پولیس کانسٹیبل نے حافظ قرآن طالب علم کو گولی ماردی ، کس بات کو ماننے سے انکار کیا تھا؟؟

قصور ، نیوز ڈیسک

ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں پولیس کانسٹیبل نے مبینہ طورپر برائی پر راضی نہ ہونے پر ایف ایس سی کے حافظ قرآن طالب علم کو گولی مار دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا –

میڈیا رپورٹس کے مطابق طالب علم حافظ سمیع الرحمٰن کے قتل کا واقعہ چونیاں کے قصبے کھڈیاں میں پیش آیا – اس حوالے سے امام مسجد قاری خلیل الرحمٰن اور ان کی اہلیہ نے روتے ہوئے میڈیا کو بتایاکہ ان کا بیٹا سمیع الرحمٰن نماز فجر کے لیے مسجد جا رہا تھا کہ معصوم نامی کانسٹیبل نے اسے روک لیا اورکہاکہ میری بات مانو ورنہ گولی مار دوں گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول کے چھوٹے بھائی کے سامنے یہ سارا واقعہ ہوا، مقتول نے انکار کیا تو ملزم نے اسے قتل کر دیا – پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکےمقدمہ درج کر لیا، مقتول کے والدین نےمطالبہ کیاہےکہ ملزم کومقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلاکر کیفر کردار تک پہنچایا جائے –

واضح رہے کہ واقعہ کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غصہ پایا جارہا ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں