معصوم محبت ………. از قلم تنویر بیتاب

وہ میری کزن تھی اور محلے دار بھی۔ہوش سنبھالتے ہی میں نے اُس میں کشش محسوس کرنا شروع کر دی تھی۔وہ مجھ میں کُچھ زیادہ ہی دلچسپی لیتی تھی۔ ہر کھیل میں اُسے میرا ہی ساتھی بننا اچھا لگتا تھا اور مجھے بھی اُسی کے ساتھ باتیں کرنا پسند تھا۔جب میں ایف اے کر رہا تھا اور وہ میٹرک تب ہم دونوں نے ایک دوسرے میں کچھ زیادہ کشش محسوس کرنا شروع کر دی تھی ۔ شائد یہ محبت تھی جس کو ہم سمجھنے سے قاصر تھے۔ایک دوسرے سے ہم لفظوں میں اپنی اپنی کیفیت بیان کرنے سے ڈرتے رہے کیوں کہ اُس کے نانا اور میرے دادا بہت ہی سخت گیر بزرگ تھے۔اُن کے خوف نے ہماری زبانوں پر تالے لگائے رکھے۔

میں تعلیم سے فارغ ہو کر ملازمت کرنے لگا تھا وہ بھی بی اے کر چُکی تھی۔ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھل اُٹھتے تھے۔ہمیں ایک دوسرے سے باتیں کرنے کا لطف آتا تھا۔ہم ایک دوسرے کو رومانوی شاعری بھی سُناتےتھے اور ناولز پر بھی بات کرتے تھے۔عشق و محبت کے موضوع پر بھی بات ہوتی تھی مگر ہم اب بھی اپنے دل کی کیفیت ایک دوسرے پرعیاں کرنے سے ڈرتے ہی رہے کہ اب اُس کےابااور میری ماں دونوں ہی بہت سخت مزاج تھے۔اُن کے خوف نے ہمیں چُپ رہنے پر مجبور رکھا ۔

اُس کی بھی شادی ہو گئ اور میری بھی۔اب ہمیں باہم ملنے اور گفتگو میں بھی محتاط رہنا پڑتا تھا کہ اُس کاشوہراور میری بیوی دونوں ہی فساد کھڑا کر دیتے ۔سو دلوں کی باتیں دلوں میں ہی رہیں۔ ایک طویل عرصہ بعد ایک شادی کی تقریب میں اُس سے مُلاقات ہوئ۔میرا دل چاہا کہ اس کو اپنا حال دل سُنا ہی دوں اچانک ہی کسی طرف سے میرا بیٹا نکل آیا اور اُس کی بیٹی ۔ہم نے بچوں کا باہم تعارف تو کروایا مگر خود اپنے اپنے بچوں کے ڈر کی وجہ سے خاموش ہوگئے۔دلوں کے ارمان دلوں میں ہی رہ گئے۔ وقت نے ایک بہت لمبی مسافت طےکر لی۔اُس کا شوہر نہ رہا ،میری بیوی نہ رہی ۔

کل ایک تقریب میں اُسے دیکھا تو مجھے ویسے کی ویسی ہی خوبصورت لگی۔دل میں دبے ارمان جاگ اٹھے۔وہ بھی اسی محبت اور گرمجوشی سے ملی۔سوچا آج تو اسے دل کی داستاں سُنا ہی دوں۔میں اُس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔وہ بولی” مجھے آپ سے کُچھ کہنا ہے” میں بھی آج تُم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا۔ اچھا ! بولئیے ۔۔وہ مُسکرا کر بولی ، نہیں پہلے تُم بتاؤ۔۔میں نے عرض کی۔ اتنے میں اُس کا کم سن نواسہ آ گیا۔میری طرف اُنگلی سے اشارہ کر کے بولا” یہ بابا کون ہے؟” یہ آپ کے پاس کیوں بیٹھا ہے؟
ابھی وہ اُسے کوئ جواب نہ دے پائ تھی کہ میرا پوتا بھی آن ٹپکا۔اُس کا بھی پہلا سوال یہی تھا” یہ بوڑھی اماں کون ہے؟ میں دادو کو بُلا کے لاؤں؟ میرا نواسہ بہت تیز ہے ہر بات اپنی ماں کو بتا دیتا ہے۔وہ مجھے چُپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔اس سے پہلے کہ میرا پوتا اپنی ماں کو لے کر آ پہنچتا،میں نے وہاں سے کھسکنے ہی میں عافیت سمجھی ۔

اب تو شائد کبھی بھی ہم ایک دوسرے کو دل کی بات نہ کہہ سکیں گے۔ہماری یہ معصوم محبت دلوں میں پیدا ہو کر،جوان رہ کر دلوں میں ہی دم توڑ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں