ن لیگ پنجاب کی تنظیم سازی، فیصل آباد سے شیر علی گروپ ناک آؤٹ ؟؟ سیاست نامہ

تحریر، سید ذکراللہ حسنی

مسلم لیگ ن پنجاب کی تنظیم نو کے بعد فیصل آباد ڈویژن پر تین دہائیوں سے نواز شریف کی طاقتور نمائندگی کرنے والے چوہدری شیر علی گروپ کو ایک بھی پارٹی عہدہ نہیں مل سکا۔ شیر علی گروپ چند روایت سے جڑے مخلص کارکنوں اور ایک ایم پی اے میاں طاہر پرویز جمیل تک محدود رہ گیا۔ جبکہ وفاقی وزیر بجلی کے متحرک ترین حکومتی عہدے پر پانچ سال گزارنے والے چوہدری عابد شیر علی پی ٹی آئی حکومت کے دوران ممکنہ انتقامی گرفتاری سے بچنے کیلیے مبینہ طور پر والد کے مشورے سے انگلینڈ میں خودساختہ جلا وطن ہیں۔ ان کے ایک بیٹے چوہدری عامرشیرعلی سمیت3بارمیئرفیصل آبااوردوسرے بیٹے چوہدری عابدشیرعلی سمیت6بارمسلسل رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے خاندان کی راناثنااللہ خاں سے مخالفت اور پارٹی میں دھڑے بندی نے اُنہیں پیچھے دھکیل دیاہے۔

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے قریبی عزیزاورفیصل آبادمیں40سال قبل بلدیات سے سیاست کی ابتدا کے بعد مسلم لیگ ن میں بادشاہ گر سمجھے جانے والاچوہدری شیرعلی خاندان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدرراناثناالہ خاں کی شریف برادران سے قربت اورموجودہ حکومت کے خوف کی وجہ سے زیرزمین چلاگیا۔ مسلم لیگ ن پنجاب کی نئی تنظیم سازی میں فیصل آباد کے عہدیداروں کو سیاسی سرگرمیاں تیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ضلع فیصل آباد کے لئے میاں قاسم فاروق صدر ، چودھری زاہد عمران گجر ، جعفر علی ہوچہ سینئر نائب صدر ، آزاد علی تبسم جنرل سیکرٹری ، شعیب ادریس ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ، مزمل رضا کو سیکرٹری اطلاعات نامزد کردیا گیا ہے جبکہ سٹی تنظیم میں سابق ایم پی اے شیخ اعجاز احمد صدر ، سابق میئر عبدالرزاق ملک ، شیخ یوسف ، حاجی الیاس انصاری سینئر نائب صدر ، میاں ضیا الرحمن سٹی جنرل سیکرٹری ، میاں محمد اجمل سٹی ایکسرٹری اطلاعات نامزد کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ رانا منورحسین اور آصف ہرل کو ڈویژنل نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ نئی تنظیم سازی میں صوبائی صدر پنجاب رانا ثناء اللہ خاں نے عابد شیر علی کو نہ صرف مسلم لیگ(ن) یوتھ ونگ پنجاب کی صدارت سے فارغ کردیا ہے بلکہ اُن کی عدم موجودگی میں اُن کی طرف سے بنائے گئے قائم مقام صدر کاشف رندھاوا کو راناثنااللہ گروپ میں شامل ہونے کے بعد مکمل صدر جبکہ یوتھ ونگ سٹی کے صدر میاں طاہر جمیل ایم پی اے کوبھی فارغ کرکے ایک یونین کونسل کے سابق چیئرمین عاطف کسانہ کو نامزدکیا گیا ہے۔

جمعے کے روز پنجاب میں کی گئی تنظیم سازی میں فیصل آباد شہر اور ضلع میں جو عہدیدار نامزد کیے گئے ہیں ان میں عابد شیر علی دھڑے کا ایک بھی فرد شامل نہیں صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت نامزد کیے گئے تمام عہدیداروں کا تعلق رانا ثنااللہ گروپ سے ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد میاں حمزہ شہباز نے اسمبلی چیمبر میں معمول کی ملاقاتوں کو مؤخر کرکے چوہدری شیر علی، میاں طاہر جمیل اور ایک پارٹی کارکن میاں سرور سے ملاقات کی۔ جس میں بظاہر تو اس تنظیم سازی پر کسی گفتگو سے انکار کرکے ملاقات میں ملکی سیاست کا موضوع زیربحث رہنے کا تأثر دیا جارہا ہے مگر اطلاع یہ ہے کہ اس نئی تنظیم سازی میں شیر علی گروپ کو بلیک آؤٹ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2018کے عام انتخابات میں شکست کے بعدچوہدری عابدشیرعلی کی خودساختہ جلاوطنی اوراُن کے والدکی2سال سے خاموشی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔1979 سے 2002 تک چوہدری شیرعلی کومیاں نوازشریف کا قریبی عزیز ہونے کی وجہ سے فیصل آبادمیں پارٹی فیصلوں کا بااختیار، شہرکوپیپلزپاٹی کا لاڑکانہ بنانے کااعزازتھا۔1999میں اُن کی راناثنااللہ خاں سے مخالفت شروع ہوئی 2002 کے الیکشن کے بعد راناثنااللہ، افتخار محمدچوہدری کے ذریعے میاں نوازشریف کے قریب اور پھر بلندتر ین سطح پر پہنچ کرشیرعلی کی محتاجی سے نکل گئے- بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے نہ صرف میئر کی خواہش پر الیکش لڑنے والے اُ ن کے بیٹے عامرشیر علی کواُس برادری کے امیدوارسے شکست دلائی جس برادری کے فضل حسین راہی نے پہلی باراُنہیں شکست دی تھی – 20017 کے بلدیاتی انتخابات میں چوہدری شیرعلی گروپ کوپارٹی ٹکٹ سے بھی محروم رکھااوراپنے نامزدامیدواررزاق ملک کو کامیاب کروالیا- حالانکہ رانا ثنااللہ کوچوہدری شیرعلی ہی پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ ن میں لے کر آئے اور1993کے الیکشن میں اپنی خالی کی گئی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے ٹکٹ دلایامگر وہ اسماعیل سیلاسے ہارگئے جبکہ 1990 میں چوہدری شیرعلی کی خالی کی گئی نشست پر ملک قیوم اعوان کو شکست دے کر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے تھے۔ماضی میں اُن کی ٹانگ کے نیچے سے گزرنے والے اُنہیں چھوڑکر راناثنااللہ کے دھڑے میں شامل ہوچکے ہیں۔صرف ایک رکن پنجاب اسمبلی میاں طاہرجمیل اُن کے دھڑے کا ہومیوپیتھک حصہ ہیں۔

باقی شہرکے تمام موجودہ وسابق اراکین اسمبلی راناثنااللہ دھڑے کاحصہ ہیں۔چوہدری شیرعلی 90-93اور 97 میں ایم این اے رہے 90 میں این اے 65 سے اورپی پی59 سے ،93میں این اے 64اورپی پی 59 سے کامیاب جبکہ 97 میں این اے 64سے منتخب ہوئے -88 میں مہررشید سے ہارے 2بارخودجبکہ ایک بار بیٹے عامرشیرعلی میئر منتخب ہوئے۔پرویزمشرف دورمیں بی اے کی شرط پرچوہدری شیرعلی کی بجائے اُن کے صاحبزادے چوہدری عابدشیرعلی پہلی بار میدان میں آئے جو2013تک3بارمسلسل منتخب ہوئے۔2018کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوارمیاں فرخ حبیب سے ایک ہزارسے کم ووٹوں سے شکست کے بعد کاروبارکے نام پر بیرون ملک چلے گئے۔ذرائع کے مطابق اُنہیں والد نے موجودہ حکومت کے خوف کی وجہ سے باہر رہنے کاپابندکیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں