انڈسٹری کا مشروط اجازت سے چلنا ممکن نہیں ، سائزنگ ایسوسی ایشن نے کیا واضح کر دیا؟؟؟

فیصل آباد (ثناء رؤف رانا)

حکومت کی جانب سے دی گئی مشروط اجازت سے انڈسٹری کا چلنا ممکن نہیں۔تمام کاروباری مراکز کو دوپہر ایک بجے سے لے کر شام چھ بجے تک روزانہ بھر پور طریقے سے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس عمل سے انڈسٹری اپنا میٹریل خریدنے تنخواہیں سرکاری واجبات ادا کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ نیز ٹیکسٹائل سیکٹر میں زیرو ریٹ پالیسی کو بحال کا جائے اور لاک ڈاؤن کے بعد 2020 کو آفت کا سال قرار دیتے ہوے اس میں تمام ٹیکسز بھی ہٹا دیے جایں –

ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل سائزنگ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس میں کیا جس میں چیئرمین شکیل احمد انصاری،سینئر وائس چیئر مین حاجی طالب حسین رانا اور وائس چیئرمین میاں محمد اجمل شامل تھے جن کا مشترکہ طور پر یہ کہنا تھا کہ کورونا کے باعث تمام تاجر، دکان دار، تنخواہ دار، دہاڑ ی دار اور مزدور طبقہ بری طرح متاثر ہیں ۔جولائی 2019 کو ایف بی آر نے 17% سیلز ٹیکس کا نفاذ کیا تھا جس سے مہنگائی کی شرح میں تو اضافہ ہوا مگر محکمہ ریونیو اکٹھا کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا۔وزیراعظم نے سیلز ٹیکس کا نفاذ کرتے وقت اس تجربہ کی ناکامی پر ٹیکسٹائل سمیت پانچ زیرو ریٹیڈ انڈسٹری کو دوبارہ زیرو ریٹ کرنے کا کہا تھا لہذا انڈسٹری کو بچانے کے لئے اسے بحال کیا جائے۔ نیز ایکسپورٹ انڈسٹری کے ساتھ لوکل انڈسٹری کو جو ریفنڈ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی فی الفور پورا کیا جائے۔جن اداروں کے آر پی او جاری ہو گئے ہیں ان اداروں کو فوری پیمنٹ کروائی جائے۔اور کے تاحال جاری نہیں ہوئے وہ بھی جاری کروائے جائیں۔

سال2020 کو آفت کا سال قرار دے کر تمام سرکاری ٹیکسوں کو ایک سال کے لیے مؤخر کیا جائے۔ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد تمام انڈسٹریل یوٹیلٹی بلز کو آسان اقساط میں وصول کیا جائے۔اکثر سائزنگ و پاورلومز مالکان ایسے ہیں جو یوٹیلیٹی بلز ہی ادا نہیں کر سکے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری اپیل ہے لاک ڈاؤن کو نرم کر کے تمام کاروباری مراکز کو حکومتی حفاظتی تدابیر کے مطابق کھولنے کی اجازت دی جائے وگرنہ کسی بھی وقت بھوک کی وجہ سے شدید لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں