حقیقی خوشی کے لمحات کی متلاشی عوام ……. تحریر ، اورنگزیب اعوان

پاکستانی قوم دنیا کی وہ واحد قوم ہے. جوساری زندگی چند پل ہنسی خوشی سے گزارنے کے لیے مصروف عمل رہتی ہے. مگر اسے یہ پل میسر نہیں آتے. اس کو ہم اس قوم کی بدقسمتی سے تعبیر کر لے تو کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی. کہ جب بھی کوئی خوش کا لمحہ میسر آنے لگتا ہے تو یہ بجائے خوشی کے اس کے لیے باعث تکلیف و اذیت کا سبب بن جاتا ہے. گزشتہ 72 سالوں سے اس قوم کے ساتھ یہ المیہ وقوع پذیر ہوتا چلا آ رہا ہے. شاید کچھ عناصر اس قوم کے چہرے پر خوشی دیکھنا پسند نہیں کرتے. اس قوم نے جب بھی کسی سیاسی پارٹی کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر ووٹ دیا ہے. اور اس کے اقتدار میں آنے کے بعد اس سے لاتعداد امیدیں وابستہ کی ہیں. انہیں ہمیشہ سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے. ہر حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل انہیں سر سبز باغ دکھائے . جس کی بدولت انہیں اس سے امید ہوتی ہے کہ یہ ان کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دے گی.مگر نظر نہ آنے والی طاقتیں اس منتخب و جمہوری حکومت کے ہاتھ پاؤں اس طرح سے جکڑ دیتی ہیں کہ یہ عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو وفا نہیں کر پاتی. جس سے اس کی سیاسی ساخت تو خراب ہوتی ہی ہے. مگر ساتھ ہی ساتھ ملک و قوم کو ناتلافی نقصان پہنچتا ہے. جس کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں ہوتا ہے. مگر ان مٹھی بھر طاقتوں کو اپنا ذاتی مفاد اس قدر عزیز ہوتا ہے.کہ اس کی خاطر وہ ملک و قوم کے مفادات کو بھی قربان کر دیتی ہیں.

اگر ماضی میں منتخب و جمہوری حکومتوں کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا تو آج ملکی حالات بہت بہتر ہوتے. مگر یہ خفیہ طاقیتن جلمن میں رہ کر ایسا بھیانک کھیل کھلیتی ہیں. جس کا سارے کا سارا ملبہ حکومت وقت کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے. عوام کے غم غصہ و غضب کی بھیڑ اسے چڑھا دیا جاتا ہے. ہر آنے والی نئ حکومت خود کو درپیش مسائل کا ذکر کرتی نہیں تھکتی. وہ بڑے فخریہ انداز میں بیان کرتی ہے کہ تمام مسائل کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں تھیں . ہم لوگ اب حکومت میں آئے ہیں. ہمیں تو لوٹا پھوٹا ملکی خزانہ ملا ہے. مگر اس کے باوجود ہم قلیل عرصہ میں اس ملک کو ترقی کی منازل پر پہنچا دے گے.اس مقصد کے اصول کے لیے وہ گزشتہ حکومت کے جاری کردہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو محض کرپشن کا گڑھ قرار دے کر ختم کر دیتی ہے. یہ جانے بغیر کہ اس کے اثرات ملکی معیشت پر کیا ہوگے. اسی طرح کی صورتحال سے موجودہ حکومت دوچار ہے. پاکستانی عوام نے عمران خان کو اپنا نجات دہندہ اور مسیحا سمجھ کر حکومت سازی کا موقع فراہم کیا. ان کے حکومت میں آتے ہی عوام کو امید جاگی کہ اب 72 سالوں سے سوئی ہوئی ان کی قسمت جاگے گی. اور ان کے حالات بہتر ہو جائے گے. مگر یہ سب کچھ ان کی خیام خیالی ہی ثابت ہوا. بہت جلد انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ حکومت بھی انہیں مشکلات کی دلدل میں دھنس گئی ہے جن میں ماضی کی حکومتیں گھیریں ہوئی تھیں. اس حکومت نے بھی ماضی کی حکومتوں کو کرپشن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی طرف سے جاری کردہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر دیا جس کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں.

حکومت سازی سے قبل عوام سے متعدد وعدے کیے گئے تھے. کہ حکومت سنبھالتے ہی ہم لوگ ملک سے کرپشن کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے. عوام کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ تمام مسائل کی وجہ صرف اور صرف کرپشن ہی ہے اگر اسے ختم کر دیا جائے تو سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا. جس پر عوام بہت خوش ہوئی کہ اب ہمیں ایک صادق اور آمین وزیراعظم ملا ہے. جس کی قیادت میں ملک حقیقی طور پر ترقی کی جانب گامزن ہو گا. اور ہمیں روزگار میسر آئے گا. مگر دن بہ دن کرپشن کی شرح بڑھتی جا رہی ہے. عوام کو روزگار ملنے کی بجائے ان سے روزگار چھینا جانے لگا ہے. عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں. نئی نوکریاں اور روزگار ملنا تو درکنارعوام کو اپنا موجودہ کاروبار اور نوکریاں بچانے کی فکر لاحق ہے. اسی طرح سے کرپشن میں کمی کی بجائے بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے.جس کا اعتراف حکومتی اراکین خودکرتے ہوئے نظر آتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ جو کام پہلے دس روپے رشوت دے کر ہوتا تھا آج تیس روپے دے کر ہوتا ہے. ایسی ہی صورتحال آٹا و چینی کے بحران پر ہے. گندم کی کٹائی کو ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا ہے. وفاقی وزیر خوراک نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اعتراف کیا ہے کہ اس دفعہ گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی تھی اور حکومت نے اپنے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ گندم خریدی تھی. اس کے باوجود آٹے کا بحران پیدا ہونا میری سمجھ سے بالاتر ہے. وفاقی وزیرکو نہیں پتہ کہ گندم کدھر گئی ہے. اسی طرح سے چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں.

وزیراعظم نے مافیاز کا ذکر کیا تھا. لیکن وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کر پائے. کیونکہ وہ مافیاز ان سے کئی گنا طاقت ور ہیں.آج کل ملک بھر میں شدید گرمی کاموسم چل رہا ہے. گرمی سے ستائی ہوئی عوام اللہ تعالیٰ کے حضور ابر کرم برسانے کے لیے دعائیں کر رہی ہے . اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر رحم کرتے ہوئے آسمان سے بارش برسانا شروع کی تاکہ غریب عوام جو گرمی سے ستائی ہوئی ہے. اسے کچھ پل ٹھنڈا موسم میسر آسکے مگر یہ سہولت بھی عوام کے لئے باعث رحمت سے باعث زحمت بن گئی. کراچی جس کو پاکستان کا کاروباری مرکز قرار دیا جاتا ہے. محض چند گھنٹوں کی بارش سے سمندر کا منظر پیش کرنے لگا. عوام اس ٹھنڈے موسم سے لطف اندوز ہونے کی بجائے اپنی املاک بچانے کی فکر میں مبتلا ہو گئے. اور اللہ تعالیٰ کے حضور بارش کو روکنے کے لیے دعائیں کرنے لگے. اس تمام صورتحال میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر اس صورتحال کی ذمہ داری ڈالتی نظر آئیں . اگر ٹھنڈے دل سے تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان تمام ابتر حالات کی زمہ دار منتخب و جمہوری حکومتیں ہرگز نہیں بلکہ وہ طاقتیں ہیں جو حکومت اور اپوزیشن کو آپس میں دست گریبان کرکے اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں. یہ طاقتیں کسی بھی دور میں نظر نہیں آتی. مگر موجودہ حکومت پر ہر دور میں حاوی رہی ہیں. کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے. اب عید الضحٰی کی آمد کے موقع پر چھوٹے بڑے تاجرو کاروباری لوگوں کو کچھ امید جاگی تھی کہ اس عید پر ان کو کچھ مالی فوائد حاصل ہوگے. مگر حکومت نے لاک ڈاؤن لگا کر اس امید و خوشی کو بھی ان سے چھین لیا. یہ وہ چند واقعات ہیں جن کی بدولت بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے پاکستانی عوام سے خوشی کے پل چھینے جاتے ہیں. یہ تو کھل کر ہنس بھی نہیں سکتے. حکومت وقت اور اپوزیشن کو سر جوڑ کر سوچنا ہوگا کہ کس طرح سے عوام کے لیے کچھ کیا جائے. کیونکہ ان کی آپسی لڑائیوں سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہورہا . موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ناکام ہو رہی ہے. بلکہ شاید ان سے بھی بری کارگردگی ہے موجودہ حکومت کی . اس حکومت کی ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے. چند قوتیں پوری طرح سے اپنا کھیل رچا رہی ہیں. اور سارا ملبہ حکومت وقت پر ڈال رہی ہیں. وزیراعظم عمران خان پچھلی حکومتیں تو جیسے تیسے چل ہی گئی تھی مگر آپ کو چلنے نہیں دیا جا رہا. اب تو عوام یہاں تک کہنا شروع ہوگئ ہے. کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں. وزیراعظم انتقام کی آگ میں اتنے بھی جذباتی نہ ہو. ذرا ٹھنڈے دل سے سوچے کہ ان سب کوبنانے اور مٹانے میں کس کا ہاتھ ہے. تو شاید آپ اس نتیجہ پر پہنچے پائے کہ ان حکومتوں کا اتنا قصور نہیں جتنا ان کو لانے والوں کا ہے. مہربانی فرما ملکی اپوزیشن سے مل کر ایسی قانون سازی کرے کہ ملکی پارلیمنٹ کی توقیر وعظمت میں اضافہ ہو. اور کوئی ادارہ و شخص خود کو اس سے طاقت ور تصور نہ کرسکے . اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کوئی طاقت آپ کو عوام کے دلوں سے نکال نہیں سکتی. آپ آج ہی انتقام کی سیاست کو ترک کرکے ملک و قوم کی بہتری کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کا عہد کریں. اسی میں آپ کی اور ملک و قوم کی بہتری پنہاں ہے. آپ کے اس عمل سے دکھوں و مشکلات کے چنگل میں پھنسی ہوئی عوام کو حقیقی خوشی میسر ہو پائے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں