دین حق کی تصدیق سیدنا ابوبکر صدیق …. از قلم محمد احمد مرتضیٰ

آپ کا نام عبداللہ لقب صدیق اور ابو بکر آپ کی کنیت ہے آپ کے والد کا نام ابو قحافہ اور آپ کی والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی ہے آپ حضور ﷺ سے تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت میں حضور ﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے آپ کے فضائل اور کمالات انبیاء کرام کے بعد تمام اگلے اور پچھلے انسانوں میں سب سے اعلٰی ہیں آپ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا آپ زمانہ جاہلیت میں بھی قوم میں معزز تھے آپ نے زمانہ جاہلیت میں نہ کبھی بُت پرستی کی اور نہ ہی کبھی شراب پی- اسلام قبول کرنے کے بعد آپ تمام اسلامی جہادوں میں شامل رہے اور زندگی کے ہر موڑ پر آپ شہنشاہ کونین ﷺ کے وزیر اور مشیر بن کر آپ ﷺ کے رفیق و جان نثار رہے ہجرت کے موقع پر آپ حضور ﷺ کے رفیق سفر اور یارِ غار بھی ہیں-

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں بہت سی قرآنی آیات نازل ہوئی ہیں آپ کا ایمان تمام صحابہ میں سب سے کامل تھا آپ کو بچپن ہی سے بُت پرستی سے نفرت تھی آپ کے بچپن کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے والد ابو قحافہ (جو بعد میں اسلام لے آئے تھے) آپ کو بُت خانے لے گئے اور بُتوں کو دیکھ کر کہنے لگے بیٹا یہ تمہارے خدا ہیں انہیں سجدہ کرو یہ کہہ کر ان کے والد بُت خانے سے باہر چلے گئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بُت کے قریب گئے اور بُت کو مخاطب کرکے کہنے لگے میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے بُت کچھ نہ بولا پھر کہا میں برہنہ ہوں مجھے کپڑے دے بُت خاموش رہا پھر آپ نے ایک پتھر اٹھایا اور بُت سے کہا میں تجھے پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا بُت چپ رہا آخر آپ نے زور سے اسے پتھر مارا اور وہ بُت اوندھے منہ نیچے آ گرا اسی وقت آپ کے والد بھی بُت خانے میں آ گئے انہوں نے جب بُت کو اوندھے منہ گرے ہوئے دیکھا تو بیٹے سے کہا یہ تم نے کیا کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہی کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں آپ کے والد غصے میں انہیں گھر لے آئے اور ان کی والدہ سے سارا واقعہ بیان کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی والدہ اپنے شوہر سے کہا اس بچے کو کچھ نہ کہو کیونکہ جس رات یہ بچہ ہوا اس وقت میرے پاس کوئی بھی موجود نہ تھا میں نے ایک آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے اے اللہ کی بندی ! تجھے خوشخبری ہو اس بچے کی جس کا نام آسمانوں پر صدیق ہے اور جو محمد ﷺ کا یار اور رفیق ہے-

علماء فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام لوگوں میں سب سے افضل ہیں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ “حضرت ابو بکر صدیق لوگوں میں سب سے بہتر ہیں علاوہ اس کے کہ وہ نبی نہیں۔“ ایک مرتبہ حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اُمت میں سب سے افضل ہیں- حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس اُمت میں رسول اکرم ﷺ کے بعد سب سے بہتر حضرت ابو بکر اور عُمر رضی اللہ عنھم ہیں۔ (تایخ الخلفاء)-

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا آپ حضور اکرم ﷺ سے بے انتہا محبت فرماتے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے ایمان کو چھپاتے تھے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 25)
حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا کہ قیامت کے دن تین کُرسیاں خالص سونے کی بنا کر رکھی جائیں گی اور ان کی شعاعوں سے لوگوں کی نگاہیں چندھیا جائیں گی ایک کرسی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام جلوہ فرما ہوں گے دوسری میں بیٹھوں گا اور ایک خالی رہے گی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لایا جائے گا اور اس پر بٹھائیں گے ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا کہ “آج صدیق اللہ کے حبیب اور خلیل کے ساتھ بیٹھا ہے۔“ (شرف النبی امام ابو سعید نیشاپوری صفحہ 279)
سبحان اللہ ! روزِ محشر بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت اور شان و شوکت کے پھریرے لہرا رہے ہوں گے لوگ ان کے مقام و مرتبے کو دیکھ کر رشک کر رہے ہوں۔ حورانِ جنت ان کی عظمت کے ترانے گا رہی ہوں گی-

ابو داؤد میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابو بکر سن لو میری اُمت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہوگے۔ (ابوداؤد)-

ترمذی شریف میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے بھی میرے ساتھ احسان کیا تھا میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا علاوہ ابوبکر کے انہوں نے میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن ان کو اللہ تعالٰی ہی عطا فرمائے گا۔ (ترمذی شریف)-

مسلمانو ! حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام تمام صحابہ میں سب سے افضل ہے کوئی صحابی ان سے بڑھ کر فضیلت والا نہیں یوں تو آپ کے فضائل بے شمار ہیں جن کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں مگر چار خوبیاں آپ میں ایسی ہیں جو کسی بھی صحابی میں نہیں حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چار ایسی خوبیوں سے سرفراز فرمایا جن سے کسی کو سرفراز نہیں کیا اول آپ کا نام صدیق رکھا اور کسی دوسرے کا نام صدیق نہیں دوئم آپ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ غارِ ثور میں رہے سوئم آپ حضور اکرم ﷺ کی ہجرت میں رفیقِ سفر رہے چہارم حضور سرور کونین حضرت محمد ﷺ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھائیں تاکہ دوسرے لوگوں کے آپ امام اور وہ آپ کے متقدی بنیں حضرت ابوبکر صدیق کی مدت خلافت صرف سوا دو برس ہے لیکن اس قلیل مدت میں انہوں نے جو عظیم الشان کارنامے انجام دئیے ان کا حال پڑھ کر انسان ورطہ حیرت میں غرق ہو جاتا ہے انہیں اپنے دور خلافت کا بیشتر حصہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے میں صرف کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود وہ ملکی نظم و نسق سے غافل نہیں رہے فی الحقیقت انہوں نے اپنی قوت ایمانی ، تدبر و فراست اور عزم و ہمت کی بدولت نوزائیدہ خلافت اسلامیہ کو اتنی مستحکم بنیادوں پر قائم کر دیا جس پر ان کے اولوالعزم جانشین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک عظیم الشان تعمیر کر دی ۔ ( سیرت خلیفۃ الرسول : ص 477 )-

علم و فضل کے اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے جامع الکمالات تھے تفسیر ، حدیث ، علم تفسیر ، علم الانساب ، شعر و سخن ، حکایت ، تحریر و کتابت میں انہیں مہارت تامہ حاصل تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عظیم الشان کارنامہ ” جمع قرآن مجید “ ہے موطا امام مالک میں ہے کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ قرآن مجید کے تمام اجزاءکو جمع کر کے ایک کاغذ پر یکجا جمع کرنے کا اہتمام کریں چنانچہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا –

اب آتے ہیں آج کی تاریخ پر جس وجہ سے ہم نے اس موضوع کا انتخاب کیا بات کچھ یوں ہے کہ چند روز پہلے 28/01/20 کو سیفی علی خان ایڈووکیٹ نے نجی ٹی وی چینل پر بات چیت کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے ان سے سوال پوچھا گیا کہ آج ہمارے معاشرے میں عدل وانصاف ناپید کیوں ہے تو اس کے جواب میں محترمہ نے کہا انصاف اس وقت ہی ناپید ہوگیا تھا جب جگر گوشہ رسول ﷺ حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہا دربار خلافت میں اپنا حق لینے گئیں تو انہیں ان کے حق سے محروم کرکے عدل وانصاف کا قتل کیا گیا جوکہ اب بروز قیامت ایسا ہی رہے گا اس کے بعد پورے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا اور کوئی اس بیان کے حق میں اور کوئی اس کے خلاف اپنے جوہر کمالات دکھاتا ہوا نظر آیا لیکن افسوس نا ہی کسی نے شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں گستاخی کا نوٹس لیا اور نہ ہی لوگوں کو اس پر رائے زنی سے منع کیا جو صدیق نبی کریم ﷺ کی خاطر مال و جان عزت اور خاندان کی پرواہ نہ کرے اور سب سے پہلے دین حق کی تصدیق کرے کیا وہ جگر گوشہ رسولﷺ یا خاندان نبوت ﷺ میں سے کسی کے ساتھ زیادتی کر سکتا ہے ؟ تو جواب یقیناً نفی میں ہوگا اب آتے ہیں اس حق کی جانب جس کی بنیاد پر یہ موضوع بحث شروع ہوا تو وہ ایک باغ جس کا نام باغ فدک ہے اس کی کمائی نبی کریم ﷺ کو ملتی اور اس سے حضورﷺ اپنا روز بسر کرتے ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یارسول اللہ ﷺ اس باغ کی ملکیت ہمارے نام منتقل کردی جائے جوکہ نبی کریم ﷺ نے نہ کی اور نبی کریم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اس باغ کی آمدن سیدہ فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کو ملنے لگی تو جناب سیدہ نے پھر دربار خلافت میں درخواست دائر کی کہ یہ باغ کیونکہ ہمیں وراثت میں ملا ہے اس لیے اسے ہمارے نام پر منتقل کردیا جائے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے نکار کی بنیاد پر جناب سیدہ سے عرض کی جیساکہ نبی کریم ﷺ اپنی زندگی میں اس کی ملکیت آپ کے نام پر منتقل نہیں کی اور اسے بیت المال کے ہی ملکیت رہنے دیا اس لیے میں بھی یہ کام نہہں کر سکتا تو جواب میں سیدہ فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے معلوم تھا یہ باغ بیت المال کی ملکیت ہے اور اس پر ہمارا حق نہیں ہے یہ مقدمہ میں دربار خلافت میں صرف اس لیے لے کر آئی کہ میرے بعد اس باغ کی ملکیت پر کوئی اور حق نہ جتلائے اور اس کی بنیاد پر لڑائی جھگڑا نہ ہو یہ ہے وہ صدیق جس نے زندگی بھر خدمت اسلام اور خدمت خاندان نبوت ﷺ کی اور مسلمانوں کے خلیفہ اول قرار پائے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں