مسئلہ کشمیر اور حکومتِ پاکستان کی ترجیحات


تحریر ، ڈاکٹرعبدالقادرمشتاق

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ، داستانوں، جنگوں کے احوال ، صوفیائے کرام کا رشدوہدایات کے پیغامات ، انگریزوں کا تسلط، مغلوں کے قصے کہانیاں، ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارتی مہارتیں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کی لڑائیاں ، محلات اور باغوں کی شکل میں حکمرانوں کے انمٹ نقوش ، پروان چڑھتا ہوا تنقیدی شعور، تخلیق کاروں کے فن پارے، قیدوبند کی صعوبتیں، جلاوطنی کے احوال، فتوؤں کی بھرمار، اعزاز ت کی بارش ، انسانی وقار اور اقدار کا بار بار پامال ہونا، حاکمانِ وقت کی خوشامدیں ، جیسے موضوعات سے بھری پڑی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کا معرض وجود میں آنا کسی معجزے سے کم نہ تھا، جس پر کچھ مورخین نے اسے قائداعظم محمد علی جناح کی اولعزمی کا نتیجہ قرار دیا۔ کچھ نے برطانوی سامراج کی سازش کا پیش خیمہ ظاہر کیا۔ جہاں پاکستان کا قیام وجود میں آیا وہیں بہت سارے مسائل بھی اپنے ساتھ لے کر آیا۔ جن میں سب سے بڑا مسلہ کشمیر کی ریاست کا ثابت ہوا۔اور آج تک پاکستان کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیریوں کے حقوق کا علمبردار بن کر دنیا کے کونے کونے میں جا کر آواز بلند کر رہا ہے، کہ کس طرح ریاست کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ اور کس طرح کشمیریوں کو زبردستی ہندوستان کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج ۲۰۱۹ ء تک پاکستانی اقوام ، اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں، کہ ایک دن ضرور آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

بھارت کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہاں جمہوریت کو زوال نہیں ہے۔ اسی لئے سیاسی جماعتیں ہر الیکشن میں نئے منشور کے ساتھ میدان میں آتی ہیں، اس منشور میں کچھ پُرانی باتیں اور کچھ نئے وعدے وعید شامل ہوتے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اپنی عوام سے یہ عہد کر رکھا تھا کہ ریاست کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔ ۲۰۱۹ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ایک صدارتی حکم کے ذریعے ریاست کشمیر کی آزادانہ حیثیت کو ختم کر کے بھارت کامستقل حصہ قرار دے دیا۔ جس کو مودی حکومت نے اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔ بھارت کے آئین کی دفعات A۔۳۵ اور ۳۷۰ کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں دو چیزیں وجود میں آئیں۔ اول، کشمیریوں میں مزاہمتی تحریک نے مزید تقویت پکڑی۔ دوم، پاکستان میں حکومتِ وقت کے لئے ایک چیلنج پیدا کر دیاکہ وہ کشمیریوں کو ظلم و بربریت سے نجات دلائے۔ پاکستان کے اندر جاندار اپوزیشن کی موجودگی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے لئے یہ ایک خاصہ امتحان تھا کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کے لئے آواز بھی بلند کریں اور سیاسی تنقید کا بھی سامنا کریں ۔

ان حالات میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے حالات کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی کو شش کی۔ اول، مختلف ریاستوں کے سربراہوں سے ٹیلیفونک رابطہ کیااور اپنا موقف دنیا ئے عالم کے سامنے رکھا۔ دوم، کشمیر کے مسئلے پر مسلم اُمہ کو متحد کرنے کی کوشش کی اور اسے صرف پاکستان کا نہیں بلکہ مسلم امُہ کا مسئلہ قرار دیا۔ جس پر صعودی عرب کے حکمرانوں نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور تنبیہ کی کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا دو طرفہ مسئلہ ہے اسے مسلم اُمہ کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ لیکن وزیراعظم پاکستان عمران خان مضبوط تر مسلم ممالک ترکی اور ملایشیا کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گے۔ جو کہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہاں تک کہ ترکی، ملایشیا اور پاکستان نے مشترکہ ٹی وی چینل شروع کرنے کا اعلان بھی کر دیا جو کہ دنیا میں مذہب اسلام کا اصل پیغام پھیلانے میں کردار ادا کریگا۔ سوم، اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر جہاں اسلام اور دہشت گردی میں فرق حکمرانوں کے سامنے رکھا وہیں کشمیر کے لئے آخری دم تک لڑنے کا عندیہ دیا۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم پاکستان کی تقریر نے پاکستان کے اندر اور مسلم اُمہ میں سیاسی قد بڑھا دیا۔

اب اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ان تمام فیصلوں کے بعد پاکستان کو کس طرح کی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیئے۔ اول، تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مختلف پارلیمنٹیرینز پر مشتعمل وفدتشکیل دینے چاہیئں جو دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر پاکستان کا موقف حکومتوں اور اعوام کے سامنے رکھیں۔ دوم، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بُلا کر شعبہ ہائے جات کے سربراہوں سے تجاویز لینی چاہیئں۔ جن کی روشنی میں کشمیر پالیسی کو ازسرنو مرتب کیا جائے۔ سوم، کشمیر کے اندر پروبھارت کشمیری لیڈرشپ جو کہ مودی حکومت کے فیصلے سے ناخوش ہے اُن کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ چہارم، مختلف شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور اُنسے تجاویز طلب کی جائیں۔ پنجم، بھارت کی طرف سے ممکنہ کسی بھی خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے بحری افواج کو مستعدرہنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔ تاکہ ہمارے سمندر بھی ہمارے کنٹرول میں رہ سکیں۔ ششم، سوفٹ پاور جس میں میوزک، فلم اور تھیٹر شامل ہیں کے ذریعے قومی بیانیئے کو عام کیا جائے۔ تاکہ پاکستان میں اور بیرونِ ممالک میں یہ پیغام جائے کہ پاکستانی اعوام اور حکومتِ وقت ہر حال میں کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔ہفتم، کشمیریوں کی جنگ لڑنے کے لئے معاشی وسائل کی بھی اشد ضرورت ہو گی اس کے لئے تحریکِ انصاف کی حکومت کو دوست ممالک تلاش کرنے پڑیں گے جو معاشی طور پر اسکی مدد کر سکیں۔

ان حالات میں حکومتِ پاکستان کا کڑا امتحان ہے کیونکہ بھارت میں ہونے والی کسی طرح کی بھی دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان کو ہی دیا جائے گا۔ کشمیر میں چلنے والی مزاہمتی تحریک کو کراس بارڈرٹیرریزم کا نام دیا جائے گا۔ ان حالات میں حکومتِ پاکستان اور عوام کو متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں