بچے جو کھیلنے گئے گھر واپس نہ پہنچے ….. (تحریر، محمد محی الدین باہو)

خبر یہ ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیرمحل سے دو ننھے بہن بھائی جن کی عمریں تین سے چار سال ہیں پچھلے 17 روز سے ننھے لختِ جگر اپنی ماں کی آغوش سے جدا ہیں- گھر سے باہر کھیلتے ہوئے ننھے بچے گھر واپس نہ پہنچے والدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا قانونی کاروائی کا آغاز ہوا اور آج 17 روز ہو گئے لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا افسوس در افسوس دنیا میں جہاں کہیں بھی ایسا حادثہ ہوتا ہے تو وہ لوگ کچھ سیکھتے ہیں تاکہ آئندہ کوئی ایسا حادثہ مقدر نہ بن جائے اور فوری اقدامات کرتے ہیں – زینب قتل کیس کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ اب یہ سفاکیت ہمیشہ کیلئے ختم ہونے جا رہی ہے لیکن پاکستان میں جب کوئی ایسا حادثہ ہوتا ہے بات احتجاج سے شروع ہوتی ہوئی جے آئی ٹی،افسران کی برطرفیاں،مذمت،سیاسی شخصیات کی شاہانہ آمد، اور پھر متاثرہ فیملی کو 20 لاکھ روپے دے دیے جاتے ہیں۔

ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں گزشتہ روز تین بچوں کی لاشیں ملیں اور ایک بچے کے کپڑے مل سکیں،رواں سال لاہور شہر میں بچوں سے زیادتی کیسز کے 126 کیسز سامنے آئے یہ پنجاب کے دو بڑے شہروں کا حال ہے پاکستان بھر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
بچوں کی عمریں تین سال چار سال اور زیادہ سے زیادہ 12 سال ہوتی ہیں یہ کلیاں اور پھول درندہ صفت عناصر کے ہاتھوں مرجھا جاتے ہیں اور ایسے ناجانے کتنے واقعات ہیں جو میڈیا کی نظر نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں ان سے ہم نے کیا سیکھا۔۔۔۔؟ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ہم نے کیا کیا..۔۔.؟

شریف سرکار ہو یا تبدیلی سرکار کوئی پیش رفت نہ ہو سکی عمران خان کے بلند و بانگ دعوے بھی کچھ اکھاڑ نہ سکیں پارلیمنٹ میں بیٹھے ممبران کا کام ذاتی مفادات اور عام عوام کو نالی سڑک اور ٹف ٹائل دینا ہی رہ گیا ہے اور ہم ہیں بھی اسی لائق کیوں کہ ہمارا مطالبہ اور ہماری سوچ کا معیار ہے بھی یہی۔۔۔۔۔ریاستِ پاکستان کے ننھے بچوں کیلئے ریاست پاکستان کی زمین تنگ کی جا رہی ہے لیکن پارلیمنٹ سو رہا ہے،لخت جگر ماں کی آغوش سے محروم لیکن پارلیمنٹ سو رہا ہے،مائیں غم سے نڈھال لیکن پارلمینٹ سو رہا ہے باپ کی آہیں لیکن پارلیمنٹ سو رہا ہے، بہن بھائی سے جدا،بھائی بہن سے جدا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ نہیں کہ کمزور ہیں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کو افغانستان جیسی زمین سے بھی بازیاب کروالیا گیا تھا لیکن معصوم پھول جن کے نام عروشہ اور عبدالحنان ہیں وہ حقیقی معنوں میں اس نظام چلانے والوں کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں،کیا بچے پیدا کرنے بند کر دیں کیا بچوں کو گھروں میں محصور کر دیں،کیا بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیں،کیا بچوں کو کم عمری میں سکس کے بارے میں آگاہی دیں – جیتے جی مائیں مر گئیں باپ کا سہارا نہ رہا گھر سے خدا کی عطا کردہ رحمت اور نعمت لاپتہ ہوئے 17 روز ہو گئے میں نے اس ماں کی آہیں سنیں،وہ آنسوؤں کا سیلاب دیکھا،ماں کی خدا سے التجا,ماں کی ریاست سے اپیل,ماں کی اداروں سے آس،ماں پر ہر لمحہ قیامت صغریٰ کی طرح گزر رہا ہے -علاقہ خوف و ہراس کے حصار میں ہے –

بطور پاکستانی شہری پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی قانون سازی کیوں نہ کی گئی،اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نفاذ کیوں نہیں،ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی کیوں نہیں،ننھے بچوں کی تربیت اور حفاظت کیلئے ادارے قائم کیوں نہ کیے جا سکے,کیا یہ درندہ صفت ریاست کی پہنچ سے دور ہیں کیا یہ ہمارے اداروں سے طاقتور ہیں،علی موسیٰ گیلانی کی بازیابی ہو گئی عروشہ اور عبدالحنان کی کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔

ماں کا دکھ سمجھو یہ نہ ہو کہ خدا کی پکڑ میں آ جائیں باپ کا سہارا تلاش کرو یہ نہ ہو بے سہارا ہو جائیں،بچوں کے کھلونے ہیں تنہا ایسا نہ ہو تن تنہا رہ جائیں،

ان زلزلوں اور آفتوں کی پکار سنو یہ نہ ہو گونگے بہرے ہو جائیں،
یہ ریاست اور ریاستی ادارے اب تک کیا کر سکے۔۔۔؟؟؟؟

والدین نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی سربراہ سے بچوں کی بازیابی کیلئے اپیل کر دی۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں