کراچی انڈر ورلڈ یا مسائلستان ………. اورنگزیب اعوان کے قلم سے

شہر کراچی جس کو کبھی پاکستان کا کاروباری مرکز تصور کیا جاتا تھا. آج دہشت گردی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے. کبھی لوگ ملک بھر سے کاروبار کی غرض سےیہاں تشریف لاتے تھے. آج نوبت یہاں تک پہچ گئی ہے کہ کاروباری و عام لوگ دہشت گردی، بھتہ خوری کے خوف سے یہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں. یہ صورتحال کسی بھی طرح سے ملکی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں ہے. یہ تمام صورتحال سیاسی جماعتوں کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کی بدولت ہے. سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سبقت و برتری کے چکر میں بڑھ چڑھ کر ان دہشت گرد تنظیموں کی مالی و سیاسی ہر طرح سے بھرپور حمایت کرتی ہیں. جس سے ان مٹھی بھر عناصر کے حوصلے اس قدر بڑھ جاتے ہیں. کہ وہ کسی ملکی قانون کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے.ایک ایک شر پسند نے درجنوں معصوم شہریوں کا قتل عام کیا ہوا ہے. اور وہ بڑھے فخر سے چل پھر رہے ہیں. ہر سیاسی جماعت ان کو اپنی چھتر چھایا میں لانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے. ان سے خفیہ ملاقاتیں کی جاتی ہیں. بلکہ الیکشن میں جیتنے کے لیے ان کے در پر حاضری دی جاتی ہے. صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ کسی بھی سیاسی پارٹی کو اپنی مخصوص شدہ شرائط کے تحت اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرواتے ہیں. اس لیے ہر آنے والی حکومت ان کے سر پر اپنا دست شفقت رکھتی ہے. آج جس جے آئی ٹی رپورٹ کے چرچے ہر سو ہے. اس نے تو ہر سیاسی جماعت کے چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے. سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیو ایم مکمل طور پر بھتہ خوری میں ملوث پائی گئی ہے. جس نے محض بھتہ نہ دینے پرفیکڑی کو آگ لگا کر. کئ سو معصوم افراد کو زندہ جلا دیا. اور اسےایک حادثے کا رنگ دے دیا . مگر اب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کے مکرو چہرے کو پاکستانی عوام کے سامنے عیاں کر دیا ہے. جس پر بجائے شرمندگی کے وہ بڑی ہی ڈھٹائی سے وفاقی حکومت میں اہم وزارتوں کے مزے لے رہے ہیں. اس سے بڑھ کر اس ملک کے ساتھ اور کیا مزاق ہوگا. کہ اس دہشت گرد جماعت کے خلاف جس ملکی قانون کے تحت کاروائی کی جانی چاہیے . اس کا سربراہ اسی جماعت کا ایک رکن ہے. واہ رے تبدیلی.

وزیراعظم عمران خان کی نظر میں کل تک یہ لوگ غدار تھے. جو آج انتہائی نفیس لوگ بن گئے ہیں. اب وہ ان تعریف کرتے نہیں تھکتے. اقتدار کی ہوس بھی انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے. محض حکومت کو قائم رکھنے کی غرض سے نہ چاہتے ہوئے بھی دہشت گرد لوگوں کو ساتھ بیٹھانا پڑتا ہے. اسی طرح سے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی سنسنی خیز انکشافات کی بھرمار ہے. اس کے مطابق ہر سیاسی پارٹی نے اسے اپنی جماعت میں شامل ہونے کی پیشکش کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس شخص نے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کیے ہیں. پاکستان پیپلز پارٹی تو شروع دن سے اس کی سرپرستی کررہی تھی. جس کا اعتراف اس وقت کے وزیر داخلہ سندھ ذوالفقارعلی مرزا نے برملا الفاظ میں کیا تھا کہ عزیز بلوچ میرا بچہ ہے. ہم اس کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتے.اس کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے متعدد سینیٹر ترین رہنما نے اس سے ملاقات کی. اسی طرح سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما نے بھی اسے اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے کیے جتن کیے. شاید بات بن بھی جاتی. مگر چند نقاط پر بات بگڑ گئی. یا شاید اس سے اچھی آفر پاکستان تحریک انصاف نے اسے کر دی تھی . جس کو اس نے قبول کرتے ہوئے الیکشن 2018 میں اس کی مکمل سپورٹ کی. بلکہ کراچی میں حکومت مخالف دھرنوں کے دوران بھی اسے افرادی قوت فراہم کی. اب یہ اسی بات کا شاخسانہ ہے کہ علی زیدی اس کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئے ہے. جیسے ہی عزیر بلوچ کے خلاف کیسوں میں تیزی سے پیشرفت ہونا شروع ہوئی ہے. پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بھی اس کے خلاف بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کو متنازع بنانے کے لیے سر جوڑ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں . گزشتہ چند روز سے تمام میڈیا چینل پر اسی پر بحث مباحثہ ہو رہا ہے. کبھی کسی کی وڈیو لیک کر دی جاتی ہے کہ فلاں فلاں نے ہماری مدد کی. اسی وڈیو میں صدر عارف علوی، علی زیدی سے ملاقاتوں کا بھی احوال شامل ہے. مگر حکومت وقت صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی کردار کشی پر لگی ہوئی ہے. اسے اپنی اصلاح کی بھی ضرورت ہے. اس کو چاہیے کہ فی الفور حکومت میں موجود ایسی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرے. یہ رپورٹ ان کے خلاف ایک جارج شیٹ ہے. اس سے ایک بات تو کلی تو پر ثابت ہوتی ہے کہ تمام کی تمام ملکی سیاسی قیادت صرف اور صرف اپنے اقتدار کے بارے میں فکر مند نظر آتی ہے اسے عوام سے کوئی سروکار نہیں.

ان سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایسی ایسی ڈرامہ بازی رچائی جاتی ہے.جسے دیکھ کر عوام کی عقل دنگ رہ جاتی ہے. حکومت وقت ان جے آئی ٹی رپورٹس پر کچھ نہیں کرنا چاہتی. مگر انہیں اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے. اگر واقعی یہ کچھ کرنا چاہتی ہے. تو اسے کس نے روکا ہے.اور تمام ملکی ادارے بھی اس کے ماتحت ہیں. شاید اس طرح کرنے سے ان کی اپنی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا. عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام شامل ہیں. جو اس وقت بھی اس حکومت میں اہم عہدوں پر تعینات ہیں. اسی طرح سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ میں مکمل طور پر ایم کیو ایم کو مرد الزام ٹھہرایا گیا ہے.اس رپورٹ میں تو کوئی ابہام نہیں ہے تو حکومت کو چاہیے کہ اس پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کا آغاز کرے تاکہ اس ہولناک سانحہ کے نتیجہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے افراد کے ورثاء کو تو انصاف کی فراہمی یقینی ہوسکے. اس سے آپ کی نیک نیتی کا اندازہ ہوگا. مگر آپ نے تو صرف اور صرف عوام کو ماموں بنانے کے لیے محض بیان بازی سے کام لینا ہے. اگر حکومت کی نیت لوگوں کو انصاف کی فراہمی ہوتو پھر بیان نہیں عمل کرکے دکھایا جاتا ہے. کراچی شہر کے باسیوں کو دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایک اور عذاب بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے. جس کی بدولت ان کی نجی و معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہے. وہ ہے لوڈشیڈنگ کا جن. جو وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ایک بار پھر سے بوتل سے باہر آچکا ہے. اس پر بھی وفاقی حکومت اقدامات کی بجائے سیاسی پوائنٹ سکورننگ کر رہی ہے. وفاقی حکومت کے ارکان اسمبلی کے الیکڑک کمپنی کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں. ان عقل کے اندھوں کو کوئی بتائے کہ اگر آپ نے احتجاج کرنا ہے تو پھر اس مسئلے کو حل کس نے کرنا ہے. آپ کا کام احتجاج نہیں. بلکہ مسائل کا حل ہے. آپ لوگوں کو یقین نہیں ہو رہا کہ آپ اس وقت حکومت میں ہیں . یا شاید آپ کے خون میں احتجاج رچ بس گیا ہے. آپ بات بات پر احتجاج شروع کر دیتے ہیں. کاش آپ اسی طرح سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر بھی احتجاج کرتے کہ اس سانحات کے متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے. اس پر ایک ستم ظرفی اور کہ ایک وفاقی وزیر اسد عمر نے گورنر سندھ کے ہمراہ کراچی کی عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لئے کے الیکڑک انتظامیہ سے مذاکرات کیے. جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے کراچی کے رہائشیوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات کی خوش خبری سنائی.ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کے الیکڑک نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو ہم لوگ اس کو اپنی تحویل میں لے لیں گے. مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے. ان کا یہ بیان بھی ہمیشہ کی طرح محض سیاسی ہی ثابت ہوا اور کراچی والے ابھی بھی اسی قرب میں مبتلا ہیں. اس حکومت کو تو ڈرامہ بازی پر آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے. کل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ایم کیو ایم نے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا. جس میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے بھی شرکت کی. خصوصی طور پر وفاقی وزیر اسد عمر نے شرکت کی اور کے الیکڑک پر لفظی گولہ باری کی. وزیر موصوف شاید بھول گئے تھے کہ اس لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہی ہے. اس نے اپنے دور اقتدار میں کے الیکٹرک کو پرائیویٹ کر کے نجی تحویل میں دیا تھا. کیا اس وقت اسے ان تمام باتوں کا احساس نہیں تھا. جو وہ آج کر رہی ہے. اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے ایم کیو ایم کی خوش آمد کرتے ہوئے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے میئر کراچی کو یرغمال بنایا ہوا ہے اسے کوئی کام کرنے نہیں دیا جاتا جس کی بدولت مقامی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے. تو ان سے معصومانہ سا سوال ہے کہ آپ کی حکومت نے صوبہ پنجاب کے تمام منتخب ڈسٹرکٹ چئیرمین اور سٹی مئیرز کو یرغمال بنایا ہوا ہے اس کا جواب کون دے گا. بلکہ آپ نے تو ایک قدم آگے جاتے ہوئے ان منتخب اداروں کو آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی غیر قانونی طریقے سے محض اس لیے برطرف کر دیا کہ وہ آپ کی مخالفت سیاسی جماعت کے لوگوں پر مشتمل تھے. جس کی وجہ سے پنجاب بھر کے مقامی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے.کم از کم پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان اداروں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا تو موقع فراہم کیا ہے. آپ میں تو اتنی اخلاقی جرآت و برداشت بھی نہیں. کہ آپ بھی ان آئینی اداروں کو اپنی مدت پوری کرنے دیتے. اسی پر کسی دانا نے کیا خوب کہا تھا کہ پہلے تولو پھر بولو. اس لیے کوئی بھی بیان دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیا کریں کہ آپ کی حکومت کیا کر رہی ہے آپ کے قول و فعل میں مکمل طور پر تضاد پایا جاتا ہے. آپ ہی کی جماعت کے ایک اہم وزیر فرماتے ہے کہ اپوزیشن عمران خان سے اپنا موازانہ کرنا چھوڑ دے.

آپ لوگوں نے وزیراعظم پاکستان کو آسمانی مخلوق کیوں بنایا ہوا ہے کیا وہ انسان نہیں. کیا ان کے لوگ کرپٹ نہیں. آپ ہی کی حکومت کے دو لوگ جن میں وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور صوبائی وزیر اطلاعات اجمل وزیر اشتہاری کمپنیوں سے کیمشن یعنی رشوت لینے کے الزام میں عہدوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. اسی طرح سے شوگر مافیا کی سرپرستی کے الزام میں جہانگیر ترین بھی قصور وار پائے گئے ہے. اس کے علاوہ بھی ایک طویل لسٹ آپ کے حکومتی اراکین کی ہے. جو کرپشن کی بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھو رہے ہیں. اسی لیےتو چیئرمین نیب کو کہنا پڑا تھا کہ اگر ان کا احتساب شروع کیا گیا تو حکومت نہیں رہے گی. کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر ماضی میں کرپشن کے کیس چل رہےتھے. انہیں سیاسی طور پر بلیک میل کر کے آپ کی چھتر چھایا میں دیا گیا. اور آپ کا انہیں لوگوں کی بدولت اقتدار کے ایوان میں پہنچانا ممکن ہو سکا. صادق اور امین شخص کبھی بھی چوروں ڈاکوؤں سے سمجھوتہ نہیں کرتا . اس لیے خود سے اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی بجائے عوام کے لیے کچھ کریں. اگر آپ سچ میں ہی فرشتے ہیں تو ملک پاکستان بالخصوص کراچی کو ہر طرح کے مسائل سے نجات دلائیں.ساتھ ہی ساتھ تمام جرائم پیشہ لوگوں کی پشت پناہی کی بجائے ان کو کفر کردار تک پہنچانے. تبھی پاکستانی عوام کی نظر میں حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا. کراچی کبھی روشنیوں کا شہر ہوتا تھا. مگر آپ سیاسی لوگوں کی باہمی کشمکش اور جرائم پیشہ لوگوں کی سرپرستی نے اسے انڈر ورلڈ کا گڑھ بنا دیا ہے . ہر نوجوان جرائم کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتا ہے. کیونکہ اس کے نزدیک جلد از جلد ترقی کا یہی واحد راستہ ہے. جیسے ہی کوئی نوجوان جرائم کی دنیا میں اپنا نام پیدا کر لیتا ہے. سیاسی لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے. ہر سیاسی جماعت اس کو اپنے ساتھ لیکر چلنے میں فخر محسوس کرتی ہے. یہ روش کسی بھی طرح سے ملک کے لیے نیک شگون نہیں. خدارا اب بھی وقت ہے کہ ہم اس طرز عمل کو ترک کرتے ہوئے ملک کو امن کا گہوارہ بنائے اور اسے جرائم پیشہ لوگوں کے لیے اپنی پاک سرزمین کو تنگ کر دیں. اب حکومت وقت کا امتحان ہے دیکھتے ہے وہ اس امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوپاتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں