قومی سکواڈ کا دورہ انگلینڈ ، کھلاڑی کس ماحول میں اور کارکردگی کیا اثرات ہونے کا امکان؟

لاہور ، سپورٹس ڈیسک

سابق ڈائریکٹر اکیڈمیز پاکستان کرکٹ بورڈ اور سابق اوپنر ٹیسٹ کرکٹرمدثر نذرنے ایک نئے خدشے کا اظہار کیا کہ
کورونا وائرس کے باعث پہلے توکرکٹ کی سرگرمیاں معطل تھیں اور اب شروع ہوئی ہیں تو مکمل بائیو سیکور ماحول میں کرکٹرز کو رہنا پڑ رہا ہے پاکستان اسکواڈ بھی تین سے زائد ہفتوں سے انگلینڈ میں مکمل بائیو سیکور ماحول میں ہے -اور موجودہ حالات میں 90 کی دہائی یا 2000کے آغاز کے کرکٹرز کو رہنا پڑتا تو بہت لڑائیاں ہوتیں اور روزانہ ایک دوسرے کے گریبان پکڑے ہوتے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ کہ بائیو سیکور ماحول کے قومی کرکٹرز پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، کھلاڑی بوریت کا شکار ہو سکتے ہیں، میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کھلاڑی بوریت کا شکار تو ہو بھی رہے ہیں – میں ان کی جگہ ہوتا تو موجودہ حالات میں اب تک شدید بوریت کا شکار ہو چکا ہوتا، ان حالات میں کھیلنا مشکل ہے – ہ موجودہ کرکٹرز کی جگہ 90 کی دہائی یا 2000کے آغاز کے کرکٹرز کو ایسے ماحول میں رہنا پڑتا ہوتے تو بہت لڑائیاں ہوتیں، روزانہ کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے ہوتے۔

سابق اوپنر بیٹسمین کا کہنا تھا کہ باہیں ہاتھ کے فاسٹ بولر محمد عامر کے دورہ انگلینڈ کے لیے ٹیم کی شمولیت کے حوالے سے مدثر نذر کا کہنا ہے کہ محمد عامر بلاشبہ تجربہ کاراور سنئر بولر ہے اور اسے انگلش کنڈیشنز کا تجربہ بھی ہے، وہ انگلینڈ اچھا کھیل سکتا ہے لیکن میرے ذہن میں جب یہ بات آتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کہ یہ وہی کرکٹر ہے جس نے کچھ عرصہ قبل پاکستان سے کھیلنے کے لیے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، اس نے اچانک کھیلنے سے منع کیا اور اب اسی کرکٹر کوکھیلنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے – اب جو بھی فیصلہ کیا گیا وہ ہو چکا، میں توقع کرتا ہوں کہ عامر پاکستان کے لیے اچھا کرے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے اور پہلے 14 دن قرنطینہ میں رہی جبکہ اس وقت بھی وہ بائیو سکیور ماحول میں رہ رہی ہے جس سے بوریت ہوتی ہے اور اس طرح انضمام الحق بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ اس ماحول سے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہونگے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں