مہنگائی کا رونا اور ایفیشنٹ حکومت ؟؟؟؟؟ محمد عزیر علی کے قلم سے

کوئی عمران خان کو سمجھاۓ کہ بارش نہیں ہو رہی بلکہ دنیا تھو تھو کر رہی ہے- ایک جانب دنیا رو رہی ہے عوام گالیاں دے رہی ہے کہ مہنگائی کا تاریخی طوفان برپا ہے اور کاروبار ختم ہو کر رہ گۓ ہیں. غریب عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں اور حکومت پر لعنتوں اور بدعاؤں کی برسات ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب خان صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میری ٹیم اتنی ایفشنٹ ہے اور حکومت درست سمت میں جا رہی ہے, برامدات بڑھ رہی ہیں اور درآمدات کم ہو رہی ہیں معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور اپوزیشن کو تکلیف ہے کہ حکومت کامیاب ہو رہی ہے. اب حقیقت عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ حکومت کتنی کامیاب ہو رہی ہے کیوں کہ عوام ہی یہ کامیابی بھگت رہی ہے. ریکارڈ ٹیکس کولیکشن کے باوجود عوام کو سہولتیں دینے کے بجاۓ مفت سہولیات چھینی جا رہی ہیں, ٹی وی ٹیکس ہو یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہر چیز کی فیس بڑھائی جا رہی ہے. پھر خان صاحب کا کہنا ہے کہ سکون تو صرف قبر میں ہے. حد تو یہ ہے کہ لاہور میں کچرا اٹھانے والی کمپنی البرکہ کو صرف تین ارب کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث لاہور میں کچرا پھیل رہا ہے.
یہ کونسی کامیابی ہے کہ ایک قرض کا سود اتارنے کے لیے سود پر دوسرا قرضہ لیا جاۓ ؟ کیا ایسے ملک کا قرضہ اتر جاۓ گا, کیا اس حکومت نے پچھلی حکومتوں کا لیا ہوا قرضہ کم کر دیا یا قرض کا بوجھ پہلے سے کہیں ذیادہ بڑھ چکا ہے ؟ اور جواب سب جانتے ہیں کہ ملکی قرضوں میں کمی نہیں بلکہ کئی گنا اضافہ ہوا ہے.
یہ وہی سائنسدانوں کی ایکسپرٹ ٹیم کی حکومت ہے جن کو حکومت میں آنے سے پہلے عوام کا بہت درد تھا کہ مہنگائی کم ہونی چاہیے, پیٹرول ڈیزل سستا ہونا چاہیے, ڈالر کا ریٹ کم ہونا چاہیے, زراعت کی ترقی ہونی چاہیے کیونکہ بقول عمران خان پاکستان میں بارہ موسم تھے لیکن اب صرف ایک ہی موسم ہے اور وہ مہنگائی کا موسم ہے.

یہ وہی ٹیم ہے جس کا مسخرہ کہتا تھا کہ خان کی حکومت آتے ہی اگلے دن سوئس بینکوں میں پڑا دو سو ارب ڈالر پاکستان میں ہو گا, سو ارب قرضہ اتارنے کے لیے اور باقی سو ارب عوام پہ خرچ ہو گا.

تمام وعدے دعوے جھوٹے ثابت ہوۓ, جسے لیڈر سمجھا تھا وہ منافق نکلا. کیا عمران خان اور اس کی ایکسپرٹ ٹیم حکومت میں آنے سے پہلے ملکی حالات سے لاعلمی میں دعوے کرتی تھی ؟ اگر لا علم تھے تو دعوے کیوں کیے اور اگر علم تھا تب بھی یہی سوال ہے اور جواب صرف ایک ہے کہ یہ جھوٹوں اور منافقوں کی ٹیم ہے جو کمزور ترین اپوزیشن, فوج اور دیگر اداروں کی تمام تر جانبداری کے باوجود ناکام ہے. اچھی تقریریں اور باتیں کوئی بھی کر سکتا ہے لیکن اگر عملاً اور حقیقتاً حالات بالکل متضاد ہیں.

میرا دعوی ہے کہ آئی ایم ایف کی پہلی ادائیگی کے وقت پچھلی حکومتوں کا رونا رو کر جیسے کشکول لیے بھاگے پھرتے رہے اگلی قسط کے وقت وہ کشکول بھی کام نہ آۓ گا. یہ ملک تباہی کی جانب گامزن ہے اور ڈیفالٹر ہونے پر ایٹمی پروگرام خطرے میں پڑ جاۓ گا کیوں کہ تمام تر لوٹ مار کے باوجود آئی ایم ایف کی اگلی قسط ادا کرنا بہت مشکل ہے مزید زوال آۓ گا. غداروں کو کرپشن سے پیسہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کے خریدار پوری قیمت ادا کرتے ہیں. لیکن یہاں تو کرپشن بھی عروج پر ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں, نہ پشاور میٹرو کو نہ ملک ریاض کو, نہ ہیلتھ کارڈز اور نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کو نہ پارٹی فنڈنگ کیس کو کیوں کہ یہ معصوم فرشتوں کی حکومت ہے.
یہ وہی باکردار لوگ ہیں جو بات بات پر استعفے مانگا کرتے تھے لیکن وزیر ریلوے بدترین حادثوں کے باجود پورے ٹھاٹ سے بیٹھا ہے, یاسمین راشد سے کوئی نہیں پوچھتا جس نے نواز شریف کو باہر بھجوانے کے لیے دن میں کئی کئی پریس کانفرنسز کر کے پورا ماحول تیار کیا, ہسپتالوں کے حالات بدترین ہیں. سانحہ ساہیوال کا کچھ نہ ہو سکا. امیر کے لیے کچھ اور غریب کے لیے کچھ اور ایک نہیں دو پاکستان, پروٹوکولز میں کوئی کمی نہیں بس خان کی قمیض میں سوراخ ہے یہی اس کے عظیم لیڈر ہونے کی نشانی ہے. سوراخ کو بھی چھوڑیں حریم شاہ تو ان کے پورے کپڑے اتار چکی ہے لیکن یہ پھر بھی پاکدامن ہیں کیونکہ یہ بوٹ کو عزت دیتے ہیں جس کا باقاعدہ اعتراف موصوف فیصل واوڈا کاشف عباسی کے پروگرام میں کر چکے اور اس اعتراف کا خمیازہ بھی بیچارے کاشف عباسی کو پابندی کی صورت بھگتنا پڑا. جنرل حمید گل بھی فوجی تھے جو اعتراف کرتے تھے کہ مشرف امریکہ کا پٹھو ہے, کرپٹ ہے غدار ہے لیکن یہ چمچی حکومت مشرف کی سزا رکوانے عدالت گئی. اس ملک میں غداری کا ٹھپہ اس پر ہی لگتا ہے جو وفادار ہو اور سچ بولے وہ چاہے عافیہ صدیقی ہو, ڈاکٹر عبدلقدیر ہو یا بس چلے تو مرحوم ریٹائرڈ جنرل حمید گل کو بھی غداری کا تمغہ دے دیں لیکن ایسا کرنے سے خود اصل حکومت پہ داغ لگے گا.
مہنگائی کا جو طوفان برپا ہے, بجلی, گیس اور دیگر مہنگائی کا جو عالم ہے اس میں بیرون ملک سے تو کیا کوئی پاکستانی بھی انڈسٹری نہیں لگاۓ گا کیونکہ یہاں پراڈکشن سے سستا کام ہے کہ باہر سے امپورٹ کی جاۓ. پھر آخر کس شعبے میں بیرونی انوسٹمنٹ آۓ گی ؟ کیا پاکستان کی زمینیں بیچی جا رہی ہیں یا معدنی ذخائر ؟

زراعت واحد شعبہ تھا جس سے پاکستان اپنی ایکسپورٹس بڑھا سکتا تھا لیکن حال یہ ہے کہ ہم پھل سبزیاں, کپاس انڈیا اور چائنہ سے منگوا رہے ہیں. چینی اور آٹے کا حالیہ بحران حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور حقیقی حالات کی عکاسی ہے اب فائدہ چاہے جہانگیر ترین اٹھاۓ یا کوئی اور پوچھتا کون ہے ؟
پہلے تو خان بغیر کچھ کیے عیش سے زندگی گزار رہا تھا اب وزیراعظم کی پوری تنخواہ اور پروٹوکول لے کر بھی کہتا ہے کہ گزارہ نہیں ہو رہا اسے کوئی بتاۓ کہ بدترین مہنگائی میں بے روزگاروں اور غریبوں کا کیا حال ہے. لنگر خانے چند ہزار لوگوں کے لیے ہیں بائیس کروڑ عوام کے لیے نہیں ہیں.

حکمرانوں اور پوشیدہ حکمرانوں کے لیے پاکستان ایک دکان اور کاروبار ہے اسی لیے یہ کاروبار آج تک چل رہا ہے لیکن اب حالات کچھ ایسے ہیں کہ دکان میں پڑے آخری سودے فروخت کیے جا رہے ہیں پھر خالی دکان پر وہی قابض ہوں گے جو سودا خرید رہے ہیں.

اللہ اس ملک پہ رحم فرما اور ہم سب کہ گناہ معاف فرما توبہ کی توفیق دے اور اس مسلط عذاب سے ہمیں نجات دے . آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں