رزق رازق اور سالک کے درمیان پل……. ازقلم احمد ثبات قریشى الهاشمى

ایک بار سلطان غیاث الدین بلبن نے سرخ سکوں سے بھرے دو تھال تاجدارِ پاکپتن حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر(رح) کى بارگاه میں پیش کیئے آپ(رح) نے اسے قبول فرمایا اور اپنے مریدِ خاص خلیفه اور لنگر خانے کے منتظم حضرت مولانا بدرالدین اسحاق(رح) کو طلب فرمایا ان سے پوچھا مولانا بدرالدین ایک دن کا لنگر خانے کا کیا خرچ هے مولانا بدرالدین(رح) نے فرمایا “حضور ایک سرخ سکه ایک دن کا خرچ هے”بابا فرید(رح) نے فرمایا ان تھالوں میں سے ایک سکه لے لو اور باقى غرباء و مساکین میں تقسیم کردو مولانا بدرالدین(رح) گویا هوئے “حضور لنگر خانے کے انتظامات چلانے کے لیئے قرض لیا تھا جو که ایک سرخ سکه بنتا هے” بابا فرید(رح) نے فرمایا “قرض کى رقم بھى لے لو اور باقى تقسیم کر دو” حضرت مولانا بدرالدین اسحٰق (رح) نے حکم کى تعمیل کى تقسیم کے دوران کهیں ایک سکه زمین په گر گیا مولانا بدرالدین اسحٰق(رح) کى اس په نظر پڑ گئى آپ(رح) نے اُسے اُٹھا لیا ذهن میں آیا که کل بھى تو لنگر خانے کے انتظامات چلانے هیں اس غرض سے اس سکے کو اپنى جیب میں رکھ نمازِ عشاء کا وقت هوا اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر(رح) امامت فرمانے لگے ابھى سورت فاتحه کى تلاوت هى کى تھى که نماز توڑ دى دوباره نیت فرمائى اور کچھ دیر بعد دوباره نماز توڑ دى غرض کوئى تین چار بار یهى معامله درپیش آیا مقتدى بھى حیران تھے که نماز پورى نهیں هو پا رهى اور حضرت بابا صاحب(رح) بار بار نیت توڑ دیتے هیں آخر حضرت بابا فرید (رح) سر جھکا کر بیٹھ گئے حاضرین میں سے کسى میں سوال کى همت نه تھى هر کوئى اس معاملے پر حیران تھا بلآخر حضور بابا صاحب(رح) خود گویا هوئے آپ(رح) نے فرمایا” آج نماز میں حضورى نهیں مل رهى “آپ کے چهرے په پریشانى عیاں تھى پھر حضرت مولانا بدرالدین اسحٰق(رح) سے پوچھا “مولانا وه سرخ سکے آپ نے تقسیم کر دیئے “مولانا بدرالدین اسحٰق(رح) نے عرض کى” حضور تمام تقسیم کردیئے بس ایک سکه کل کے لنگر کے لیئے سنبھال لیا هے” حضور بابا صاحب(رح) کے چهرے پر غفگى کے آثار نمایاں هوئے آپ(رح) نے فرمایا “مولانا اتنى عمر آپ کى هو چکى هے ابھى تک توکل کا معنى نهیں سمجھ پائے یه ایک سکه آج همارے اور مالک و خالق کے درمیان حائل هو گیا اس سکے پر حق کسى مستحق کا هے نه که همارا آپ اللّٰه پر مکمل بھروسه رکھیں رازق کى پر توکل کریں نه که رزق پر” حضرت مولانا بدرالدین اسحٰق(رح) نے پیر و مرشد سے معافى طلب کى اور فوراً وه سکه تقسیم کرنے نکل گئے

قارئین اکرام اگر ایک حلال سکه حضورى سے دورى کا باعث بن سکتا هے تو حرام رزق همیں کهاں لے جاتا هو گا میرے پیر و مرشد حضرت میاں سخاوت على چشتى اجمیرى(رح) اکثر فرماتے تھے”جیسا دانه پیٹ میں جاتا هے دل میں خیال بھى ویسا هى آتا هے” آج همارى دعائیں قبولیت کے درجے په اس لیئے نهیں پهنچ پا رهیں که هم مشکوک اور حرام رزق کا استعمال کر رهے هیں خدارا رزق حلال کو اپنا لیں رازق و مالک اس دنیا میں بھى اور آخرت میں بھى سرخرو فرمائے گا اور عزت تاج آپ کے سروں په رکھ دے گا –

اللّٰه پاک همیں حلال آسان وسیع رزق عطا فرمائے،مقبول عبادات کى توفیق دے،هدایت کے راستے په ثابت قدمى و استقامت سے چلنے کى توفیق دے اور خاتمه ایمان په فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں