سیاسی غلام …… از قلم احمد ثبات قریشى الهاشمى

همارى سب سے بڑى ستم ظریفى یه هے که هم برس ها برس کى غلامى کے اتنے عادى هوچکے هیں که همیں آج بھى زندگى گزارنے کے لیئے کسى نه کسى آقا کى ضرورت هر حال میں رهتى هے جس طرح زمانۂِ قدیم میں غلامى کے حامل افراد اپنا سب کچھ یهاں تک که اپنى سوچ کو بھى اپنے آقاؤں کے حوالے کر دیتے تھے ان کى اپنى نه تو کوئى ذاتى سوچ هوتى تھى نه انهیں صحیح اور غلط میں فرق کى پهچان و اجازت هوتى تھى وه اس وقت خوش هوتے تھے جب ان کے مالک خوش هوتے تھے ،ان کے لیئے دکھى هونا لازم هوتا تھا جس وقت ان کے مالک دکھى هوتے تھے وه اپنا سب کچھ اپنے مالک کے پاس گروى رکھ کر زندگى کى سانسیں گزارتے تھے ان کے لیئے یه ذهنى قید هى آزادى کا پروانه تھا ان کے لیئے لازم تھا که مالک اگر غلط کرے تو وه باهر نکل کر اس کى پاکبازى اور اصول پرستى کے گُن گائیں –

وقت گزرتا گیا غلامى کو ختم کرنے کى تحریکیں چلیں اور بالآخر حضرتِ انسان نے غلامى کى روایت کو ختم کر دیا موسىٰ(ع) کے نظریات کو فتح اور فرعونى نظریات کو نیست و نابود کر دیا گیا لیکن هر بااثر شخص کے من میں فرعون چھپا رها آج یه فرعون همارے جیسے پسمانده معاشرے میں سیاسى پارٹیوں کى شکل میں نظر آتا هے موسىٰ(ع) نے جس بغاوت کا اعلان کیا آج میرے قبیل کے لوگ اس سے آشنا تو نظر آتے هیں مگر اپنانے سے کتراتے هیں میرے قبیل کے افراد نے فرعون کى اطاعت اس معزز انداز سے شروع کر دى هے که ان کى نظر میں حق گوئى کسى گناه سے کم نه هے وه فرعون کے حقوق کے تحفظ اس کے گناهوں کى پرده پوشى اور اس کى غلطیوں اور مظالم کى بھرپور وضاحت کرتے دکھتے هیں۔

جس طرح اهلیانِ مصر نے متعدد فرعون بنائے هوئے تھے اور وه انکى پوجا سے سکون محسوس کرتے تھے بعین اس طرح میرى قوم نے اپنى اپنى پسند کے سیاسى فرعون کى اطاعت اور فرماں بردارى خود په لازم کر لى هے الحمدللہ هم مسلمان هیں اور کسى صورت شرک جیسے گناهِ کبیره کے مرتکب نهیں هوسکتے لیکن هم نے اپنے رویه ایسا کر لیا هے که یوں معلوم هوتا هے که هم نے اپنا قبله اپنے اپنے پسند کے سیاسى اقابرین کو بنا لیا هے یه وه رویه هے جو همارى سیاسى غلامى کے طوق کى غمازى کرتا هے جسے هم بڑے فخر سے اپنى گردنوں میں ڈالے گھومتے نظر آتے هیں –

آزمائش کے طور په آپ کسى بھى محفل میں حکومتى اقدامات پر تنقید کر کے دیکھ لیں چاهے اس سیاسى جماعت کى حکومت کى تشکیل کے لیئے آپ نے اپنے ووٹ کا استعمال اس کے حق میں هى کیا هو محفل میں موجود احباب آپ کو ساتھ هى مخالف پارٹى کا گرداننا شروع کر دیں گے۔آپ حکومت کے کسى اقدام کى تعریف کر لیں آپ کو فوراً آڑے هاتھوں لیا جائے گا اور باور کرایا جائے گا که آپ کى سیاسى وابستگى انتهائى ناقص هے هم سب اپنے اپنے آقا و مالک کى بهترین ترجمانى کے لیئے هر وقت تیار و مستعد نظر آتے هیں۔ہم ان کى عدم موجودگى میں انکے کردار انکے کاروبار تک کے بہترین ترجمان نظر آتے هیں –

آپ اپنى سیاسى وابسگتیاں کسى بھى پارٹى سے رکھیں لیکن یاد رکھیں آپ کا ملک ان پارٹیوں سے افضل هے یه حکمران طبقه آپ کے مفادات اور ترجیحات کا امین بن کر آتا هے۔سیاسى غلامى کا طوق اتار پھینکیں جو غلط هے اسے غلط کهنا سیکھیں یقین جانیں “سانچ کو آنچ نهیں”
معروف واقعه هے لیکن تجدیدِ ایمان کے لیئے گوش گزار کرتا هوں خلیفۂِ دوم سیدُنا عمرِ فاروق(رض) کے دور میں صحابه اکرام نے سوال اُٹھایا که مالِ غنیمت سے ملنے والے چادریں همیں پورے نهیں آئیں لیکن اے عمر(رض) آپ کو کیسے پورى آگئیں حالانکه آپ دراز قامت هیں فاروقِ اعظم(رض) کے صاحبزادے نے اُٹھ کے جواب دیا که میں نے اپنى چادر اپنے والد صاحب کو دى هے۔قارئین اکرام اُن سوال کرنے والوں کو نه گستاخ کہا گیا ،نه غدار کہا گیا اور نہ ملک دشمن بلکه ان کى تعزیم و تکریم کى گئى –

اس سیاسى غلامى کے طوق کو اتار پھینکیں جن کے سر په محمد رسولِ عربى (صل اللّٰه علیه وآله وسلم) کى غلامى کا تاج هو انهیں کسى اور غلامى کى ضرورت نهیں که اسى غلامى میں سرورى بھى هے اور عزت بھى

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں