جمھوریت کے مقبرے پر پھول اور دھول …… .. از قلم طاھر شہزاد

آج میڈیا اور تمام بڑی سیاسی پارٹیاں ملک کے عظیم مفاد میں آرمی ایکٹ میں قانون سازی پر خوشیاں مناتی نظر آ رہی ھیں ، مگرکیا ملک کا عظیم مفاد چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن میں چھپا ھوا تھا یا جمھوریت کی طاقت میں ؟ میرے ذاتی خیال میں آج سیاسی پارٹیوں نے ایک بار پھر جمہوریت کے مقبرے پر اپنے ھاتھوں سے پھول رکھ کر سیاست کے جنازوں کی بنیاد رکھ دی ھے – پچھلے 72 سالوں سے جس جمھوریت کی آرزو کی جاتی تھی اس کا ایک خوبصورت موقع 29 نومبر کے آصف سعید کھوسہ کے ایک سپریم کورٹ کے فیصلے نے جمھوریت کو فراہم کر دیا تھا ، مگر افسوس جمھوریت کی آرزو کرنے والی تمام سیاسی پارٹیوں نے ایک بار پھر اس خوبصورت موقعے کو گنوا کر سیاسی جنازوں کے لیے ہمیشہ کے لیےگڑھا کھود لیا ھے –

پچھلے 72 سالوں سے اسی ایکسٹینشن کا سہارا لیتے ھوے تمان ڈکٹیٹرز نے کئی کئی بار اپنے آپ کو کبھی خود ایکسٹینشن دی یا بذور طاقت سیاست کے شہنشاھوں سے ایکسٹینشن کے پروانے جاری کروائے .
کیا تمام بڑی پارٹیاں خود اس پریشر کو فیس نہیں کر چکی تھیں جو آج ایک بار پھر خود اپنے مقبروں کی بنیادیں کھڑی کر کے دھمال ڈال رہی ہیں – کیا پاک فوج کو 72 سال سے اب تک منظم فوج بنانے میں ناکامی اس کا سبب بنی ھے جوآج باجوہ صاحب کے ریٹارمنٹ کے بعد کوئی جرنیل اس قابل نہیں تھا جو پاک فوج کی کمان سنبھال سکتا ؟

پاک فوج جس کو پاکستان کا واحد منظم ادارہ کہا جاتا ھے کیا آج تک چیف آف آرمی سٹاف اپنے نیچے تمام نا اہل جرنیلز کو پروموٹ کر کے ملک کے دفاع کو خطرے میں ڈالتے رہے ہیں ؟ کیا آج تک ہمیں نہیں بتایا گیا تھا کہ ہماری فوج ایک منظم ادارہ ھے توایک جرنیل کے بعد آج تمام فوج پر سوالیہ نشان کیوں لگا دیا گیا ھے ؟
کیا منظم افواج میں ایک جرنیل کے مرنے پر فوج دم توڑ جاتی ھے ؟
کیا جنگوں میں جرنیلز کی ذندگی کی ضمانت دی جا سکتی ھے ?
کیاجنگی منصوبہ بندی میں صرف ایک جرنیل کا کردار ھوتا ھے ?
جبکہ ابھی چند دن پہلے ہی ایران کے عظیم جرنیل کی شہادت سے کیا ایرانی فوج کی صلاحیتیں ختم ھو گئی ہیں ?

کیاجرنل راحیل شریف کے بعد پاک فوج کی کمان ختم ھو گئی تھی جبکہ جرنل راحیل شریف کی باجوہ صاحب سے ذیادہ تعریف کی جاتی تھی – جب جنگوں میں جرنیلز کی شہادتیں جنگوں کے نتائج تبدیل نہیں کر سکتے تو یہ کیسے سوچ لیا گیا کہ جرنل باجوہ صاحب کے بعد فوج ختم ھو جائے گی جبکہ ایک جرنیل کی ایکسٹینشن سے کتنے جرنیلز کی حوصلہ شکنی ھوتی ھے اس کا کبھی کسی نے سوچا ؟ جبکہ ایک جرنیل کی خوشنودی کی خاطر ہم کتنے عظیم اور قابل جرنیلز کی حوصلہ شکنی سے ان کے مورال میں کمی کا سبب بنتے ہیں ?
کیا آج اپنے منظور نظر جرنیل کی ایکسٹینشن کے قانون سے پاک فوج کی باقی قیادت میں مایوسی کو پروان نہیں چڑھایا جارھا ?

آج میاں صاحب خوشی سے دھمال ڈال رہے ہیں کہ جو وعدہ اسٹیبلشمنٹ کے اعلی حلقوں کی جانب سے اقتدار دینے کا ان کی پارٹی سے کیا گیا تھا فروری مارچ میں اس کے مطابق اگلی ایکسٹینشن میاں صاحب کی مٹھی میں آ گئی ھے . مگر کیا میاں صاحب کو یقین ھے یہ حسب وعدہ اقتدار ان کو مل جائے گا ? اور اگر مل بھی گیا تو کیا انہوں نے ایک بار پھر اپنے سر پر تلوار نہیں لٹکا دی باجوہ صاحب کے پریشر کی –

آج جمھوریت کو ایک چانس ملا تھا تمام آنے والے چیف کی ایکسٹینشن کے دباؤ سے آزادی کا مگر افسوس تمام بڑی پارٹیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ھےکہ جمھوریت کے سب سے بڑے قاتل آج وہی ہیں ، میرے خیال کے مطابق تو جنگ کی حالت میں بھی چیف کی ایکسٹینشن کا قانون غلط ھے کیونکہ اس قانون سے فوج کی باقی قابل اور عظیم لیڈرشپ میں مایوسی کا سبب بنتی ھے اس قسم کی نا انصافیاں ، اور جنگوں میں کمانڈروں کی مایوسیاں بعض اوقات کامیابیوں کو ناکامیوں میں تبدیل کر دیتی ہیں-
آپ جب کسی بھی ادارے میں محنتی افراد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو ان اداروں میں نیچے تک اس کے اثرات مایوسی کی صورت میں پورے ادارے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں ، کہیں ہم اپنی کوتاہیوں سے پاک فوج کو کمزور تو نہیں کر رھے ?

کیا ہم محنتی اور ملک سے محبت کرنے والے تمام جرنیلز کی حوصلہ افزائی کر کے اس ادارے کو ذیادہ فعال نہیں بنا سکتے تھے ?
جبکہ کیا اس ایکسٹینشن کے قانون کا خاتمہ کر کے ہمیشہ کے لیےجمھوری اداروں سے اسٹیبلشمنٹ کے پریشر کا خاتمہ بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ?

مگر افسوس آج ہمارے تمام جمھوریت کے رکھوالوں نے خود اپنے ھاتھوں سے جمھوریت کے مقبرے پر ایکسٹینشن کی اینٹ لگا کر جمھوریت کے کھلتے ھوے پھول کو مسل ڈالا اپنے ھی ھاتھوں سے ، مگر دھمال ڈال رہے ہیں سب کہ انہوں نے چیف کی کمزوری اپنی مٹھی میں کر لی ھے . مگر کیا آج تک کسی وزیر اعظم کو جرائت ھوئی آرمی چیف کے آگے نظریں اٹھانے کی بھی جو آج اس کمزوری پر دھمال ڈالتے نظر آرھے ہیں ?

میرے خیال کے مطابق آج ایک بار پھر ساست دانوں نے ناصرف سیاست کے مقبرے پر پھول رکھ دیئے ہیں بلکہ ایک منظم ادارے کو تباہ کرنے کا موجب بھی بنے ہیں .
اپنےبچپن میں ہم جب ایک فوجی کو دیکھتے تھےتو ہمارے ھاتھ خود بخود سلیوٹ کے لیے اٹھ جاتے تھے . کیونکہ ہم اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرنے لگتے تھے . ہمارے تحفظ کا احساس خوشی کی صورت میں ہمارے چہرے سے جھلکتا تھا . مگر آج سیاست نے فوج کی وردی کو بھی اتنا داغدار کر دیا ھے کہ جو معصوم ذھن اس وردی کی حرمت پر سلیوٹ کرتے نظر آتے تھے آج اسی مٹی کے رنگ اور خاشبو میں بسی وردی کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں ایک بار خوف کی پرچھائیاں کیوں نظر آنے لگتی ہیں ?

کل جب ہم بچے تھے تو اسی وردی کو دیکھ کر اپنے آپ کو انتہائی محفوظ تصور کرنے لگتے تھے مگر آج جب فوج کی گاڑی گھر کے باھر کھڑی دیکھتے ہیں تو ایک عجیب سا خوف کیوں انہی بچوں کے چہروں پر نظر آتا ھے ? یا شائید سیاست نے اس وردی کو بھی سیاست کی طرح داغدار کر دیا ھے – اور یہ ایکسٹینشن کی نا انصافیاں ہی ہیں جو ایک جرنیل سے سرائت کرتی ہوئی پوری فوج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں – جب میں سنتا ھوں کہ دنیا کی نمبر ون پاک فوج اور آئی- ایس- آئی ھے تو میرا سینہ فخر سے چوڑا ھو جاتا ھے ، کیونکہ مجھے پیار ھے اپنے ملک سے اپنے ملک کی فوج سے مگر جب میں اسی وردی پر سیاست کے داغ دیکھتا ھوں تو میری آنکھیں تلاش کرنے لگتی ہیں اپنے بچپن کی اسی مٹی کے رنگ اور خوشبو میں بسی وردی کو جس کی حرمت کے لیے آج بھی میرے ھاتھ خود بخود میرے ماتھے پر چلے جائیں –

آج میری آنکھوں کے سامنے کچھ خون آلود واقعات مجھے خوف میں اس وردی کو سلیوٹ کرنے پر مجبور نہ کریں بلکہ میرا ھاتھ آج بھی اسی پاک وردی کی حرمت میں سلیوٹ کے لیے خود بخود میری پیشانی پر چلاجائے ، مجھے آج بھی اپنا بچپن چاہیے کیونکہ مجھے اپنی فوج سے پیار ھے

مگرکاش ، آج میری آنکھوں میں لاپتہ افراد کا سوچ کر خوف نہ جھلکے –

مگر کاش، آج سینٹ الیکشن کو دیکھتے ھوے میری نظروں میں جمھوریت کی امید نہ دم توڑ تی نظرآئے-

مگر کاش ، آج سانحہ ساہیوال اور نقیب اللہ محسود کے واقعات میری آنکھوں میں خوف پیدہ نہ کریں .

مگر کاش، آج منتخب وزرائع اعظم اور سیاست کے جنازوں پر میری آنکھوں سے آنسو نہ ٹپکیں .

مگر کاش ، آج مجھے اپنے ملک سے پیار اور بے لوث محبت کی سزا راء کے ایجنٹ یا غدار پاکستان کے میڈلز کی صورت میں نہ ملے .

مگر کاش، آج این-جی -اوز کی آڑ میں میرے ملک کی مٹی میں دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کی افزائش نہ ھو .

مگر کاش ، آج صوبائی آزادی کی تحریکوں میں راتوں رات خودغرضی کا تیل چھڑک کر آگ بھڑکا کر ملک کی معیشت کو تباہ نہ کیا جاسکے .

مگر کاش ، ڈیم , پانی اور کرپشن کے پھٹے ناکارہ ڈھول بجا کر قوم کو گمراہ نہ کیا جا سکے.
ذرا سوچئے ، راتوں رات جناتی طاقتوں کے اشاروں پر پھلنے پھولنے والی ملتان اور ھزارہ جیسی صوبائی آگ جس میں نہ شعلہ ھو نہ تپش کیسے معمولی سی چنگاری سے اچانک شعلے میں تبدیل ھو جاتی ھے اور یہی شعلہ اسی تیزی سے بجھ بھی جاتا ھے جس تیزی سے بھڑکایا گیا تھا کیسے ?
کہیں تمام اداروں میں سیاسی نمود ھی اس کی وجہ تو نہیں ?
آج میری آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں جب تعلیم کے گراف سے ذیادہ نشے کے گراف کو بلندیوں پردیکھتا ھوں .
مگر افسوس دنیا کا نمبر ون ادارہ اس مافیا کے خلاف ناکام نظر آتا ھے .

آج ان عظیم اداروں کے لیے سیاست کے برجوں کو الٹنا آسان ھے کیونکہ نمبر ون ہیں مگر کیا وجہ ھے کہ یہی نمبر ون منشیات کے ناسوروں کے خلاف بے بس نظر آتےہیں ?
مگرکاش ، جتنی محنت سیاستدنوں اور مخالفین کی کردار کشی کے لیے ہمارے ادارے اور سپریم کورٹ میڈیا ٹرائل کے ذریعے کرتی ھے اتنی محنت ان عوامل پر بھی کی جاتی تو آج ہمارے سکولوں تک آئے ھوئے منشیات کے اس ناثور سے اپنے ملک کے بچوں کو محفوظ رکھا جاسکتا تھا – مگر شائید اسی ایکسٹینشن یا سیاست کی نا انصافی اور مایوسی نے اس وردی کو بھی میلا کر دیا ھے –
میں فریاد بھی کروں تو کس سے ?
التجا کروں تو کس سے ?
جمھوریت کے مقبروں پر پھول نچھاور کرنے والوں سے یا ایکسٹینشن کے بھوکے شکاریوں سے ?
ذرا سوچئیے ?

نوٹ # لکهاری سے متفق ہونا ادارہ کیلئے ضروری نہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں