ویلڈن فیصل آباد ………… کلین اینڈ گرین پاکستان انڈکس میں کتنے نمبر پررہا؟؟


تحریر، محمد اویس عابد

ضلع فیصل آباد نے کلین اینڈ گرین پاکستان انڈکس میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور پنجاب کے چھ بہترین اضلاع میں فیصل آباد کا نام شامل ہونا جہاں انتظامیہ کے لئے اعزاز کی بات ہے وہاں اس کا کریڈٹ شہریوں کو بھی جاتا ہے جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کی کال پر لبیک کہتے ہوئے شجرکاری،صفائی ستھرائی کو قائم رکھنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔فیصل آباد کے متحرک ڈپٹی کمشنر محمد علی عنقریب اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیر اعظم عمران خان سے کلین اینڈ گرین انڈکس کا انعام حاصل کریں گے جبکہ ضلع کے لئے فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے جو کہ بلاشبہ فیصل آبادیوں کے لئے تحفہ ہے –

یاد رہے کہ کلین اینڈ گرین پاکستان انڈکس کے تحت صوبہ پنجاب کے 20 اضلاع کے مابین مختلف انڈکس کا مقابلہ ہوا جس میں زمینی حقائق کو دیکھ کرنتائج میں فیصل آباد کا بہترین اضلاع میں انتخاب ہوا۔اگر ہم نظر ڈوائیں تو کلین اینڈ گرین پروگرام میں ضلع میں سات لاکھ سے زائد پودے لگا کر ان کی آبیاری کی جارہی ہے اسی طرح پارکوں کی تزئین وبحالی کے ساتھ عوامی مقامات پرکلر کوڈڈ ڈسٹ بین نصب کرائے گئے ہیں جبکہ سٹرکوں کے 1200 کلومیٹر میڈین کو کلین کرنے کے علاوہ ایگزیکٹو پبلک ٹائلٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ حکومت کے کلین اینڈ گرین پروگرام کو آئند بھی کامیاب بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

ڈپٹی کمشنر محمد علی نے فیصل آباد کے انتخاب پر ضلعی محکموں کے افسران،سول سوسائٹی،میڈیا نمائندگان اور مخیر حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شہرکو کلین اینڈگرین کا درجہ قائم رکھنے میں اپنا اہم اور مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبے کے خدوخال کو دیکھا جائے تووزیر اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے عوامی بہبود اور تعمیروترقی کے لئے مثبت تبدیلی کے جس سفر کا آغاز کیااس مقصد کے لئے پاکستان کو سنوارنے اور عوام کا معیار زندگی سدھارنے کے لئے جومتعدد پالیسیاں متعارف کرائی ہیں ان میں ماحول کوصاف ستھرا رکھنے کا پروگرام بھی شامل ہیں۔موجودہ حالات میں ماحول کو ہمہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ گلوبل وارمنگ کے باعث موسم بدل رہے ہیں جس کی بیشتر وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے لہذا اس وقت ماحول کو محفوظ بنانا ناگزیر ہے جس کے لئے صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر شجرکاری کی بھی ضرورت ہے کیونکہ درخت نہ صرف ماحول کو صاف رکھنے کے سلسلے میں قدرتی مشین کاکام کرتے ہیں بلکہ بارشوں،آندھیوں اور زیادہ گرمائش کے نقصانات سے بھی بچاتے ہیں پاکستان کو جہاں بعض معاشی وسماجی مسائل کا سامنا ہے وہاں صحت کے تحفظ اور زندگی کی بقاء کے لئے ماحولیاتی آلودگی بھی ایک گھمبیر مسئلہ ہے جس کا ماضی کی حکومتوں نے ادراک نہیں کیا۔وزیراعظم عمران خان نے منصب سنبھالتے ہی نئے پاکستان کے لئے جن انقلابی وانسدادی اقدامات کا اعلان کیاہے۔ان میں گرین پاکستان پروگرام کا آغاز ایک اہم اورانقلابی قدم ہے جوصاف ستھرے ماحول کے احساس اوراس کلچر کو پروان چڑھانے کے بارے میں عمدہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں ”کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام“کو جاری وساری رکھا ہوا ہے۔اس پروگرام میں علاقائی صفائی ستھرائی،تجاوزات کا خاتمہ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری شامل ہے۔اس سلسلے میں یہ مہم پنجاب بھرمیں پورے جوش وجذبے سے جاری رہی اور خاطر خواہ حد تک اہداف حاصل کرلئے گئے ہیں۔

پنجاب بھر میں کچی اورپکی تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف لاکھوں ایکڑ سرکاری زرعی اراضی ناجائز قابضین سے واگزار کرائی گئی ہے بلکہ شہری ودیہی علاقوں میں گزرگاہوں،مارکیٹیوں،گرین بیلٹس،پارکوں،قبرستانوں اور دیگر عوامی مقامات سے رکاوٹوں اور تجاوزات کو ختم کردیا گیا ہے جس کی بدولت عوام کو آمدورفت میں کشادہ ماحول میسر آیا ہے۔اس سے قبل اتنے بڑے پیمانے پر تجاوزات کے خلاف مہم شروع نہیں کی گئی اور لینڈ مافیا بے قابو ہوگیا تھا لیکن قبضہ مافیا کے خلاف موجودہ حکومت کی حکمت عملی نہایت کامیاب رہی ہے۔اس ضمن میں خالی گرائی گئی زمینوں کو مفاد عامہ میں استعمال کرنے کے لئے بھی پالیسی وضع کرلی گئی ہے تاکہ ایسی زمینوں کو غیر محفوظ چھوڑنے کی بجائے انہیں عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے لئے بروئے کار لایا جائے جوکہ قومی وسماجی ترقی کی جانب بہتر قدم ہے۔اس پرورگرام کے تحت شجرکاری کیلئے تمام طبقات کو متحرک کیاگیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار دستیاب جگہوں پرمفید اور پائیدار درخت لگائے جارہے ہیں۔شجرکاری کی یہ مہم صرف محض رسم نہیں بلکہ اسکو نتیجہ خیز بنانے کے لئے حقیقی بنیادوں پر کوششیں جاری ہیں جس کی بدولت ان پودوں کی نشوونما کرکے سرسبز وشاداب ماحول پروان چڑھایا جائے گا۔شجرکاری کا یہ سلسلہ عزم وہمت سے جاری رہے گا۔کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام میں صفائی ستھرائی بھی اہم عنصر ہے جس کے لئے محکمانہ اقدامات کسی انقلاب سے کم نہیں کیونکہ وسیع پیمانے پر صفائی ستھرائی کی یہ مہم محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کی زیرنگرانی اس انداز میں جاری ہے کہ اس کے ثمرات شہروں سے نکل کر دیہاتوں تک بھی پہنچے۔

شہری علاقوں میں صفائی کے نظام کومزیدمربوط بنایا گیا ہے اس ضمن میں بڑے شہروں میں فرائض انجام دینے والی ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز،میونسپل کارپوریشنز،پی ایچ اے اورواسا کے مابین کوآرڈینیشن سے سیوریج کی گندگی،پودوں کی کانٹ چھانٹ کی باقیات اور تجاوزات کو ہٹانے کا ملبہ، دیگر نوعیت کی گندگی اور کوڑا کرکٹ کو اٹھانے کی بہتر حکمت عملی سے صفائی کے حوالے سے اچھی کارکردگی سامنے آرہی ہے۔کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام بلاشبہ حکومت پنجاب کا ایک احسن اورمفید اقدام ہے جس پر عمل درآمد سے سرسبز اورصاف ستھرا ماحول میسر آرہا ہے لیکن حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ یہ کمیونٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا اہم کردارجاری رکھیں۔ایک اسلامی معاشرے میں گندے ماحول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دین اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے اور صفائی میں ہی خدائی ہے۔سماجی ترقی اور عوامی بہبود کا کوئی بھی منصوبہ ہو اسے عوامی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں بنایا جاسکتا لہذا اگر شہری اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بھی نکھارآتاہے۔ اس ضمن میں معاشرتی رویوں،عادات واطوار کوبدلنے کی ضرورت ہے۔ماحول صاف ستھرا رکھنے کے لئے جذبہ بیدار ہونا ناگزیر ہے کیونکہ آئندہ نسلوں کو ہم نے صاف ستھرا ماحول اورمہذب معاشرہ دینا ہے۔اگر ہم کھانے پینے کی اشیاء کی ویسٹ سڑکوں پر نہیں پھینکیں گے بلکہ خالی بوتلیں،شاپر یا دیگر اشیاء کوڑا دان تک پہنچائیں گے تو دوسرے اس اچھے طرز عمل کو دیکھ کر ترغیب حاصل کریں گے اسی طرح معاشرہ بدل جائے گا کیونکہ جب گندپھیلانے والوں کے خلاف ناگواری کا احساس ہوگا تو وہ خود اس حرکت سے رک جائیں گے لہذا ہمیں صفائی پسند کلچر پروان چڑھانا ہے جس طرح ہم گھروں میں صفائی کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح گلی محلوں وشہروں میں بھی صاف ستھرے ماحول کو برقرار رکھنا ہے۔
۔۔۔///۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں