پاکستان میں اپوزیشن کا کردار


تحریر ، عبدالقادر مشتاق

دنیا کے کچھ ممالک میں اپوزیشن کے کردار کو قانونی حیثیت حاصل ہے جبکہ کچھ ممالک میں اپوزیشن کو برداشت کرنا حکومتوں کے بس کا روگ نہیں رہا۔ اسی وجہ سے بہت سارے کمیونسٹ ممالک میں اپوزیشن کا وجود روزِاول سے رہا ہی نہیں۔ ملکوں کے اندر چاہے صدارتی نظامِ حکومت ہو، پارلیمانی نظامِ حکومت ہو یا بادشاہت قائم ہو، اپوزیشن کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلاتی ہے۔ چاہے وہ نظریاتی اپوزیشن ہو ، علاقائی اپوزیشن ہو، ذاتی اپوزیشن ہو یاایوانِ بالااور ایوانِ زیریں کے اندر اقتدار میں نہ آنے والی وہ سیاسی جماعت ہو جو اگرچہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حکومت نہ بنا سکی ہو لیکن ان ایوانوں کے اندر متبادل قیادت کا قوم کو خواب دیکھا رہی ہو۔ اپوزیشن کا تصور حکومتوں کے قیام سے ہی وجود میں آتا ہے۔ حکومتِ وقت کی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بنانا، قیادت پر تنقید کے تیر برسانا اور متبادل پالیسیاں متعارف کروانا اپوزیشن کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی نظریاتی اپوزیشن کا کردار منظرِ عام پر آیا کہ کیا پاکستان کی ریاست سیکولر بنیادوں پر رکھی جائے یا پھر اسلامی ریاست کا عملی نمونہ بنایا جائے۔ سیکولر ریاست میں ریاست کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ریاست تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں مواقع میسر کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

پاکستان کی تخلیق کے وقت جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی کی اعلیٰ الاعلان مخالفت نے پاکستان کی نظریاتی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا۔ ترجمان القرآن میں قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے خلاف چھپنے والے مواد نے بہت ساری چیزوں سے پردہ اُٹھا دیا۔ یہ دونوں مذہبی و سیاسی جماعتیں ہندوستان میں سیکولرازم کی بہت بڑی حامی بن کر اُبھریں ۔ جبکہ پاکستان کے قیام میں آنے کے بعد پاکستان میں اسلامی ریاست کے لئے تگ و دو کرنے لگیں۔ اسی نظریاتی اختلاف نے پاکستانیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک بائیں بازوں کے لوگ کہلائے اور دوسرے دائیں بازو کے لوگ کہلائے۔ یہ نظریاتی اپوزیشن ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ضرور رہی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس نظریاتی اختلاف کی وجہ سے لٹریچرپروان چڑھا، علمی و ادبی بحثِ و مباحثہ کی گنجائش پیدا ہوئی ۔ پاکستان میں پہلے عام انتخابات ۱۹۷۰ء میں ہوئے۔ اس سے پہلے پاکستان دو حصوں پر مشتعمل تھا مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ۔ مشرقی پاکستان میں پائی جانے والی قیادت کا رجحان بائیں بازو کی جانب زیادہ تھا اسی لئے وہاں مزدوروں کسانوں اور طالب علموں کے حقوق سیاسی جماعتوں کے منشوروں میں نمایا ں رہے۔ جبکہ مغربی پاکستان میں جاگیرداری اور سرمایہ داری نے سیاست کو اپنی گرفت میں لیئے رکھا۔ اسی سرمایہ داری اور جاگیرداری نے مظلوم طبقے کی آواز کو دبائے رکھا جس سے مغربی پاکستان میں سیاسی شعور کا معیار وہ نہ بن سکا جو مشرقی پاکستان کے لوگوں میں بیدار ہو چکا تھا۔

ذولفقار علی بھٹو نے پہلے سوشل ازم اور پھر اسلامی سوشل ازم کا نعرہ لگا کر بائیں بازوں کے لوگوں کو اپنی جماعت کا حصہ بنایا لیکن ساتھ ساتھ دائیں بازوں کے لوگوں کو بھی خوش کرنے کی کوشش کی۔ اور اُنکی یہی کوشش اُنکے زوال کا سبب بھی بنیں۔ پاکستان نیشنل الائنس کی قیادت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جن کا تعلق دائیں بازو سے تھا۔ اور اس قیادت کو ہر دل عزیز بنانے میں امریکن ڈالرز نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ذولفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب ــاگر مجھے قتل کیا گیا، میں بھی امریکہ کے مشکوک کردار پر بارہا روشنی ڈالی ہے۔ اسی امریکن کاوش نے پاکستان میں سیاست کے طور طریقے ہی بدل دیے۔ اس کے بعد نظریاتی اپوزیشن کی جگہ علاقائی اپوزیشن نے لے لی۔ نظریاتی لوگوں کو جیلوں کا سامنا کرنا پڑا، جھوٹھے مقدمات درج کیے گے، کوڑے مارے گئے۔ جسکی وجہ سے بہت سارے نظریاتی لوگ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے این جی اوز کے مالک بن گئے۔ باقی صرف اصلی بائیں بازو کے لوگ رہ گئے جن سے مزاہمتی ادب پروان چڑھا۔ تحریکِ بحالی جمہوریت کی شکل میں اپوزیشن کا کردار کہیں نہ کہیں سامنے آتا رہا۔ کبھی اسے صرف سندھی لوگوں کی تحریک کا نام دے کر رد کیا جاتا رہا اور کبھی ملک دشمن کاروایؤں کا سہارا لے کر اس کے کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا رہا۔

جنرل ضیاء الحق کی موت نے پاکستانی سیاست کو ایک دفعہ پھر نیا رخ دیا۔ سیاسی جماعتوں کا ازسرنو وجود میں آنا اور جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا کروایا جانا سیاسی جماعتوں کی بڑی کامیابی تھی۔ لیکن یہ انتخابات نظریات سے زیادہ علاقائی اور مذہبی مسائل کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھے جاگ پنجابی جاگ جیسے نعروں نے علاقائی سیاست کو فروغ دیا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام نے نظریاتی اپوزیشن کے وجود کو بھی برقرار رکھا۔ جو متحدہ مجلس عمل کی شکل میں حکومت کی رگوں میں دوڑنے لگا ۔ جس کی وجہ سے بائیں بازو کے لوگ ملحداور بے دین قرار دیے گئے ۔ پاکستان میں سیاست میں علمی و ادبی بحث کی جگہ تشدد نے لے لی۔ اقرباء پروری، انتہا پسندی تشدد پسندی ، برادری ازم جیسی ناسور قوتوں نے پاکستان کی سیاست کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اسی وجہ سے جمہوریت اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اپوزیشن برائے اپوزیشن کے تصور نے لوگوں کو جمہوری طاقتوں سے متنفر کر دیا۔ متبادل قیادت متبادل پالیسیاں دینے کی بجائے استحصالی طبقے کا حصہ بن گئی۔ سرمایہ داری اور جاگیرداری کے ساتھ ساتھ مذہبی قیادت حکومتوں کا بھی حصہ رہیں اور اپوزیشن کا بھی۔ اسی وجہ سے جمہوریت کی روح ہی دفن ہوگئی جسکا اصل مقصد محروم اور مظلوم طبقے کو اقتدار کا حصہ بنانا تھا ۔ اسی لئے جمہوریت کی تعریف عوام کی حکومت ، عوام کے ذریعے ،عوام کے لئے حکومت،ٹھہری ۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت سے مراد جاگیرداری اور سرمایہ دار کی حکومت ، ان کے لیے حکومت، اور ان کے ذریعے حکومت ٹھہری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں