بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کی سزا ، قومی اسمبلی نے کیا قرارداد پاس کرلی؟؟؟

اسلام آباد ، نیوز ڈیسک

پاکستان کے مختلف اضلاع میں بچوں کیساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر پارلیمنٹ متحرک ہوئی اور آج ایک بڑی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی اور یہ قرارداد یہ تھی کہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کوسرعام پھانسی دی جائے – واضح رہے کہ یہ قرار داد وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں پیش کی-

میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بچوں کوزیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والوں کو سرِعام پھانسی دی جائے – ایوان میں اس قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جب کہ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی گئی۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی، پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں اور سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے ہیں – اسی طرح وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں ملزمان کو سرِعام پھانسی سے متعلق اپنی ہی جماعت کے رکن کی قرارداد کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسندانہ معاشروں میں بنتے ہیں اور یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ بہت مرتبہ کیا گیا تھا جس کے بعد آج قرار داد پیش کی گئی جسے اکثریت رائے سے منظور بھی کرلیا گیا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں