استعماریت۔مزاحمتی تحریکیں اور متبادل بیانیہ ………. ازقلم مہر شفقت اللہ مشتاق

ڈاکٹر ریاض ہمدانی ایک روشن خیال نوجوان افسر ہیں جو اس وقت ڈائریکتر آرٹس کونسل ساہیوال کے عہدہ پر فائز ہیں اور سنجیدگی سے چاہ رہے ہیں کہ پاکستانی قوم سوچنا شروع کردے یہی وجہ ہے کہ ان کی کانفرنسوں کے موضوعات میں فکر کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک کانفرنس کروائی جس کا موضوع تھا استعماریت۔مزاحمتی تحریکیں اور متبادل بیانیہ۔ معروف ادباء نے مقالہ جات پڑھے۔ مجھے بھی انہوں نے ایک نشست جس کا مزکورہ موضوع کی بابت مکالمہ تھا میں مدعو کیا ۔ میں نے اختصار کے ساتھ استعمار کی گرہ کچھ یوں کھولی کہ استعمارانسان کی اس ذہنی حالت کو کہتے ہیں جس کے تحت ایک انسان اپنے ہم جنسوں پر حکمرانی کرنا چاہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بھیانک جنگیں ہوئیں جس کے سبب انسانیت کا قتل عام ہوا۔ معاشی استحصال کی بنیاد پڑی۔ کلچر اور ثقافت کا حلیہ بگاڑا گیا۔اور رسوم و رواج کی سرے سے ہی ہیئیت بدل کر رکھ دی گئی۔
تاریخی طور پر جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل مغرب ایشیا اور افریقہ پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے تھے تاکہ ان کے وسائل سے اپنی حالت بدلی جا جسکے۔ ان مذموم عزائم کی بدولت ہی ایسٹ انڈیا کمپنی معرض وجود میں آئی اور اس نے ہندوستان میں مغل حکومت کا خاتمہ کرکے انگریزوں کی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔
ہندوستان سے خام مال سستے داموں خرید کر برطانیہ میں بھجوایا جاتا اسی طرح افریقہ سے غلام خریدے جاتے۔ خام مال اور سستی لیبر کی بنیاد پر انگلستان کی فیکٹریوں میں مال تیار کرکے مہنگے داموں دنیا میں بیچ کر مال و دولت کمایا گیا۔ یوں کالونیالزم کے تحت استحصال کی حد کر دی گئی ۔ انہیں استعماری جذبات و احساسات کی بدولت دنیا نے دو جنگ عظیم کا بھی سامنا کیا۔مزکورہ جنگوں نے ہی آبادیات سے نو آبادیات کی طرح ڈالی۔ استحصال تو جاری رہا لیکن اس کی شکل بدل گئی۔ اقوام متحدہ معرض وجود میں آیا پھر آئی ایم ایف کاادارہ بنایا گیا۔ ایسے اداروں کا بنیادی مقصد انسانیت کو جنگوں کی حولناکیوں سے بچانا تھا اور غربت کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرنا تھے ظاہری طور پر ان اداروں کے بنانے کا مقصد انتہائی مثبت تھا لیکن بدقسمتی سے چند بڑے ممالک کی اجارہ داری کی بدولت یہ پروگرام اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا۔ ترقی پزیر ممالک سے بھیانک مزاق کیا گیا ایک نئے انداز سے استحصال کیا جانے لگا قرضے دے کر غربت ختم کرنے کے بہانے ایسی ایسی شرائط منوا لی گئیں کہ ترقی پزیر ممالک مکمل طور پر قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے۔ اب کون چھڑوائے ان کی جان۔ آخر مدد کو استحصالی قوتیں ہی آئیں گی اور ایک نئے کردار سے استحصال کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ پٹرول مہنگا۔ آٹا مہنگا۔ چینی مہنگی۔ ٹماٹر دال نمک غرض ہر شے مہنگی ہاں البتہ خون سستا ہو جائیگا کیونکہ تنگ آمد بجنگ آمد۔ اس وڈھ ٹک میں امیر امیر اور غریب غریب تر ہوتا جائیگا استحصال خوب تر ہو جائے گا اور غریب کی صرف آنکھ ہی تر ہوگی لیکن زبان گنگ۔

حالات تو خیر بدلتے ہی رہتے ہیں اور اس استحصال۔ تشدد اور جبر کے خلاف مزاحمت شروع ہوچکی ہے۔ مزاحمتی تحریکوں نے پوری دنیا کے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہوا ہے تو پھر انقلاب کیوں نہ آیا استحصال کا قلع قمع کیوں نہ ہوا۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ استحصال کو ختم کرنے کی بات کرنے والوں نے ہی اس بیانیہ کا استحصال کر ڈالا۔ فائدئے اٹھائے اور ہزاروں ساتھیوں سمیت استحصالی قوتوں کا حصہ بن گئے۔ غریب جانے تے اوہدا کم۔
یہ غریب امیر کی کہانی کب تک چلتی رہے گی جب تک سانس چلتی رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قیامت کا انتظار کرنا چاہئے جب تخت اچھالے جائیں گےاور راج کرے گی خلق خدا۔

مذاحمت مزہبی جماعتوں نے جب شروع کی تو دہشت گردی کا دورشروع ہوا پھر استحصالی قوتوں کے وارے نیارے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بہانے تیل کے ذخیروں پر قبضہ کر لیا گیا۔ دنیا کے تمام مسلم ممالک کی حفاظت کے لئے فوجیں بھیج کر ان کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ کون مسلمانوں کو سمجھائے کہ ہوش کے ناخن لیں اورانکو غیروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ادراک ہونا چاہئے –

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مذہب ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں محمود و ایاز ایک ہی جگہ قیام کرتے ہیں جہاں انصاف کا بول بالا ہوتا ہے اور خاص و عام یکجا دودھ کی نہروں سے مستفید ہوتے ہیں لیکن ایسا تو کسی بھی اسلامی ملک میں نہیں ہو رہا۔ کیا یہ سارا افسانہ ہے۔ کیا عملی اقدامات نہیں لئے گئے یا کوئی دیگر وجہ ہے۔ شاید یہاں بھی مذہب کے علم برداروں نے خود ہی اپنے ہاتھوں مذہب کا استحصال کرڈالا۔ مولوی اور پیر مذہب کے نام پر استحصال کر کے استحصالی قوتوں کا حصہ بن گئے۔ اور مذہب بیچارہ ادیبوں اور شاعروں کے ہتھوں ایک دفعہ تو پٹ کر رہ گیا۔

کاش ہم مولویوں اور پیروں کے مذہب سے کہیں آگے مذہب کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے تو شاید ہماری نظر ریاست مدینہ کے خدو خال پر پڑتی۔ جس میں have اور have notوالے ایک ہی چھت کے نیچے رہنا شروع کر دیتے ہیں جہاں مسلمانوں کا مذہبی راہنما لین دین کے معاملات میں مسلمان فریق کے حق میں ڈنڈی نہیں مارتا بلکہ انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے۔ ریاست مدینہ کے زریں اصول مبنی بر اخلاص بھائی چارہ اور وہ بھی انسانیت کی بنیاد پر اور مبنی بر انصاف لین دین کے معاملات پر ہیں کاش ہمارے اہل عقل ودانش پر واضح ہو جاتا تو اسلام اور مولوی کبھی یکجا نہ کیا جاتا۔ ساہیول آرٹس کونسل میں منعقدہ کانفرس میں راقم الحروف نے اس لئےمتبادل بیانیہ کے ضمن میں ریاست مدینہ کی بات کی تو ایک صاحب کھڑے ہو گئے اور جزباتی ہو کر بولے۔ نہیں چاہئیے ہمیں ریاست مدینہ ہمیں اب مذہب سے نکلنا ہو گا شاید انکو ملک پاکستان میں زیر بحث ریاست مدینہ کے بیانیہ جو کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پیش کیا ہے اس پر بڑا غصہ تھا اس لئے بغیر کسی قومہ فل سٹاپ کے ابا تبا بول گئے۔ خیر ہم بھی مستقل مزاج لوگ ہیں اوپر سے منکسر المزاج بھی ہم نے تھوڑا پیچھے ہٹنا تھا ہم نے عرض کی کاش ہم ریاست مدینہ کی روح کو سمجھتے ہمیں معلوم ہوتا کہ مدینہ میں جب حضور اکرم ص تشریف لائے تو یہاں کا منظر نامہ کیا تھا۔ در حقیقت وہاں اس وقت چار قسم کے گروہ آباد تھے جن میں مہاجر مسلمان۔ انصار مسلمان۔ منافقین اور یہودی قابل ذکر ہیں ان چاروں کو ایک پرامن اور پرسکون ماحول مہیا کرنا بہت بڑا چیلنج تھا اس بنا پر ریاست مدینہ کی بنیاد مبنی بر اخلاص بھائی چارہ اور مبنی بر انصاف لین دین کے معاملات پر رکھی گئی۔لوگوں کو پابند کیا گیا کہ وہ باہمی بھائی چارہ۔ رواداری اور اخلاص کا مظاہرہ کریں اور اپنے درمیان اختلافات کے حل کے لئے اپنی قیادت سے رجوع کریں تاکہ ناانصافی۔ لوٹ مار۔ جبر۔ تشدد اور استحصال کی بیخ کنی کی جا سکے۔ استعماریت کی پہچان تشدد۔ جبر۔ ناانصافی۔ لوٹ مار اور استحصال ہی تو ہے۔ اگر ان برائیوں کا خاتمہ جس انداز سے بانی ریاست مدینہ نے کیا ہے اگر دنیائے عالم کے نام نہاد امن پسندوں کے پاس ایسا طریقہ ہے تو وہ سامنے لائیں اور دنیا میں امن اور انسانی بھائی چارے کو فروغ دیں نہیں تو ریاست مدینہ کا بیانیہ ہی آج کا متبادل بیانیہ ہے جس سے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ رہا جذباتی ہونے کا معاملہ۔ جزباتی ہونے سے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوئے۔ وائے ہم ریاست مدینہ کا ماڈل عملی طور پر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو ہمیں اصلی اسلام اور مولوی کے اسلام میں فرق نظر آتا ہم اپنی راہنمائی کے لئے مغرب کی طرف نہ دیکھتے جہاں سے ہی تو استعماریت کے سوتے پھوٹتے ہیں کاش ہمیں اپنی چیزیں واضح اور صاف نظر آنا شروع ہو جائیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ دین سے مولوی کو علیحدہ کر کے دیکھا جائے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں