محافظ بے لگام …………. از قلم محمد نورالامین

کل بھی عام دنوں جیسا بے حد روایتی دن تھا، حسب معمول دیر سے آفس پہنچا، ضروری دفتری امور اور دوپہر کے کھانے میں تاخیر ہوئی اور حسب روایت شام ڈھلنے کے بہت دیر بعد شہر کی خاک چھان کر گھر لوٹا۔ لیکن شب 11 بج کر 20 منٹ پر میری آنکھوں میں تیرتے آنسو خلاف معمول اور غیر روایتی تھے۔ تو صاحبان ان آنسوؤں کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایکسپریس اخبار کے دفتر سے نکل کر جیسے ہی جڑانوالہ روڈ الفتح سٹور کے قریب پہنچا تو ایک عجب منظر میری آنکھوں کے سامنے تھا، قریب قریب ویران چوراہے پر پولیس موبائل اس انداز سے تیار حالت میں کھڑی تھی کہ کسی بھی لمحے کوئی قانون شکنی کی کوشش کرے تو پولیس پارٹی اسے آن کی آن میں قانون کے لمبے اور تگڑے ہاتھوں کی گرفت میں لے سکے۔ مگر پولیس کے بہادر جوان موبائل وین کے ساتھ کھڑے ابلے ہوئے انڈوں اور چائے سے یوں لطف اندوز ہو رہے تھے، گویا قانون کی رکھوالی محض گاڑی کے ذمہ ہو۔ لیکن اس منظر کی ایک چیز جو بری طرح سے غیر متعلقہ محسوس ہو رہی تھی وہ مدقوق اور منحنی سا شخص تھا جس نے انڈوں کی ٹوکری اس انداز سے اٹھا رکھی تھی کہ دیکھنے والے کو اندیشہ لاحق ہو جائے جیسے وہ ٹوکری کے بوجھ سے گرنے والا ہو۔ دو جگہ سے ٹوٹی ہوئی کھجور کے پتے کی خستہ حال سی ٹوکری جس میں میلا اور پھٹا ہوا کھیس ابلے ہوئے انڈوں کو سمیٹ کر اور گرم رکھنے میں ناکامی سے دوچار معلوم ہو رہا تھا۔ لیکن اصل بات اس کے وجود کا دھیرے دھیرے کپکپانا اور ہچکیوں کے ساتھ کھائے گئے انڈوں کے پیسوں کے لیے التجا کرنا تھا، جو کسی بے شرم اور حد درجہ گرے ہوئے کو بھی انسان بنا دے، مگر افسوس کہ یہاں پولیس کے دلیر ڈٹے رہے، حتی کہ ان کی اس غیر انسانی حرکت پر وائرلیس سیٹ نے صدائے احتجاج بلند کی اور کسی بڑے صاحب کی کال پر اہلکار لمحہ بھر میں غائب ہو گئے۔

رپورٹنگ کی حس غالب آئی اور بالکل غیر ارادی طور پر میں رک گیا اور معلومات لینے کی غرض سے اس بدنصیب سے رونے کی وجہ دریافت کر بیٹھا، جو سننے میں شاید اتنی تلخ نہ ہوتی مگر یہاں تصویر سامنے تھی۔ مدقوق سا آدمی غیر متوازن لہجے اور بھرائی ہوئی آواز میں فقط اتنا ہی کہہ پایا کہ “جنی مرضی تنخواہ ودھا دیو، ایہناں حرام کھانا نئیں چھڈنا” یعنی پولیس ملازمین کی تنخواہ بڑھانے سے بھی کچھ حاصل نہیں کیوں کہ حرام کھانا ان کی عادت بن چکی ہے۔ اور عادت کے بارے میں سنا ہے کہ موت تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔

قصہ مختصر یہ کہ گزشتہ رات 11 بج کر 20 منٹ پر جڑانوالہ روڈ فیصل آباد پر جانب جڑانوالہ رواں گشت پر مامور پولیس موبائل کے عملہ نے انڈے بیچ کر روزی کمانے والے مزدور کی دیہاڑی کے پیسوں سے پیٹ کا جہنم بھرا، اور کھائے گئے 10 انڈوں کے پیسے طلب کرنے پر مزدور کو گالیاں دیں، اسے سخت سست کہا حتی کہ پیسے دیئے بغیر وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔ میرے بہت کہنے اور حوصلہ دینے کے باوجود انڈے فروخت کر کے خاندان کی کفالت کرنے والے اس مزدور نے رپورٹ کرنے کا تکلف کیا نہ مجھ سے پیسے لیے، الٹا منت سماجت سے مجھے بھی کرائم بیٹ کور کرنے والے دوست کے ساتھ رابطہ نہ کرنے کی درخواست کی، اور صرف ڈھڈی والا تک لفٹ کا کہا، مگر پولیس کے ڈر سے درخواست دینے پر آمادہ نہیں ہوا۔ میں نے اس کے کہنے کے مطابق لفٹ دی اور گھر چلا آیا۔

رستےمیں بھی اس شخص کی شکایت اور بد دعائیں میرا دل دہلاتی رہیں کہ کہیں یہ قبولیت کا وقت ہو تو ہم سب بحیثیت قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہو جائیں گے۔
لیکن صاحبان اب معاملہ پولیس کے ان افسران کے سپرد ہے جو حرام خوری کا ٹیگ پولیس کے ساتھ مزید جڑا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے یا پھر ان حکام کے جو تبدیلی کی نوید بھی پولیس کلچر سے شروع کرتے ہیں، کہ وہ ان بے لگام محافظوں کو نکیل ڈالیں، ورنہ معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش ہو گا جو سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں