حقوق العباد اور راستوں کے حوالے سے ہمارا کردار!


تحریر، غنی محمود قصوری

کسی بھی مہذب قوم و ملک،خاندان و برادری اور گھر و افراد کا اندازہ اس کے بولنے چالنے،کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے ہوتا ہے ایک مکمل زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنے کیلئے ہر ملک و قوم نے اپنے اپنے قوانین و حقوق بنائے ہیں اور کوئی قوم کس قدر مہذب ہے ان کے بنائے گئے قوانین و حقوق پر عمل پیرا ہونے سے ہی ان کے مہذب ہونے کا پتہ چلتا ہے – دنیا میں ہر ملک و قوم نے اپنے اپنے قوانین و حقوق بنائے ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے پر سزا و جرمانے بھی مقرر ہیں – ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارے دین محمدیہ میں انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں حتی کہ درندوں تک کے حقوق و قوانین بنائے گئے ہیں جس سے اسلام کی حقانیت اور حقوق العباد کی پاسداری کا پتہ چلتا ہے –

ہم روزانہ حقوق العباد کی پامالی کرتے ہیں مگر ہم حقوق العباد میں سب سے زیادہ پامالی راستوں کے حقوق کی کرتے ہیں اور ایسا کرنا ایک فیشن بن چکا ہے ہم ہر روز اپنی گلی محلوں اور بازار میں رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں کبھی یہ رکاوٹیں عارضی ہوتی ہیں اور کبھی مستقل مثلا ہم اپنے گھروں کے باہر سیڑھیوں کے سٹیپ اتنے آگے تک لیجاتے ہیں کہ ہر گزرنے والے کو ذہنی پریشانی اور بعض مرتبہ ان چیزوں سے ٹکڑا کر گر جانے سے جسمانی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے – ایسے ہی عارضی رکاوٹ کے طور پر ہم اپنی بائیک و گاڑی چلتے بازار کے اندر ایسے کھڑی کر دیتے ہیں جس سے دونوں سمت سے پیدل و سواریوں پر گزرنے والے افراد کو ذہنی پریشانی اور اگر کوئی ہماری کھڑی کی ہوئی سواری سے ٹکڑا جائے تو ذہنی کیساتھ جسمانی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ شریعت محمدیہ کے سخت خلاف ہے مذید یہاں تک ہی نہیں اگر کوئی ہماری اس غلطی پر ہمیں سمجھائے تو بجائے سمجھنے کے ہم اس کو گالی گلوچ کیساتھ مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے حالانکہ راستوں پر ہر کسی کا مشترکہ حق ہے مگر ہم اپنی ضد، انا و تکبر میں اپنا اکیلے کا حق سمجھتے ہوئے ہزاروں راہگیروں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں راستوں کی کیا حرمت ہے اس کے متعلق نبی آخر الزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ کی ایک حدیث ملاحظہ کیجئے –

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔ صحیح بخاری 1880
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو ایذا دینا پریشان کرنا گناہ ہے مگر افسوس کہ یہ گناہ ہم ہر روز سرعام کرتے ہیں اور بجائے نادم ہونے کے اپنی انا و ضد میں آئین پاکستان کے مطابق و اسلام کے مطابق بنائے گئے قوانین و حقوق کو محض اپنے تکبر کی خاطر پامال کرتے ہیں اور تکبر کے بارے کیا وعید ہے جانتے ہیں اس حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ صحیح مسلم 265

قارئین کرام ان دونوں احادیث کو ذہن میں رکھ کر اور اللہ سے ڈر کر عہد کیجئے ہم چلتے بازار میں اپنی سواری کھڑی کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کو ذہنی و جسمانی ایذا نہیں پہنچائے گے – ہم اپنے گھروں بلڈنگوں کو راستوں میں شامل کرکے لوگوں کو مستقل ذہنی و جسمانی ایذا نہیں دینگے اور ہم اپنے کھیتوں سے ملحقہ راستوں کو اپنے کھیتوں میں شامل کرکے اور راستے کو تنگ کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کو مستقل ذہنی و جسمانی ایذا نہیں دینگے تاکہ ہماری دنیا کیساتھ ہماری آخرت بھی سنور جائے اور دنیا کو پتہ چلے کہ ہم ایک مہذب قوم ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں