ڈاکٹراظہار احمد گلزار کی یادیں ۔۔۔۔۔۔۔ ماضی کے جھروکوں سے

*خودنوشت : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار*

اپنے تعلیمی سفر کے آٹھ سال ۔۔اول تا ہشتم تک میں اس لالٹین کی روشنی میں پڑھتا رہا ہوں۔ روزانہ شام کو لالٹین کا شیشہ صاف کرنا میرے بچپن کا معمول ہوتا تھا ۔۔شام ہوتے ہی میرے ایک پسماندہ سے گاؤں 87 گ ب بابے دی بیر میں یوں خاموشی چھا جاتی تھی ۔۔جیسے یہاں کوئی رہتا ہی نہ ھو ۔۔یہ لالٹین ہمارے ماموں جان حوالدار رانا محمّد سرور مرحوم جو فوج میں ملازم تھے اور اپنی کوئٹہ میں پوسٹنگ کے دوران انھوں نے لا کر دی تھی ۔۔اس وقت چائنا کی یہ لالٹینیں لوگ فرمائش کرکے کوئٹہ سے منگوایا کرتے تھے ۔۔

قرب ؤ جوار کے دیہات بجلی کی چکا چوند سے جگمگایا کرتا تھے ۔ پر ہمارے گاؤں میں لالٹین جلتی تھی۔ ہر شام پرانی لالٹین کا شیشہ کوئلوں کی راکھ سے چمکا کر نیا کر دیا جاتا تھا۔ کوئلوں کی راکھ کا قصہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں گیس بھی نہیں تھی۔ گیس کا تو ہم نے نام بھی نہیں سنا تھا ۔۔ اپنے بچپن میں ہم نے جتنے چٹخارے دار، مزے دار اور لذیذ کھانے کھائے ہیں، سب کوئلوں، گوبر کے اپلوں یا لکڑی کے گٹکوں کی دھیمی دھیمی آنچ پر پکے ہوئے ہوتے تھے۔ جو لوگ قدرے بہتر مالی حالت رکھتے تھے وہ مٹی کے تیل کے چولھے خرید لیتے تھے۔ ویسے شاید ہی کوئی اکا دکا گھر ہو گا ۔۔۔ غرض، کوئلوں کی راکھ سے لالٹین کا شیشہ چمکا کر مغرب کی اذان کے ساتھ ہی اسے روشن کردیا جاتا تھا۔ ابتدائی جماعتوں کی تمام تعلیم، اور ثانوی تعلیمات کی ایک بڑی مدت، اسی روشنی میں تمتماتے چہروں کے ساتھ مکمل کی۔ تفصیلات تو بہت ہیں، کتنی بیان کریں؟ مگر سچ پوچھیے تو وہ زمانا بڑا سہانا زمانا، اور … ’مہکتا، میٹھا، مستانا زمانا‘ … تھا ۔۔۔ لوگ رات کا کھانا عصر کی نماز کے ساتھ ہی پکانا شروع کر دیتے تھے ۔۔ صفائی ستھرائی سے فارغ ہو کر خواتین پہلے جھاڑو دیتی تھیں ۔۔پھر نماز ادا کر کے چار پائیوں پر بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتیں ۔۔۔ پھر گھر کے ایک کونے میں اونچے تھڑے کے باورچی خانہ میں مائیں رات کی ہانڈی پکانے میں مصروف ہو جاتیں ۔۔۔کہیں مٹی کی کونڈی میں سرخ مرچیں رگڑی جا رہی ہیں تو کہیں لہسن اور ہلدی کو پسا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔

گاؤں میں پختہ سڑکیں نہیں ہوتی تھی ۔۔بارش کیا ہوئی ، کہ نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔۔ساون بھادوں میں تو چولہے میں جلانے کے لئے لکڑی کا بالن یا ایندھن اکٹھا کرنے کی فکر بہت دامن گیر ہوتی تھی۔۔جانوروں کے گوبر کے اپلے یا لکڑیوں کو کاٹ کر اس کے گٹھے بنا کر چارپائیوں کے نیچے سنبھالنا اہم کام ہوتا تھا ۔۔۔۔۔کیوں کہ کئی کئی دن ، اور کئی کئی ہفتے جاری رہنے والی بارشوں میں سب سے بڑا مسئلہ جلانے کے لیے لکڑی کے ایندھن کا ہوتا تھا ۔۔۔۔اس کے علاوہ کچے بازاروں اور گلیوں کے درمیان کیچڑ میں چلنا محال ہو جاتا تھا ۔۔۔۔۔ میں اپنے بچپن میں جب چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک نواحی گاؤں چک 258 ر ۔ ب لمبا پنڈ میں پڑھتا تھا ۔۔۔اس وقت جب شدید بارشیں ہوتیں تو ہمیں دوسرے دیہات کی پگ ڈنڈیوں سے ہوتے ہوۓ پیدل لمبا پنڈ کے مڈل اسکول تک جانا پڑتا تھا ۔۔۔۔تو انھی راستوں میں سے گزر کر کھیتوں کھلیانوں کی پگ ڈنڈیوں پر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوے اپنے اسکول کی طرف بڑھنا پڑتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔واضح رہے کہ اس وقت ان دیہات نے ترقی کی منازل اتنی طے نہیں کیں تھیں ۔۔ جتنی آج طے کیں ہیں ۔۔ ۔۔۔۔۔

میرے ساتھ اس وقت پڑھنے والوں میں میرے کزنز تایا زاد اور چچا زاد بھائی بھی ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکول کے اس دور میں راقم ( اظہار احمد گلزار) کے ساتھ ابرار احمد ، الطاف احمد ، اشتیاق احمد ، ذوالفقار احمد بھی ہوتے تھے ۔ بجلی نہ ہونے سے گھروں میں ٹائلٹ نہیں ہوتے تھے ۔۔۔عورتیں اور مرد رفع حاجت کے لیے قریبی کھیتوں میں اپنی ضرورت پوری کرنے جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔خواتین کو یہ ضرورت رات کے پہلے پہر پوری کرنا ہوتی تھی جبکہ مرد دن کے کسی بھی پہر کھیتوں میں اپنی رفح حاجت کے لیے جا سکتے تھے ۔۔۔۔عورتوں اور مردوں کے لیے دو علیحدہ علیحدہ حصے مخصوص تھے ۔۔۔کوئی مرد عورتوں کے حصے والے کھیتوں میں نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔۔۔عورتیں سر شام ہی اس فرض سے سبکدوش ہونے کے لیے ہاتھوں میں ایک ایک پانی کا بھرا لوٹا پکڑ کر کھیتوں کی جانب چل پڑتی تھیں ۔۔۔۔۔گاؤں کے چند خادم خلق لوگوں نے اپنی زمین اور کھیتوں کو گاؤں کی بہنوں ، بیٹیوں اور ماؤں کے لیے مخصوص کر رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔اس وقت لوگوں کی آنکھوں میں شرم و حیا ہوتی تھی ۔۔۔سب کی عزتیں سانجھی ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔یہ تمام محرومیاں بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے تھیں ۔۔۔۔۔ہاتھوں کے ساتھ منج کے پنکھے ، پنکھیاں گھما گھما کر لوگ گرمی کی جیٹھ ، ہاڑ اور ساون بھادوں کی دم گھٹنے والی گرمی اور تپتی لو میں دن گزارتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یا پھر درختوں کی نیم چھاؤں میں سارا سارا دن خوش گپیاں لگا کر دن گزار لیتے تھے ۔۔۔۔۔

محرومی اور تکلیفوں کا احساس اس لیے نہیں ہوتا تھا کہ سب ایک جیسے طرز زندگی میں جی رہے تھے ۔۔۔۔۔
بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جب میں چار کلو میٹر کی مسافت سے اپنی بائی سائیکل چلا کر اپنے گاؤں آتا ۔۔تو میری والدہ کہتی کہ جا کر بابے مسے کی دکان سے اٹھانی کی برف لے آؤ ۔۔۔۔ جب میں باب مسے کی دکان پر برف کے لیے پہنچتا تو وہ ایک گڑھے سے گندم کے بھوسے میں چھپائی ہوئی برف سے ایک ڈلی برف مجھے دے دیتا ۔۔۔۔۔نہ موٹر ہوتی تھی نہ فریج ہوتے تھے نہ پنکھے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔نا فلیش ٹائلٹ ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔زندگی خراماں خراماں گزر رہی تھی۔۔۔ (آٹھویں کے بعد میرے ابّا جان مجھے اپنے ساتھ شہر لے آے تھے )۔
لوگ شام ہوتے ہی اپنی اپنی لالٹینوں میں تیل ڈھلواننے کے لیے دکانوں کا رخ کر لیتے تھے۔ مجھے جب بھی کبھی اپنے لالٹین میں پڑھنے کا دور یاد آتا ہے ۔۔۔تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہے ۔۔۔اللہ تبارک و تعالی کے بے پایاں انعام و اکرام کا بے حد شکر گزار ہوں ۔۔جس نے تاریکی کی زندگی سے روشنی کی طرف مجھے جینے کے مواقع عطا کیے ۔۔اللہ تعالی کا بے پایاں نام اکرام ہر وقت میرے اوپر سایہ فگن رہتا ہے ۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک انعام ۔۔۔میں اللہ تعالی کا شکر ادا ہی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔

میں جب کبھی اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے ہمیشہ ہی تو وہ تمام محرومیاں میرے سامنے ایک ایک کر کے کھڑی ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔میں اپنے ماضی کو نہیں بھولتا ۔۔۔اور اپنے ماضی سے ہر وقت جڑا رہتا ہوں ۔۔۔
میں اپنے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں اور اپنے والد کی بلندی درجات اور والدہ محترمہ کی درازی عمر کی دعا ہر وقت میرے لبوں پر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔جنہوں نے مجھے علم کی شمع سے بہروور کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں ۔۔۔اور مجھے تعلیم کے آخری مدارج تک پہنچا کر پی ایچ -ڈی تک تعلیم دلوائی ۔۔۔۔۔یہ سب میرے والدین کی دعاؤں اور فیضان نظر کا کمال ہے کہ آج میں ایک باعزت زندگی گزار ہوں اور علم سے مالا مال ہوں۔ ۔۔دوسروں کی مدد کے لیے اپنے آپ کو ہمہ وقت مستعد رکھتا ہوں ۔۔

آج اللّه کے فضل سے بجلی نے قریہ قریہ روشن کر دیا ہے۔ ۔پکی سڑکوں کے جال بچھ گئے ہیں ۔۔ہل کے بیلوں کی جگہ ٹریکٹر آ گئے ہیں۔ ۔۔جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبہ میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔۔۔
یہ کے لالٹین الیکٹرک کی طرح دھوکہ نہیں دیتی ۔۔۔ساتھ دیتی ہے ، جب اسکی طاقت جواب دینے لگتی یے تب بھی آہستہ آہستہ اور بتاکر جاتی ہے، تیل کے آخری قطرے تک وفاداری نبھانے کا نشان جو اپکے گھر میں ایک فیملی ممبر کی طرح رہ کر تھوڑا سا تیل پی کر سارے گھرانے کو روشن رکھتی تھی اور ایک زمانے تک علم کی روشنی اسی کی روشنی میں ملتی رہی ہے ۔۔۔
اپکے علاقے میں بجلی نہیں یے یا بار بار جاتی یے تو لالٹین سے دوستی کیجیئے ۔۔۔چوری کی بجلی ،کنڈے سے دور رہیئے اس سے بجلی مل سکتی یے روشنی نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں