سیف سٹی پراجیکٹ کے سربراہ نے رانا ثنا اللہ کے حق میں بیان دیدیا، لیگیوں کیلئے بڑی خوشخبری

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ خاں نے کہا ہے کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے سربراہ نے ان کی بات کی تصدیق کردی ہے کیونکہ مجھ پر درج کی گئی جھوٹی ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ تین بج کر پچیس منٹ پر موٹر وے پر مجھ سے منشیات برآمد ہوئی جبکہ دس منٹ کے بعد اے این ایف کی ٹیم اپنے ہیڈ کوارٹرز میں موجود تھی جبکہ سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں میں بھی یہی وقت نظرآتا ہے اب اگر اے این ایف نے مجھ پر کارروائی کی ہے ، منشیات برآمد کی ہے سمیت دیگر معاملات مکمل ہوئے ہیں تو پھر دس منٹ کا فاصلہ دس منٹ کے بعد ہی کیوں نظرآتا ہے –

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کی انسداد منشیات گردی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کے عدالتی ریمانڈ میں 9 روز کی توسیع کردی اور ساتھ ہی عدالت نے ملزم کو دوبارہ 18اکتوبر کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دے دیا جبکہ رانا ثنااللہ پر فرد جرم عائد کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے – انسداد منشیات گردی کی عدالت میں ڈیوٹی جج خالد بشیر نے کیس کی سماعت کی، اس دوران مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر کو پیش کیا گیا جبکہ اینٹی نارکوٹس فورس (اے ایف ایف) کی جانب سے خصوصی پراسیکیوٹر چوہدری کاشف جاوید پیش ہوئے – اس دوران اے این ایف پراسیکیوٹر نے ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی – تاہم ملزم کے وکیل اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ فوٹیجز محفوظ کرلی گئیں ہیں اور ان کے ضائع ہونے کا ہمارا اندیشہ ختم ہوگیا – انہوں نے کہا کہ بیگ نکالا اور اس کے خفیہ خانے سے منشیات نکالنے کا کہا گیا، یہ تمام کہانی جھوٹی ہے، رانا ثنااللہ کا موقف سی سی ٹی وی فوٹیجز کے بعد سچ ثابت ہوا، باقی تو یہاں جنگل کا قانون ہے – اس پر اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ اس ریکارڈ کو عدالت میں پیش کیا جائے، یہ جو کارروائی ہو رہی ہے کس قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہے، اگر ڈیوٹی جج ٹرائل سن سکتا ہے تو پھر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم راناثنااللہ کو مزید عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور دوبارہ 18 اکتوبر کو دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں