بیوی کا شکوہ ، خاوند کا جواب شکوہ ……………….. از قلم تنویر بیتاب

پسند کی شادی کرنے والی ایک خاتون اپنی شادی کے چند سال بعد اپنے شوہر کے بارے میں بتا رہی تھیں کہ یہ تو وہ بندہ ہی نہیں جس سے میں پیار کرتی تھی ۔ وہ میرا انتہائ فرماں بردار تھا ۔ میرے ایک اشارے پر میری پوری بات سمجھ جاتا تھا۔اُسے ہر دم میری فکر رہتی تھی۔ میری ہر خواہش پوری کرنا اُس کی خوشی تھی ۔ وہ جب مجھ سے ملنے آتا تھا تو اُس کی تراش خراش نہایت عمدہ ہوتی تھی ۔ اس سے خوشبوؤں کی لہریں اُٹھ کر پوری فضا کو معطر کر دیتی تھیں ۔ یہ مجھے شہر کے بہترین ریسٹورنٹس میں لنچ اور ڈنر کرواتا تھا ۔ مجھے نت نئے تحفے دیتا تھا۔میری ہر آرزو وہ میرے کہے بغیر پوری کرتا تھا۔اُس کے لئے میں ہی سب کچھ تھی ۔ وہ پوری پوری رات مجھ سے بات کرنے کے لئے جاگتا رہتا تھا۔ میری صرف ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہ میری گلی اور کالج کے گیٹ کے کئ کئ چکر لگاتا تھا۔

مگر اب یہ میری کوئ بات سُتا ہی نہیں اور میری بات ماننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب تو اسے میری کوئ پرواہ ہی نہیں۔میں چیخ چیخ کر اُسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں مگر وہ تو جیسے بہرہ ہو گیا ہو۔اب اُسے میری ضرورتوں تک کی کوئ پرواہ نہیں ہے۔ہر صبح سو کر اُٹھتے ہی اُسے دفتر جانے کی جلدی پڑی ہوتی ہے۔دفتر سے شام کو آتے ہی قمیض اُتار کر گندی سی بدبودار بنیان پہن کر میرے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔اُس کے جسم سے اُٹھنے والے تعفن سے میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔گھر سے باہر کھانا کھانے کی فرمائش کر دوں تو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔اب وہ مجھے کوئی تحفہ دینا تو گناہ سمجھتا ہے۔مجھے اب وہ بلکل ہی فالتو چیز سمجھتا ہے۔میں اُس سے بات کر رہی ہوتی ہوں وہ سو جاتا ہے۔میری شکل دیکھنے تو اُسے اب بلکل کوئ دلچسپی ہی نہیں۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ہے جو مجھ سے ٹوٹ کر پیار کرتا تھا اور جس پر میں مرتی تھی۔

جواب شکوہ

مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس پر میں جان دیتا تھا اور یہ بھی ہر آن مجھ پر قُربان ہوتی تھی۔اس کی آواز کیسی سریلی تھی اور پتہ نہیں کیسے اسے بوفر لگ گئے ہیں۔یہ ہر وقت بنی سنوری رہتی تھی مگر ہماری کام والی بھی اس سے زیادہ بن سنور کر رہتی تھی۔یہ وہ تھی جو ہر لمحے مجھ سے رومانوی گفتگو کرتی تھی مگر اب اس کی آلو،پیاز اور لہسن کی باتیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔کبھی یہ میرے ساتھ کئ کئ کلو میٹر پیدل چل بھی تھکتی نہ تھی ، اب تو وہ چند قدم چوک تک پیدل چلنے کو تیار نہیں ہوتی۔گھر ہی سواری منگوانی پڑتی ہے۔کبھی اس کا آنچل خوشبوؤں کا سمندر ہوتا تھا مگر اب اس کے پاس سے لہسن اور پیاز کی بو ہی ختم نہیں ہوتی۔وہ بھی دن تھے جب یہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا کرتی تھی۔اب وہ میرے سامنے یوں کھانا رکھتی ہے جیسے کسی پالتو جانور کو کھانا ڈالا گیا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں