شناختی کارڈ کی شرط پر مہلت ختم ، تمام تاجر اورصنعتی تنظیمیں سراپا احتجاج، آئندہ کیا کرینگے؟؟؟

فیصل آباد (محمد احمد مرتضی )

فیصل آباد کی تمام تاجر اور صنعتکاروں تنظیموں نے 8فروری کو چوک گھنٹہ میں جلسہ کرنے اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 10فروری سے مکمل پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آج شہر کی ڈیڑھ سو سے زائد تاجر اور صنعتکار تنظیموں نے چوک گھنٹہ گھر میں احتجاجی کیمپ لگایا جس میں ان تنظیموں کے نمائندوں نے بھر پور شرکت کی اور آپس میں مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کی معیشت کے تمام سیکٹر یکجا ہیں اور ہم اپنے اتحاد سے حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کا جلسہ اور دس فروری کی پہیہ جام ہڑتال مثالی ہو گی جس میں ہر شعبے کے لوگ شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منشور میں لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے بجلی ، گیس اور پٹرول کو سستا کرنے کا اعلان کیا تھا مگر آج اُن کی صنعت اور تاجر کش پالیسیوں کی وجہ سے صنعتکاروں اور تاجروں سمیت ہر طبقہ پریشان ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دینے کے اعلان کے برعکس حکومتی اقدامات سے فیصل آباد کی نصف سے زائد صنعتیں بند ہو چکی ہیں جبکہ باقی بھی آئندہ چند ماہ تک بند ہو جائیں گی جس کی وجہ سے مہنگائی کے بعد بے روزگاری کا نیا سیلاب سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی کو ملک کا پر امن ترین طبقہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ آج وہ بھی سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انرجی کے نرخ کم کئے جائیں۔ برآمد کنندگان کیلئے زیر وریٹ کی سہولت بحال کی جائے ، ری فنڈ ادا کئے جائیں۔ خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کی جائے اور تاجروں کیلئے سالانہ ٹرن اوور کی سلیب 10کروڑ سے بڑھا کے سو کروڑ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام بھی مایوس ہیں۔ جبکہ مہنگائی نے ہر شخص کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈالر مہنگا کرنے کے بعد بجلی ،گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں خود اضافہ کیا ہے جبکہ اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مہنگائی کی ذمہ داری اب دوسروں پر ڈالی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر محب وطن ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مذاکرات کے راستے کھلے رکھے ہیں اور اس سلسلہ میں میاں نعیم احمد اور عارف احسان ملک کی قیادت میں مشترکہ ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی کا تمام تر دارومدار حکومتی رویہ پر ہے۔ اس موقع پر انجمن تاجراں کے خواجہ شاہد رزاق سکا اور سپریم انجمن تاجراں کے اسلم بھلی سمیت دیگر راہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وہ موجودہ ہڑتال کے سلسلہ میں پوری طرح متحد ہیں اور کسی کو بھی اس اتحاد کو سبو تاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس ہڑتال میں جن تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اُن میں پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ، پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹیکسٹائل پاور لومز ایسوسی ایشن، آل پاکستان سائزنگ انڈسٹریز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن، پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن، فیصل آباد ڈائز اینڈ کیمیکلز ٹریڈرز گروپ، آل پاکستان ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن ، فیصل آباد فونڈری اینڈ انجینئرنگ اونرز ایسوسی ایشن، فیصل آباد فلور ملز ایسوسی ایشن، انجمن تاجراں سٹی رجسٹرڈ، الیکٹرانک اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن ، سپریم انجمن تاجراں ، پنجاب سمال انڈسٹریل اسٹیٹ، فیصل آباداولڈ موٹرز ایسوسی ایشن ، صدر غلہ منڈی، جیولرز ایسوسی ایشن ، فرنیچر ایسوسی ایشن، پرنٹنگ اینڈ گرافک کارڈز ایسوسی ایشن اور فیصل آبا دنٹ اینڈ بولٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن وغیرہ شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں