موبائل فون کمپنیوں کی لوٹ مار! ……………. تحریر، تنویر بیتاب

جب سے موبائل فون کمپنیوں کے درمیان حقیقی مسابقت کی فضا ختم ہوئ ہے تب سے ان کمپنیوں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے ۔ ان کمپنیوں کی خدمات کا معیار نیچے گر چُکا ہے ۔ صارفین کی تعداد میں روز افزوں اضافے کے باوجود یہ کمپنیاں اپنے نیٹ ورک کو توسیع نہیں دے رہیں بلکہ پہلے سے موجود سسٹم پر ہی بوجھ بڑھائے جارہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کال بیچ میں بار بار منقطع ہوتی ہے، شور آتا ہے، کراس ٹاک ہوتی ہے، میسج فارورڈ نہیں ہوتے،

انٹرنیٹ اکثر کنیکٹ ہی نہیں ہوتا ، کنیکٹ ہو بھی جائے تو اُس کی سپیڈ انتہائ سلو ہوتی ہے۔جس سے واٹس ایپ، فیس بُک اور ٹویٹر چلانے میں دشواری ہوتی ہے۔ ایک ای میل کرتے ہوئے کتنا ہی قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ موبائل فون کمپنیوں کے پیش کردہ پکیج بھی انتہائ پیچیدہ ہیں ۔ کئ ایک کٹوتیاں کمال مہارت سے صارف سے چھپائ گئ ہوتی ہیں۔ صارف کو تب پتہ چلتا ہے جب اُس کا بیلنس اُڑ چُکا ہوتا ہے۔اس صورت حال کا نوٹس لینا اور شہریوں کو موبائل فون کمپنیوں کی لوٹ مار سے بچانا پی ٹی اے کی زمہ داری ہے مگر یہ سرکاری ادارہ اپنے گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہا ہے یا پھر وہ اس لوٹ مار میں شامل ہے۔

اسی لئے پی ٹی اے نے ابھی تک موبائل فون کمپنیوں کی سروسز کو بہتر بنانے اور ان کے ٹیرف کو عام فہم بنانے کے لئے کوئ سنجیدہ اقدام نہیں اُٹھایا۔ہم لوگ کب تک ان موبائل فون کمپنیوں کی غیر معیاری سروسز کے عوض بھاری ادائیگیاں کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک ایسے ہی لُٹتے رہیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں