پولیس ظالم یا بے بس؟ ،،،،،، انصاف یا مجبوریاں؟


تحریر ، عاطف صدیق کاہلوں

لاہور میں چند روز قبل نجی خبر رساں ٹی وی چینل پر نشر کی جانے والی خبر کے مطابق احتجاج کنندگان کی جانب سے تھانہ نواب ٹاؤن پولیس پہ یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے دوران چھاپہ ایک گھر میں موجود نوجوان کو مزاحمت کرنے پہ رائفل کے بٹ کی ضرب لگا کر ہلاک کر دیا جس کے بعد 4 پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا،اس واقعہ کے بعد چند سوالات نے بھی جنم لے لیا کہ حالیہ پولیس تشد کے واقعات، سوشل میڈیا پہ عوام اور پولیس کے مابین چھڑی رہی سرد جنگ ، صحافیوں کے تبصرے اور پھر صوبائی پولیس حکام کی جانب سے تھانہ کلچر میں اصلاحات، سخت اقدامات اور بلخصوص لاہور میں پولیس اہلکاروں کے خلاف بتدریج محکمانہ ایکشن کے بعد بھی کیا ایسا ممکن تھا کہ خوف کا شکار پولیس کی طرف سے چند دن بعد ہی بے صبری کا مظاہرہ کر دیا گیا، اور ایک شہری کو گھر میں گھس کر قتل کر دیا ؟

پولیس نے اس گھر پر چھاپہ کیوں مارا اور نو جوان کو کیوں ہلاک کیا ؟
وہ کس کا گھر تھا وہاں کس جرم میں پولیس کو ریڈ کرنے کی ضرورت پیش آئی ؟
کیا پولیس اہلکاروں کی مرنے والی شخص سے کوئی ذاتی دشمنی تھی یا پھر وہ کوئی مجرم تھا ؟
اگر پولیس والے اسکو محض مارنے گئے تھے تو وردی میں کیوں پہن کر گئے کہ پھس جائیں ؟

تو ان سب سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں لاہور کے چند سینئر پولیس افسران، موقع پر موجود اہل علاقہ اور کچھ صحافیوں سے گفتگو کے دوران کچھ انکشافات ہوے، جس میں متعلقہ ایس پی صدر احسن شفیع اللہ اور ایس پی ماڈل ٹاؤن عمران احمد ملک بھی جو کہ اس وقت ایس پی صدر کے ہمرا موقع پر موجود ابتدائی شواہد اور حالات کے مطابق اس نوجوان کی موت اس وقت اینٹ سر میں لگنے سے واقع ہوئی جب وہ پولیس ریڈ کے بعد گھر کی ایک اونچی دیوار کے ذرئعہ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا مگر دیوار پھلاگنے میں ناکامی کی وجہ سے زمین پر گر پڑا اور اسی کے ہاتھ سے ٹکرائی ہوئی ایک اینٹ اس کے سر پر آ لگی جس سے اسکی ہلاکت ہوئی-

ایس پی صدر کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والا شخص جس کا تعلق اوڈ خاندان سے ہے بڑے پیمانہ پر جوا کراتا اور دیگر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث اور پولیس کو مطلوب تھا، جس کی تصدیق موقع پر موجود لوگ بھی کر سکتے ہیں.
اب سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر پولیس افسران اور شواہد کے مطابق وہ نوجوان پولیس تشدد سے ہلاک نہیں ہوا تو پھر 4 پولیس اہلکاروں پہ قتل کا مقدمہ درج کیوں کیا گیا ؟ جب اس حوالہ سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق احمد خان سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کے کسی بھی شہری کی شکایت پر قانون کے مطابق کسی واقعہ کی ایف آئی آر کا اندراج ہمارا فرض ہے، جو ہم نے فوری پورا کیا.
چونکہ یہ ابتدائی اطلاعی رپورٹ ہے اس لیے اس پر تفتیش کے حوالہ سے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے. واقعہ کی مکمل تحقیقات اور شفاف تفتیشی مراحل سے گزرنے کے بعد قانون و انصاف کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مقدمہ کا چالان مرتب کیا جائے گا-

ڈی آئی جی صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی بیگناہ شہری پر پولیس تشد کا واقعہ کہیں بھی ثابت ہوتا ہے تو ریاعت کی گنجائش بالکل نہیں ، قانون سے بالا تر کوئی نہیں ہو سکتا ، تاہم اس واقعہ میں بھی انصاف کے تقاضے پورے کے جائیں گے – اس تمام تر معاملہ میں دیکھنا یہ ہے کہ اگر پولیس گنہگار ہے تو سزا کس قدر سخت ہوگی؟ اور اگر پولیس پر قتل کا مقدمہ غلط درج کیا گیا تو کیا پھر جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں محکمہ پولیس یرغمال بنتا رہے گا ؟ دونوں صورتوں میں یہ پولیس حکام اور حکومت وقت کے لیے لمحہ فقریہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں