آٹو پارٹس کی اہمیت ! ……………………… از قلم تنویر بیتاب

گزشتہ بارہ دن کے لاک ڈاؤن کے دوران بھی کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات ساز اداروں کو کام کرنے کی اجازت تھی کیونکہ ان کے بغیر زندگی کو برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔آج پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے مزید کُچھ انڈسٹریز کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ان ہی میں آٹو پارٹس کا شعبہ بھی شامل ہے ۔

کسی بھی لازمی انڈسٹری کو چلانے کے لئے گڈز ٹرانسپورٹ کو چلانا ناگزیز ہوگا ۔اس کے بغیرنہ تو خام مال انڈسٹری میں پہنچ سکے گا اور نہ ہی تیار شُدہ مصنوعات صارفین تک۔ اس لئے گڈز ٹرانسپورٹ کو چلانا لازم ہوگا اور گڈز ٹرانسپورٹ آٹو ورکشاپس بغیر نہ چل سکے گی ۔ آٹو ورکشاپس کو گاڑیوں کو رواں دواں رکھنے کے لئے آٹو پارٹس کی ضرورت ہوگی ۔ اس بغیر ٹرانسپورٹ کا پہیہ چل نہیں سکتا۔ آٹو پارٹس میں ہی اہم ترین چیز لیڈ ایسڈ بیٹری بھی ہے جس کے بغیر گاڑی سٹارٹ ہی نہیں ہو سکتی ۔

اسی طرح شہروں کے اندر سیلز سٹاف کو رواں دواں رکھنے کے لئے موٹر سائیکل اور موٹر سائیکل لوڈر رکشہ کو چلانا ہی پڑے گا ان کے بغیر نہ تو فوڈ چین چل سکتی ہے اور ہی میڈیسن چین ۔اس کے لئے یہ لازم ہو گا کہ موٹر سائیکل پارٹس کے شعبہ کو بھی کام کی اجازت دی جائے۔موٹر سائیکل پارٹس کی عدم موجودگی میں سیلز سٹاف کی موٹر سائیکلز اور لوڈر رکشوں کو چلانا مُمکن نہ ہو گا۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے سے بچاؤ کے لئے ضروری ہو گا ان شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں سےکرونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ ماسک ، گلوز، سینیٹائزر کا استعمال سختی سے کروایا جائے۔ سوشل ڈسٹنس کے اصول کی سختی سے پابندی کروائ جائے۔خلاف ورزی کرنے والے کو بھاری جرمانہ کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے سے بھی روک دیا جائے۔ اس اقدام سے بہت سے لوگوں کا معاشی مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور گڈز ٹرانسپورٹ کی ضروریات بھی پُوری کرنے میں مدد ملے گی۔وفاق اور باقی صوبوں کو بھی پنجاب حکومت کے اس احسن فیصلہ کی تقلید کرتے ہوئے ضروری انڈسٹریز بشمول آٹو انڈسٹری کھول دینی چاہئیے تا کہ مُلک میں اشیائے ضروریہ کی قلت نہ ہونے پائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں