سرکاری سکول کھلنے کے بعد سوشل ڈسٹنس رکھنا ممکن نہیں، کتنے ہزار کمرے چاہیے؟؟

فیصل آباد ، علی رومان حسن

فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد سرکاری سکولوں میں سوشل ڈسٹنس رکھنا ناممکن، فیصل آباد کے سرکاری سکولوں میں کورونا وائرس کے ایس او پیز کے مطابق طلبہ کو بٹھانے کیلئے کمرے ہی دستیاب نہیں۔۔ سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھا جائے تو فیصل آباد کے سرکاری سکولوں میں کم از کم دس ہزار مزید کمرے بنانے کی ضرورت ہے۔۔ ایک طالب علم کی جگہ چھوڑ کر بٹھانے پر سرکاری سکولوں میں کم سے کم چار لاکھ بچوں کو سکول کھلنے پر کلاس رومز کے باہر بیٹھنا پڑے گا۔

فیصل آباد کے دو ہزار 209 سرکاری سکولوں میں آٹھ لاکھ سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں جن کیلئے پہلے ہی محکمہ تعلیم فیصل آباد کی طرف سے پنجاب حکومت سے ایک ہزار کمروں کی تعمیر کی ڈیمانڈ کی گئی ہے۔۔ لیکن اب کورونا وائرس کے ایس او پیز کے بعد جب سکول کھلیں گے تو سرکاری سکولوں میں سوشل ڈسٹنس کے مطابق طلبہ کو کلاسز میں بٹھانا ناممکن ہوجائے گا۔ کیونکہ ضلع بھر کے سرکاری سکولوں میں کورونا وائرس کے ایس او پیز کے مطابق طلبہ کو بٹھانے کیلئے کمرے ہی دستیاب نہیں ہیں۔

سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھا جائے تو فیصل آباد کے سرکاری سکولوں میں کم از کم دس ہزار مزید کمرے بنانے کی ضرورت ہے۔ کورونا ایس او پیز کے مطابق ایک کلاس میں طلبہ کو ساتھ ساتھ بٹھانے کی ممانعت ہوگی۔ کلاس روم میں ایک طالب علم کی جگہ چھوڑ کر بٹھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ سوشل ڈسٹنس کے باعث کم سے کم چار لاکھ بچوں کو سکول کھلنے پر کلاس رومز کے باہر بیٹھنا پڑے گا۔ سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان کہتے ہیں کہ سکول کھلنے پر جیسے ممکن ہوا بچوں کو سوشل ڈسٹنس کے تحت بٹھائیں گے۔ کمروں کی کمی تو ہے لیکن سکول کھلنے پر حکومت کی ڈائریکشن پر کام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں