قصائی کی تلاش …………. تنویر بیتاب کے قلم سے

آمدہ کل عید الضحی ہے ۔قُربانی کے لیے جانور گھروں ہیں پہنچ چُکے ہیں ۔ قُربانی کا جانور زبح کرنے کے لئے قصائی کی تلاش آج ہی شروع ہو چُکی ہے ۔ قصائیوں کے نخرے آج اپنے عروج پر ہیں ۔ کسی بھی قصائی سےبات کر کے دیکھ لیں روائتی مراسیوں کی طرح اُس کا پہلا جواب یہ ہی ہو گا “ میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے “ جب آپ اُس مودبانہ درخواست کریں گےتو وہ انتہائی نخرے کے ساتھ آپ پر احسان کرتے ہوئے بکرا زبح کرنے کا معاوضہ اتنا زیادہ بتائے گا کہ آپ سُن کر دنگ رہ جائیں گے۔اگر آپ اُس سے ریٹ کم کروانے کی کوشش کریں گے تو وہ آپ کو صاف جواب دے دے گا۔

آج موسمی قصائی بھی گلی گلی پھر رہے ہیں۔ ہاتھوں میں چُھریاں اور بُگدے اُٹھائے قصائیوں کا روپ دھارے یہ نوسر باز سرے سے ہی اناڑی ہوتے ہیں۔کُچھ سال قبل ایک عید کے موقع پر میرے ہم زُلف میاں مقصود احمد نے قُربانی صبح جلدی کرنے کی خواہش میں ایسے ہی ایک فصلی قصائی کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ اُس نے بکرا زبح کر لیا تو ہم لوگ ڈرائنگ روم بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ۔کُچھ دیر بعد گیراج میں آ کر دیکھا تو ایک عجیب منظر ہمارے سامنے تھا۔قصائی نے زمین پر لیٹے پڑے بکرے کی کھال کاٹ کاٹ کر اُتار دی تھی ۔ بکرے کی گردن بھی اُس کے جسم کے ساتھ ہی جڑی تھی۔ اب آگے کیا کرنا ہے اُسے کُچھ سمجھ نہ آرہی تھی۔یوں لگتا تھا کہ بکرا زبح کرنا تو کُجا شاید اُس نے کبھی بکرا زبح ہوتا بھی نہ دیکھا ہوگا۔ہمسایوں کے ہاں آئے قصائی نے بکرے کا گوشت بنا کر مسئلہ ختم کیا۔

وہ لوگ قصائی کے نخروں سے محفوظ ہیں جو خود ہی قُربانی کا جانور زبح کرتے ہیں اور خود ہی اُس کا گوشت بناتے ہیں۔ قصائی حضرات پہلے دن قُربانی کا جانور زبح کرنے کے منہ مانگے دام لے کر بھی نہ تو صبح وقت کی پابندی کرتے ہیں اور نہ ہی بروقت کام مکمل کرتے ہیں۔جو انہیں پکڑ کر لے جائے اُسی کے ساتھ چل پڑتے ہیں اور پھر جانور زبح کر کے آگے سے آگے چلتے چلے جاتے ہیں۔پہلے والے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب واپس آ کر جانور کا گوشت بنائیں گے۔ قربانی کے لئے درست قصائی کا انتخاب اور حصول قُربانی کے جانور سے بھی مُشکل ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں