاکستان بھی ان
ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو آج تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں سوشل میڈیا کے آج مثبت اور منفی پہلو دونوں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اب یہ سوچنا ہمارا کام ہے ہم اس کا استعمال کس طرح سے کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ ہمیں کہ آج دنیا کے کسی کونے میں کوئی واقع یا حادثہ رونما ہوتا ہے تو چند منٹوں سیکینڈوں میں وہ خبر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے ہم لمحہ بہ لمحہ حالات سے باخبر رہتے ہیں ساتھ ہی ساتھ اپنی معلومات میں اضافہ بھی کرتے رہتے ہیں۔اب جیسا کہ برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کی اطلاع اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی جارحیت کا زور اور دیگر مسائل کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعے سے ہی عالمی دنیا تک پہنچی۔

سمارٹ فونز کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ اپنے قیمتی رشتوں کو دینے کیلئے ہمارے پاس وقت کی کمی ہے ہم موبائل فونز میں کئی گھنٹوں مگن رہتے ہیں اور وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے کہ ہم اس کی تیز رفتاری کا اندازہ ہی نہیں لگا پا رہے اور بہت ہی قیمتی خوبصورت رشتے ہم سے دور ہوئے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کو اس قدر زنجیروں میں جکڑ لیا ہے کہ جن کی مظبوط گرفت سے خود کو نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگیا ہے اگر آج کوئی نیکی کا کام بھی کیا جائے صدقہ خیرات کریں یا غربا کی امداد کریں تو اسے فوراً فیس بک اور واٹس ایپ کے سٹیٹس پر اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے آخر کار ہم کیا دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم جیسا کوئی نیک نامی شخص نہیں یا جتنا ہم خیال رکھ سکتے ہیں غریب عوام کا اتنا کوئی نہیں رکھ سکتا یا پھر اپنا نام اونچا کرنے اور شہرت حاصل کرنے کیلئے یہ سب کام کرتے ہیں مگر یاد رہے دکھاوے کی نیکی کا کوئی فائدہ نہیں۔

حدیث نبوی ہے کہ تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اگر نیت ہی اچھی نا ہو تو اس نیکی کا کوئی فائدہ نہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں