ثفافتی یلغار اور ہماری نوجوان نسل ……. تحریر، اورنگزیب اعوان

کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اس کی ثفافت کلیدی کردار ادا کرتی ہے. ثفافت ہی اس معاشرے کے رہن سہن، رسم رواج اور کلچر کی مکمل ترجمانی کرتی ہے. وہ معاشرے اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتے جن کی اپنی کوئی ثفافت نہیں ہوتی. اسی لیے آج کے ترقی یافتہ دور میں ہر معاشرہ دوسرے معاشرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اس کی ثفافت پر یلغار کرتا ہے. جو کام جنگ و جدل سے نہیں لیا جا سکتا. وہ محض ثفافتی یلغار سے مکمن ہو جاتا ہے. زندہ قومیں اپنی ثفافت کو کبھی بھی مرنے نہیں دیتی. وہ اپنی آیندہ نسلوں کو بھی اپنی ثفافت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا درس دیتی ہے. مسلم ثفافت دنیا میں قدیم ترین ثفافت کا درجہ رکھتی ہے. اگر ہم یوں کہہ لیں کہ مسلم ثفافت سے دنیا بھر کی ثفافتیں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی.

یہ مسلم ثفافت ہی تھی جس نے ہر شعبہ زندگی کے بارے میں نسل انسانیت کی مکمل راہنمائی کی. اس سے قبل انسانیت کی تذلیل ہوتی تھی. طاقت ور انسان کمزور انسانوں سے جانور جیسا سلوک روا رکھتے تھے. عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا. اس کی بھیڑ بکریوں کی طرح خریدو فروخت کی جاتی تھی .اور اسے وارثت میں سے کچھ نہیں دیا جاتا تھا.دین اسلام نے تمام نسل انسانیت کی بھلائی و فلاح بہبود کے لئے واضح قوانین متعارف کروائے. جن پر عمل پیرا ہونے سے اسلامی معاشرہ ایک فلاحی ریاست کا درجہ حاصل کر گیا. دیگر مذاہب اور معاشروں کے لوگ اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے. انہوں نے اس کی اچھی رسومات کو اپنانا شروع کر دیا. جس کے نتیجہ میں دیکھتے ہی دیکھتے دین اسلام نے مختصر عرصہ میں دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل کر لی. یہ دین اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ماں، بہن اور بیوی کا درجہ دیا. بلکہ دین اسلام ہی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے عورت کی قدو منزلت کو اس قدر بلند کر دیا. کہ ماں کے روپ میں جنت کو بھی اس کے قدموں تلے رکھ دیا. مذہب اسلام کی تمام عبادات کی تکمیل کی انجام دہی پر انعام کے طور پر مومنین کو جنت الفردوس کی نوید سنائی گئی ہے.

آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنے احکامات کی بجا آوری پر جس چیز کا تحفہ دینا ہے وہ جنت ہے. جس کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے رکھ کر نسل انسانی کو پیغام دیا ہے. کہ میری محبوب ترین چیز جس کو میں نے اپنے نیک بندوں کو انعام کے طور پر عطا کرنا ہے. اس کی بھی ماں کی ہستی کے سامنے کوئی اہمیت نہیں. اس کا درجہ ماں کی ذات کے سامنے محض اس کے قدموں کی خاک کے برابر ہے. ماں کی ہستی کو خدا تعالیٰ کے روپ کی ایک جھلک کہہ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا. انسان نے خدا کو دیکھا نہیں. اور نہ ہی وہ تمام عمر نیک اعمال و عبادات کرکے اسے دیکھ سکتا ہے. لیکن ایک ہستی جو اسے خدا کے ہونے کا یقین دلاتی ہے وہ ماں ہے.ماں بنا کہے بھی اپنی اولاد کی دل کی بات جان لیتی ہے. اولاد کو پہنچنے والی تکلیف پر اس کا دل پس کر رہ جاتا ہے. اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کو اللہ تعالیٰ بھی رد نہیں کرتا. یہ تمام باتیں ماں کے رتبے کی عظمت کو بیان کرتی ہے . ماں خدا کے وجود ہی کا ایک حصہ ہے.

یہ اسلامی ثفافت کی چند روشن روایات ہیں جہنوں نے عورت کو عظیم مقام عطا کیاہے. جس کی کسی دوسری ثفافت میں ڈھونڈنے سے بھی مثال نہیں ملتی. مگر آج ہم مسلمان اپنی اس روشن ثفافت سے جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں تھا. اس قدر غافل ہو چکے ہیں. کہ ہماری نوجوان نسل مغربی ثفافت کی دیدادہ ہو چکی ہیں. جس کی بدولت بے حیائی، فحاشی، عریانی اور بے ادبی ہمارے معاشرے میں سرایت کرچکی ہے. جس کی وجہ سے آئے روز ہمیں کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقع دیکھنےاور سننے کو ملتا ہے. گزشتہ روز سوشل میڈیا اور ملکی نیوز چینل پر ایک دلخراش واقعہ دیکھنے کو ملا.جس میں ایک بدبخت نوجوان نے اپنی ماں اور بہن کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا. اس وڈیو کے منظر عام پر آتے ہی ملک بھر میں اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت شروع ہو گئی. اس واقعہ نے ایک طرف تو دل کو دہلا کر رکھ دیا دوسری طرف ماں کی ممتا کی عظمت کو بھی عیاں کر دیا. اتنے زیادہ تشدد کے باوجود بھی ماں اپنے بیٹے کو مرد الزام نہیں ٹھہرا رہی. بلکہ وہ کہتی ہے کہ میرے بیٹے نے میری بہو کے بھکاوے میں آکر مجھ پر تشدد کیا ہے. یہ ہے ماں کی ہستی. جو اتنا ظالم اور تشدد برداشت کر کے بھی اپنی اولاد کو بددعا نہیں دے رہی . اسی واقع کی مرکزی ملزمہ بھی ایک عورت ہی ہے. جو اس ماں کی بہو ہے. اس نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا. کہ میری ساس میرا حمل زبردستی ضائع کروانا چاہتی تھی. جس کا میں نے اپنے شوہر سے انکشاف کیا. جس کے نتیجہ میں اس نے اپنی ماں اور بہن پر تشدد کیا.موصوفہ سے پوچھنا تھا کہ کوئی ماں اپنی اولاد کی اولاد کو کیوں مارے گی. وہ تو اسے اپنی اولاد سے بھی زیادہ پیار کرتی ہے. آپ کی اس کہانی میں زیادہ وزن نہیں ہے-

اس واقع نے اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے. کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے. اگر یہ عورت اس ماں کو اپنی ماں سمجھ لیتی تو کیا وہ اپنی ماں پر اس طرح سے تشدد ہوتا دیکھتی. ہرگز نہیں. لیکن یہ پہلا اور آخری واقع نہیں ہے ایسے کیے واقعات روزانہ ملک بھر میں وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں. کئے واقعات میں تو بیٹے نے اپنے بوڑھے والدین کو جائیداد کی خاطر قتل تک کر دیا. اگر ہم ان افسوسناک واقعات کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے تو جو راز ہم پر افشاں ہوگا وہ مغربی ثفافت کی اسلامی ثفافت پر یلغار ہے. ہم مذہب اسلام سے دوری کی وجہ سے بھرپور طریقے سے اس ثفافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے. ہماری نوجوان نسل مغرب کی رسومات کو اپناتی جا رہی ہے. آج ہمارے معاشرے میں عریانی و فحاشی اس قدر عام ہو چکی ہے. کہ ہر دوسرا لڑکا اور لڑکی جنسی بے راہ روی کی جانب گامزن نظر آتے ہیں. شراب نوشی کو بھی ہمارے معاشرے میں امیریت کی علامت سمجھا جاتا ہے. جب اسلامی معاشرے میں ایسی فرسودہ روایات کو قابل فخر سمجھا جانے لگے تو پھر وہاں ایسے واقعات کے رونما ہونے کی ہی امید رکھنی چاہیے.

ان واقعات اور فرسودہ مغربی رسومات سے بچنے کے لیے ہمیں اسلامی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے. اسلامی ثفافت میں خاندانی نظام کی بہتری بارے تفصیلی راہنمائی فرمائی گئی ہے. خاندان ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتا ہے. اگر اس کی تشکیل بہتر بنیادوں پر استوار کر دی جائے تو پھر پورا معاشرہ ہی بہتری کی جانب گامزن ہو جائے گا. اسلامی ثفافت میں ماں باپ، میاں بیوی اور بہن بھائیوں کے ساتھ احسن طریقے سے پیش آنے کا درس دیا جاتا ہے. عورت اس وقت بے راہ روی کی جانب گامزن ہوتی ہے. جب مرد اسے نظر انداز کرتا ہے. اگر شوہر اپنی بیوی کو مناسب وقت دے اس کی بات کو تحمل سے سنے. تو وہ کبھی بھی کسی غیر مرد کی طرف متوجہ نہیں ہوگی. اسی طرح والد اور بھائی گھر میں اپنی بہن، بیٹی کو وقت دے. اس سے باتیں کرے تو اسے ان کے روپ میں اپنا دوست نظر آئے گا وہ کبھی بھی اپنی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے کسی اجنبی لڑکے سے دوستی نہیں کرے گی. اس لیے کوشش کرے کہ ہم سب اپنے گھروں میں دوستانہ ماحول کو پروان چڑھائے. ناکہ وحشت زدہ ماحول. جس میں دوسرے افراد کو قید محسوس ہو اور ان کا دم گھٹے. انسانی فطرت کے اندر بغاوت پائی جاتی ہے. جب اس پر بے جا پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو وہ ان کے خلاف پوری شدت سے بغاوت کرتا ہے. جس کے نتیجہ میں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے.ان تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی ثقافت پر عمل پیرا ہونے میں ہی پوشیدہ ہے. اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنی اسلامی ثفافت کا بھرپور طریقے سے دفاع کرنا ہوگا. اور نوجوان نسل کو بھی اسلامی ثفافت سے روشناس کروانا ہوگا. ورنہ بہت دیر ہو جائے گی.اور ہماری نوجوان نسل پوری طرح اخلاقی طور پر برباد ہو جائے گی. آج سوشل میڈیا کا دور ہے. جس کو ہر نوجوان استعمال کرتا ہے. مگر کوشش کرے کہ ہمارے نوجوان اس کا مثبت استعمال کرے. یہ تبھی ممکن ہے. جب ان کے اندر اسلامی روح کو بیدار کر دیا جائے.

جب ہر نوجوان جذبہ ایمانی سے سرشار ہو گا تو یہ مغرب زدہ ثفافت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پائے گی. مگر اس کے لیے والدین اور علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے. آج کے دور میں والدین بچے کو دنیاوی تعلیم کے لئے اچھے سے اچھے تعلیمی ادارے میں بھیجتے ہیں. جس کی فیس لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں. اس کے برعکس دینی تعلیم کے لیے پانچ سو سے دو ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر عالم دین کو رکھتے ہیں. جس سے دین اسلام سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے. ہماری اسی دینی کمزوری کو دیکھتے ہوئے غیر مسلموں نے ہم پر ثفافتی یلغار کی ہوئی ہے. حالیہ دنوں اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے ایک اہم انکشاف کیا ہے. کہ پرائیویٹ سکول جو طالب علموں سے ہزاروں روپے فیس لیتے ہیں. وہ اپنی نصابی کتب میں بچوں کو غیر اسلامی تعلیمات پر مبنی تعلیم دے رہے ہیں. ایسے ایسے موضوعات ان نصابی کتب میں شامل ہیں جن کو بھائی بہن، ماں باپ بھی بچے کے سامنے بیان کرنے سے قاصر ہے. مگر ان سکولوں میں وہ سب کچھ پڑھایا جا رہا ہے. ان کتب میں ڈاکو بننے کی کہانی سے لیکر گاندھی تک کو پڑھاتے ہیں. اب آپ لوگ خود اندازہ کرے کہ معصوم ذہنوں پر ان موضوعات کا کیا اثر پڑے گا.ہم بچے کو مہنگے سکول میں داخل کروا کرخود کو بری ذمہ سمجھ بیٹھتے ہیں. یہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہمارے بچے کو کیا پڑھا رہے ہیں.

ہمیں اپنے بچوں کی مناسب تعلیم کی غرض سے ان کی نصابی کتب کا مطالعہ خودبھی کرتے رہنا چاہیے. تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے. ہم اسے ایک اچھا انسان بننے کے لیے اچھے تعلیمی ادارے میں داخل کرواتے ہیں مگر وہاں جو کچھ ہوتا وہ ہمارے بچے کو اچھا انسان بنانے کی بجائے الٹا خراب تو نہیں کر رہے. جس طرح کا انکشاف پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے کیا ہے. اس سے آپ کو لگتا ہے کہ آپ کابچہ ایک سچا اور ذمہ دار شہری بن پائے گا. ہرگز نہیں وہ ایسا ہی شہری بنے گے جس کا عملی مظاہرہ آپ لوگوں نے گزشتہ روز سوشل میڈیا اور ملکی نیوز چینلز پر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے.یہ سب کچھ دین اسلام سے دوری کی وجہ سے ہے. خدارا اپنے بچے کو اسلامی تعلیمات اور اسلامی ثفافت سے روشناس کروائے. تاکہ وہ ایک سچا مسلمان بن کر دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوسکے. اس میں ہی آپ کی اور اس کی بھلائی و نجات ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں