عید قرباں …….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

عید الضحٰی امت مسلمہ کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے. جس کو تمام امت مسلمہ انتہائی عقیدت و احترام سے مانتی ہے. اس موقع پر ہر مسلمان اپنی مالی حیثیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں جانور قربان کرکے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتا ہے. بدقسمتی سے ہم مسلمان اس سنت ابراہیمی کی اصل حقیقت وروح کو نہیں پہچان سکے. اللہ تعالیٰ کو ہمارے مال اور جانوروں کی ضرورت ہرگز نہیں. اصل میں تو اللہ بزرگ برتر کی ذات پاک ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت کو نکالنا چاہتی ہے . اسی مقصد کے حصول کے لیے ہی اس ذات پاک نے اپنے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی عزیز ترین چیز کو اپنے راہ میں قربان کرنے کا حکم صادر فرمایا. جس کی تکمیل کرتے ہوئے. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بغیر کسی تعافل کے اپنے جگر کے گوشے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا عہد کر لیا. وہ اپنے ننھے شہزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دس ذوالحج کو تیار کر کے ایک میدان میں گئے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگاہ کیا. جس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے. کہا کہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہے آپ ویسے ہی کرے. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کی غرض سے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کراپنی آنکھیں بندکرکے ان کی گردن مبارک پر تیز دھار چھری چلائی. جب آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتے ہے کہ وہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک بھیڑ ذبح ہوئی پڑی ہے . اللہ تعالیٰ تو محض حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لے رہے تھے جس میں وہ کامیاب ہوگئے. اس عظیم واقع سےحقیقت میں اطاعت خدابندی کا درس ملتا ہے. عید قرباں ہمیں درس دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اپنے تمام باہمی مفادات و اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے.کیونکہ مخلوق خدا کی خوشی میں ہی اللہ تعالیٰ کی خوشی پنہاں ہے. مگر آج کا مسلمان محض دکھاوے کے لیے قربانی کا فریضہ ادا کرتا ہے. پہلے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں اقارب و اہل محلہ سے بہتر جانور خرید کر لائے. جس کو دیکھ کر تمام لوگ اسے داد دیں کہ کتنا قمیتی جانور ہے اس طرح سے وہ لوگوں پر اپنی دولت و امیریت کا دبدبہ بنا چاہتا ہے. اسے اللہ تعالیٰ کی رضا سے کوئی سروکارنہیں ہوتا. قربانی کرنے کے بعد سارا گوشت فریج میں جمع کر لیا جاتا ہے.رہا سہا گوشت غرباء میں تقسیم کر دیا جاتا ہے.. عید الضحٰی محض جانوروں کی قربانی کا نام نہیں اس میں باہمی نفرتوں ، کدورتوں ، کینہ اور بغض کو بھی قربان کرنے کا درس ہے. جن کو آج کا مسلمان قطعی طور پر نظر انداز کر چکا ہے. اس صورتحال کی اصل ترجمانی ہمارے ملکی سیاست کرتے نظر آتے ہیں. وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آج ہی وفاقی کابینہ کی میٹنگ کی اور اس میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سختی سے نبٹنے کی ہدایت کی ہے. شاید وہ عید الضحٰی کی حقیت سے ناآشنا ہے. اگر آشنا ہوتے تو اس عظیم موقع کی مناسبت سے اپوزیشن کو کھلے دل سے دعوت دیتے کہ آؤ مل کراس ملک کی بہتری کے لیے کاوش کرے. کیونکہ میرے کوئی ذاتی مقاصد نہیں ہیں . میں تو اس ملک کی بہتری چاہتا ہو. تو شاید ہی کوئی عقل کا اندھا ہو گا. جو ان کی دعوت کا جواب منفی میں دے گا. مگر وہ تو ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے وہ تو سارا ثواب خود سمیٹنے کے چکر میں ہے. وزیراعظم پاکستان کو داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے عید الضحٰی کے موقع پر سب پر سبقت لے جانے کے چکر میں محض عید سے دو دن قبل ہی قربانی دے دی. انہوں نے اپنے دو معاونین خصوصی سے استعفیٰ لے لیا . ان میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور معاون خصوصی ڈیجٹل پاکستان تانیہ ادرس شامل ہیں. استعفوں کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں پر کرپشن کے الزامات ہیں. ڈاکٹر ظفر مرزا نے انڈیا سے بغیر اجازت کے ادویات برآمد کی ہیں. جس کی مد میں انہوں نے کروڑوں روپیہ کمیشن حاصل کیا ہے. اس کے ساتھ ان کا مزید کہنا تھا. کہ ان سے صحت کاشعبہ سنبھالا نہیں جا رہا. اسلام آباد کے ہسپتالوں کی حالت زار بہت ہی ابتر ہے. جو صحت کے شعبہ پر ایک سوالیہ نشان ہے. اسی طرح سے تانیہ ادرس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی امداد کی تفصیلات میں وہ وزیراعظم پاکستان کو مطمئن نہیں کرسکی. بقول ان کے بیرونی امداد میں موصوفہ نے خرد برد کی ہے. جس کی وجہ سے ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے. اگر حکومت کی ان باتوں کو درست مان لیا جائے تو اس کی ذمہ داری تو اس شخص پر عائد ہوتی ہے جس نے ان دونوں کو تعینات کیا تھا. اگر اس کو انکے کردار کے بارے میں ہی نہیں پتا تھا تو پھر انہیں اتنے اہم عہدوں پر تعینات کیوں کیا گیا . اب اگر ان دونوں کی کرپشن ثابت ہوگئی ہیں تو ان کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے. محض استعفیٰ لیکر ان کو بیرون ممالک جانے کی اجازت دینا کیا درست ہے. ہرگز نہیں ان سے غریب عوام کے خون پسینے کی لوٹی ہوئی دولت واپس لینی چاہیے اور ان دونوں کو نیب کی تحویل میں دینا چاہیے جو ان کے اثاثوں کی مکمل چھان بین کرے. اور دیکھے کہ ان کا شریک جرم کون ہے. تو وہ یقینی طور پر وزیراعظم پاکستان ہی ہے. کیونکہ ان کو تعینات انہوں ہی کیا تھا اور وہ ان کی قابلیت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے. اب اگر ان کی کرپشن اور نااہلی عیاں ہو گئی ہے تو وزیراعظم پاکستان کو کھلے دل سے اسے بھی عوام کے سامنے تسلیم کرنا چاہیے کہ مجھ سے اپنی ٹیم کی سلیکشن میں بڑی غلطی ہوئی ہے. ان کی اسی غلطی کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے. آج عوام کا سانس لینا محال ہو چکا ہے. ان کی ٹیم کا ہر فرد کرپشن کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے.. جہانگیر ترین، خسرو بختار، عامر گیانی اب ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ادرس کے نام سامنے آئے ہیں. آپ کس کس سے استعفیٰ طلب کرے گے. اس ابتر صورتحال کا ایک ہی حل ہے کہ آپ خود اپنے منصب سے مستعفی ہو جائے اس سے ایک طرف تو تمام کرپٹ لوگ جو آپ کی حکومت میں شامل ہیں. ان سے عوام کی جان چھوٹ جائے گی. دوسری طرف آپ کا بھی پردہ رہ جائے گا. اور آپ کی جو تھوڑی بہت عزت رہ گئ ہے وہ بھی بچ جائے گی. آپ کا ہر مشیر، وزیر اور رکن اسمبلی کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے. ایسے میں آپ کس کس کو بر طرف کرے گے. اس کا بہترین حل یہی ہے کہ آپ اپنی حکومت کو خود اپنے ہاتھوں سے برطرف کر دے. آپ کا مزاج سیاسی نہیں ہے.سیاست میں تو انسان کو وسیع قلبی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے مگر آپ انتہائی تنگ ذہن انسان ہے. اس لیے ملکی سیاست آپ کی سوچ کی متحمل نہیں ہو سکتی. آپ تو تمام ساست دانوں کو ختم کرکے اکیلے ہی اقتدار میں رہنا چاہتے ہے. آپ خود کو نیک اور پاک دامن سمجھتے ہیں باقی سب کو کرپٹ تصور کرتے ہیں. یہ تکبر ہی آپ کی سیاست کے خاتمہ کے لیے کافی ہے. اسی تکبر کی وجہ سے آپ پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پر اپوزیشن سے بات چیت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے. اس طرح سے کی گئی قانون سازی دیرپا نہیں ہوتی. کیونکہ اسے اپوزیشن کی حمایت حاصل نہیں ہوتی. اب دہشت گردی ایکٹ پر آپ نے جس قدر جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے آپ کی معاملہ فہمی کا اندازہ ہو جاتا ہے. پہلے آپ سوئے رہے اب جب فیٹہ کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کا وقت قریب آگیا. تو آپ کو اس بل کو جلد از جلد قومی اسمبلی و سینٹ سے پاس کروانے کا خیال آگیا آپ نے اس قانون کو متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد بھی نہیں کیا. یہ قانون سازی کا بہترین طریقہ کار نہیں ہے. اس طرح سے آپ نے آئین پاکستان میں بیان کردہ قانون سازی کے طریقہ کار کو بھی رد کر دیا ہے. اس سے وقتی طور پر تو آپ کو کامیابی مل گئ ہو گی مگر آنے والے وقت میں یہی چیزیں اور آپ کی ہٹ دھرمی آپ کو لے ڈوبے گی. عید قرباں کی اصل حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے. وسیع قلبی کے ساتھ تمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دے. کہ آئے سب مل بیٹھ کر ملک پاکستان کی بہتری کے لئے کام کریں. انا، غرور وتکبر تو کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا. اس سے تو مزید مسائل پیدا ہو تے ہیں. عید قرباں کا حسن ہی باہمی نفرتوں کو مٹاکر ایک دوسرے کو گلہ لگانا ہے.آپ اپنے اس مذہبی تہوار سے ہی کچھ سیکھ لیں. آپ لوگوں کے باہمی لڑائی جھگڑے کی بدولت اس ملک و قوم کا بے پناہ نقصان ہو رہا ہے. جس کی یہ قوم مزید متحمل نہیں سکتی . خدارا سب لوگ اپنی اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر اس ملک و قوم کی بھی فکر کریں . تب ہی ملک میں حقیقی ترقی وقوع پذیر ہوگی ورنہ ایسے ہی کاغذوں اور لفظوں میں ترقی ہوتی رہے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں