کرونا وائرس سے مرنیوالے کی تدفین کیسے کرنا ہو گی ؟؟ عالمی ادارہ صحت نے ہدایت کردی

آج کل کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس وقت 12 لاکھ کے قریب افراد کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ کر 60 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اور ان افراد کی تدفین کس طرح کرنا ہو گی یہ ایک بڑا سوال سامنے آیا ہے اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے ایک گائیڈ لاین جاری کی ہے-

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے مطابق لواحقین اور دوست ایک میٹر کی دوری سے جنازے کو دیکھ سکتے ہیں لیکن لاش کو ہاتھ نہیں لگا سکتے نہ ہی چوم سکتے ہیں، جنازہ دیکھنے کے بعد بھی اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھوئیں – اسی طرح یہ بات بھی یقینی بنائیں کہ خاندان کے افراد ہر ممکن حد تک میت سے دور رہیں، بچوں اور 60 برس کی عمر کے افراد کو تدفین میں شرکت نہیں کرنی چاہیے – ایسے افراد جن کو سانس، دل اور ذیابیطس کی بیماری ہے یا جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے ان کو بھی کفن دفن میں شریک نہیں ہونا چاہیے، کم سے کم تعداد میں لوگوں کو تدفین میں شرکت کرنی چاہیے اور دور سے دیکھنے والوں کو بھی کم سے کم 1 میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ تدفین بروقت مقامی طریقوں کے مطابق کی جانی چاہئے، تدفین کے بعد کی تقریبات، وبا کے خاتمے تک ملتوی کردی جائیں – مردہ کو غسل دینے والے شخص کو ہاتھوں میں دستانے پہننے چاہئیں، پانی کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے طبی ماسک پہننا چاہیے اور آنکھیں بھی ڈھانپنی چاہئیں، مردہ کو غسل دینے کے بعد پہنے ہوئے کپڑے فوراً ہٹادیں اور اچھی طرح سے دھو لیں اور اگر کسی اور شخص نے کفن دفن کے دوران مدد کی ہے تو دوسرے شخص کو بھی تدفین کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے – اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت خصوصی طورپر کی گئی جس پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا کہ طبی عملہ، مردہ خانہ کا عملہ اور تدفین کرنے والے گورکن احتیاطی تدابیر اپنائیں، مردے کو ہاتھ لگانے سے پہلے دستانے پہنیں، طبی ماسک کا استعمال کریں، مردہ کے جسم کی نقل و حرکت کم سے کم رکھیں، لاش کو کپڑوں میں لپیٹ کر اسے جلد سے جلد مردہ خانے میں منتقل کریں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کورونا وائرس سے مرنے والوں کے پھیپھڑوں اور دوسرے اعضا میں کورونا موجود ہوتا ہے، پوسٹ مارٹم کم سے کم افراد کو کرنا چاہیے، پوسٹ مارٹم کرنے والے افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، جس میں حفاطتی گاؤن، دستانے، چہرے کی حفاظتی ڈھال اور چشمہ شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں