کھٹارہ گاڑیوں سے پولیس کا موثر گشت کیسے ممکن ؟؟؟


تحریر: عاطف صدیق کاہلوں

یہ کسی کباڑ خانہ میں تول کر رکھا ہوا کسی گاڑی نما لوہے کا ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ 7 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے رینگنے والی ایک کھٹارہ پولیس وین ہے جو ضلع فیصل آباد میں تھانہ ستیانہ کی ایک چوکی جھوک دتا میں آن روڈ موجود ہے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ اسی گاڑی پر جرائم کی روک تھام کے غیر موثر گشت کا کام بھی لیا جاتا ہے جس میں ایک ڈرائیور اور ایک بدقسمت کانسٹیبل زندگی کا ایک کٹھن سفر تہہ کرتے ہیں جس میں گزرتے ہوئے راہیوں کی مدد سے یہ ڈھول سپاہی دھکا لگاتا ہے اور محض یہی اسکی ڈیوٹی ہوتی ہے، حالانکہ تھانہ ستیانہ کا شمار یہاں ان دیہاتی تھانوں میں ہوتا ہے جن کے علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کا غلبہ اور قتل، چوری، ڈکیتی، راہزنی، اغوا، زنا بالجبر و دیگر سنگین جرائم کے واقعات زیادہ سامنے آتے ہیں-

اور یہی نہیں بلکہ ضلع فیصل آباد کے بہت سارے تھانے اور بھی ہیں جہاں پولیس کی گایاں دھکا سٹارٹ ہیں اور جنکے ذریعہ مجرموں کا تعاقب 10 سے 15 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کیا جاتا ہے اور جن کے رک جانے کی صورت میں ڈرائیور حضرات تھانیداروں یا علاقہ کے مخیر حضرات سے پیسے مانگ کر وقت گزاری کر لیتے ہیں اور چوکی جھوک دتا کی پولیس موبائل کی طرح کئی گاڑیوں کو تو شاید کسی اور گاڑی کی مدد یا ٹریکٹر ٹرالی پر رکھ کر پولیس لائن میں مجاز افسران کو سلامی دینے کے لیے لے جایا جاتا ہوگا جسکو پولیس کی زبان میں موٹر وہیکل ایگزامینیشن یا ملاحظہ کہا جاتا ہے ، اور یہاں ہی وہ ایم ٹی او برانچ ہے جو خراب گاڑیوں کی ریپیئرنگ اور آف روڈ گاڑیوں کی جگہ تھانوں چوکیوں میں متبادل ٹھیک گاڑیاں فراہم کرنے کی ذمدار ہے ، اس برانچ کو حکومت پنجاب کی طرف سے فنڈز ایشو کیے جاتے ہیں جو ضلع کے پولیس سربراہ کی ہدایت پر بوقت ضرورت خرچ کیا جاتا ہے .

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی نا قابل اعتبار گاڑیوں کی مدد سے موثرگشت اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے اقدامات ممکن ہیں ؟ اور اگر حکومت اس کے لیے پیسہ فراہم کرتی ہے تو اسکا تصرف 100% صحیح جگہ ممکن بنایا جاتا ہے ؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو آج تک کسی فنڈ بابا کی نگاہ کرم اس طرح کی گاڑیوں پر کیوں نہیں ٹھہری؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں