مذہب کارڈ ………… (تحریر ، تنویر بیتاب)

مذہب کارڈ ہمیشہ سے اقتدار کے حصول اور اسے دوام بخشنے کے لئے استعمال ہوتا آیا ہے۔ تمام ہی مذاہب اس کام لئے استعمال ہوتے آئے ہیں ۔ قیام پاکستان کے لئے مذہب کارڈ کامیابی سے استعمال کیا گیا۔ دو قومی نظریہ مذہب کارڈ کا ہی دوسرا نام تھا ۔ مذہب کارڈ کے اس استعمال کے سبب عظیم ہندوستان کی تقسیم کا عمل شروع ہوا۔ ہندوستان کے شہریوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر نفرت کی دیوار کھڑی کی گئ۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں پنجاب بھی تقسیم ہوگیا ۔ پنجاب کے مکینوں نے مزہبی بنیادوں پر ایک دوسرے کو قتل کیا۔ عورتوں کی عصمت دری کی ۔ ایک دوسرے کی املاک تباہ و برباد کیں ۔ پنجاب کے شہریوں کی بڑی تعداد اپنی جائیدادوں سے محروم ہوئی ۔ اُن تباہ حال خاندانوں کی تیسری تیسری نسلیں آج تک اس تباہی بربادی کا خمیازہ بھگت رہی ہیں ۔

قیام پاکستان کے قرار داد مقاصد کے نام پر بھی مذہب کارڈ ہی کھیلا گیا تھا۔ جس کے زریعے اسلام کے نام پر شہریوں کو غلام بنانے کا عمل شروع ہوا۔

سال 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ بہادر کے اشارے پر اسٹبلشمنٹ نے ایک بار پھر مولویوں کے زریعے مذہب کارڈ کھیلا تھا۔ جنرل ضیاء نے اپنی غیر آئینی حکومت دوام بخشنے کے لئے مذہب کارڈ کا کامیاب استعمال کیا تھا۔ عالمی استعمار کی طرف سے کیمونسٹ نظام کے خلاف جنگ کے لئے بھی اسلام کے نظریہ جہاد کو مذہب کارڈ کے طور پر استعمال کیا گیا۔

بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو گرانے کے لئے آئ جے آئ بھی تو مذہب کارڈ ہی تھا۔ ابھی دو برس پہلے مسلم لیگ کی منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے کے لئے تحفظ ختم نبوت کے نام پر خادم رضوی کا دھرنا کیا مذہب کارڈ کا استعمال نہ تھا۔

اب اگر مولانا فضل رحمن حکومت کے خلاف مذہب کارڈ استعمال کر رہا ہے تو حیرت کیسی؟؟؟ مذہب کارڈ کا استعمال ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور عوام کے باشعور ہونے تک ہمیشہ ہی ہوتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں