پنجاب بھر کی طرح اوکاڑہ میں لینڈ ریکارڈ سینٹرز کے ملازمین سراپا احتجاج، مطالبات ہیں کیا؟؟


اوکاڑہ ، ساجد علی چوہان ، نمائندہ خصوصی

پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح اوکاڑہ میں بھی لینڈ ریکارڈ ملازمین کا احتجاج پانچویں روز بھی جاری رہا – ضلع بھر کے لینڈ ریکارڈ ملازمین نے اپنے حقوق کے لئیے اراضی ریکارڈ سنٹر سے اوکاڑہ پریس کلب تک پیدل مارچ کیا-

تفصیل کے مطابق اوکاڑہ کی دونوں تحصیلوں دیپالپور سمیت ضلع بھر کے لینڈ ریکارڈ ملازمین کا پنجاب گورنمنٹ کے خلاف احتجاج جاری رہا اور احتجاجی مظاہرین نے پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا اورحکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی- اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریونیو منسٹر ، ڈی جی لینڈ ریکارڈ، چئیرمین لینڈ ریکارڈ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ آپ کے تمام مطالبات اکتوبر 2019 تک مان لئیے جائیں گے اور ان پر عملدرآمد بھی کیا جائے گا لیکن یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا – اسی طرح گزشتہ روز ایک سال کی تاخیر کے بعد ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا مگر ذاتی مفادات کے علاوہ ملازمین کے لئے کچھ بھی نہ کیا گیا ہمارے16 نکاتی ایجنڈے میں سے کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جا رہا- پنجاب لینڈ ریکارڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے غیر منصفانہ فیصلوں اور ملازمین کا استحصال کرنے کے خلاف بھرپور احتجاج جاری رہے گا –

احتجاجی شرکا نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کو عرصہ تین سال کا اینکریمنٹ بمعہ واجبات ادا کیا جائے تمام ملازمین کو سروس سٹرکچر فراہم کر کے مستقل کیا جائے ۔اور گورنمنٹ ملازمین کی طرح تمام تر مراعات دی جائیں لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سےجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ۔فردات اور انتقالات کا کمیشن بھی فوری ادا کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں