جمہوریت کے ثمرات کب ملیں گے ؟ تحریر، تنویر بیتاب

یہ بات بلکل درست ہے کہ بہترین نظام حکومت جمہوریت ہی ہے ۔ پارلیمانی جمہوری نظام حکومت سب سے بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکتا ہے اور اُن کے بُنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دے سکتا ہے مگر وطن عزیز میں جمہوری نظام بھی آج تک قوم کو کُچھ نہیں دے سکا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں صرف جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے عملا ہم لوگ ابھی تک حقیقی جمہوریت سے صدیوں دور ہوں ۔اگر ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہوں تو پھر سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت ہو، پارٹی انتخابات بھی جمہوری انداز میں ہوں جن میں پارٹی کے کارکُن منتخب ہو کر پارٹی عہدوں پر پہنچیں ۔ پارٹی سربراہ تک بنیں ۔ عام انتخابات میں حصہ لےکرپارلیمنٹ میں پہنچ سکیں ، وزیر بنیں جب کہ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں خاندانوں کی جاگیریں بنی ہوئ ہیں۔ پارٹی عہدے دار نامزد کئے جاتے ہیں اور پارٹی سربراہ خاندان کا فرد ہی بن سکتا ہے۔ جیسے پیپلز پارٹی میں کتنے ہی قد اور پارٹی راہنماؤں کے ہوتے ہوئے پارٹی سربراہ بلاول بھٹو ہے۔ اگر ہمارے سیاستدان ووٹ کی پرچی کی طاقت پر یقین رکھتے ہوں تو یہ لوگ انتخابات کے دن پولنگ ا سٹیشنز پر دھاندلی کرتے پھریں ، ہنگامہ برپا کریں اور فوج کی مدد اور نگرانی کے بغیر انتخابات ہو ہی نہ سکیں ۔اگر یہ لوگ اپنے منشور اور کارکردگی پر بھروسہ کرتے ہوں تو پھر انہیں انتخاب جیتنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پڑے؟ اگر یہ لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہوں تو کبھی بھی حکومت بنانے کے لئے راولپنڈی کی طرف سجدہ نہ کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان جمہورت کا صرف راگ الا پتے ہیں اس پر یقین بلکل بھی نہیں رکھتے۔آج تک ان کے مزاج میں جمہوریت راسخ نہ ہو سکی۔یہ سب کے سب اندر سے آمر ہی ہیں۔ ان کی “ جمہوریت پسندی” کا یہ عالم ہے کہ اپنے دور حکومت میں یہ لوگ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کروانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ ان کی اختیارات کی مرکزیت قائم رہے۔سیاستدانوں کے یہ غیر جمہوری روئیے حقیقی جمہوری نظام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔حقیقی جمہوری نظام کے قیام تک جمہوریت کے ثمرات حاصل ہو ہی نہیں سکتے۔یہ ثمرات حاصل نہ ہونے سبب ہمارے ہاں لوگوں کا جمہوری نظام پر ہی اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے وہ اس نظام کو ہی بانجھ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں