تعلیمی بورڈ فیصل آباد کا انٹرمیڈیٹ پارٹ فرسٹ کے نتائج کا اعلان ، کتنےفیصد طلبا پاس ؟؟

فیصل آباد(محمد احمد مرتضی )

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد نے امتحان انٹرمیڈیٹ پارٹ فرسٹ (گیارہویں جماعت) سالانہ 2019ء کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ نتائج کی سادہ و پروقار تقریب چیئرپرسن تعلیمی بورڈ فیصل آبادکے آفس میں ہوئی جس میں تمام متعلقہ افسران نے شرکت کی۔حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق 10 بج کر 10 منٹ پر چیئرپرسن تعلیمی بورڈ فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر طیبہ شاہین‘ سیکرٹری بورڈ پروفیسر محمد افضل چوہدری اور کنٹرولر امتحانات مسز شہناز علوی نے بٹن دبا کر رزلٹ آن لائن کر دیا جس کے ساتھ ہی رزلٹ بورڈ کی ویب سائیٹ www.bisefsd.edu.pk پر بھی اَپ لوڈ ہو گیا۔

اس موقع پر کنٹرولر امتحانات مسز شہناز علوی نے بتایا کہ امتحان انٹرمیڈیٹ پارٹ فرسٹ سالانہ 2019 ء میں کل 102324 طلباء وطالبات شریک ہوئے جن میں سے 53998 پاس ہوئے اس طرح کامیابی کا تناسب 52.77 فیصد رہا انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد‘ جھنگ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ اضلاع میں طلباء وطالبات کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لئے الگ الگ و کمبائنڈ 342 امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے ۔ اس موقع پر چیئرپرسن تعلیمی بورڈ فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر طیبہ شاہین نے بتایا کہ امسال حکومت پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں طلباء وطالبات کے وسیع تر مفاد اور ان کے شاندار مستقبل کے پیش نظر کلاس نہم کی طرح گیارہویں جماعت کے رزلٹ کارڈز پر بھی کل نمبرز‘ حاصل کردہ نمبرز‘ پرسنٹائل سکور‘ ریلیٹیو گریڈ اور فیل یا پاس کا اندراج ہو گا جس کا مقصد طلباء وطالبات میں زیادہ سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے کے جنون کی کیفیت‘ پوزیشنز کی دوڑ اور رٹا سسٹم کا خاتمہ ہے۔ حکومت پنجاب کے اس مستحسن اقدام سے نہ صرف طلباء وطالبات ایک دوسرے سے نمبروں کی سبقت لیجانے کی دوڑ میں شامل ہونے سے گریز کریں گے بلکہ وہ اپنی بھرپور توجہ صرف اور صرف پڑھائی پر ہی مرکوز کرکے بہتر سے بہتر گریڈ بنانے کی سعی کریں گے اور یوں کم نمبروں والے بادی النظر میں نالائق سمجھے جانے والے بچے بھی احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیرمستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن کر ملک و قوم کے بہترین معمار ثابت ہوں گے۔

چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ طلباء وطالبات کے شاندار مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے نتائج انتہائی احتیاط اور سپرچیکنگ کے بعد تیار کئے گئے ہیں اس لئے غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے تاہم ایسے طلباء وطالبات جو اپنے نتائج سے مطمئن نہ ہوں وہ رزلٹ آنے کے بعد سے 15 دن کے اندر ری چیکنگ کیلئے درخواست دے کر اپنا پیپر خود چیک کرکے تسلی کر سکتے ہیں اگر ان کی کاپیوں میں کسی بھی قسم کی کوئی غلطی پائی گئی تو اس کا فوری ازالہ کرکے انہیں ان کا حق دینے میں ذرا بھی تعامل سے کام نہیں لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں