ٹرانسپرنٹ بیت الخلا، کیا ایسا ممکن ہے ، دنیا بھر میں پسند بھی کئے جارہے ہیں، کیوں؟

ٹوکیو ، انٹرنیشنل نیوز ڈیسک

اس وقت دنیا بھر میں بیت الخلا کے حوالے سے کام ہو رہا ہے لیکن جاپان میں سب سے زیادہ منفرد کام کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ جاپان کے شگیرو بین نامی آرکیٹیکٹ نے عوامی بیت الخلا میں گندگی اور صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال کے حوالے سے لوگوں کے نظریات بدلنے کے لیے جدید طرز کے بیت الخلا ڈیزائن کیے ہیں جو کہ ٹرانسپیرنٹ (شفاف) ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹرانسپیرنٹ یعنی شفاف بیت الخلا غیر منافع بخش نپون فاؤنڈیشن کے اقدام کا حصہ ہیں جسے ’ٹوکیو ٹوائلٹ پروجیکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو بیت الخلا میں جانے سے پہلے ہی اس کے اندر دیکھنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے تاکہ لوگ عوامی بیت الخلا میں جانے سے ہچکچائیں نہیں – یہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بیت الخلا ’اسمارٹ گلاس‘ سے بنائے گئے ہیں تاکہ لوگ اسے استعمال کرنے سے پہلے ہی باہر سے دیکھ سکیں کہ یہ صاف ہیں یا نہیں – جیسے ہی کوئی شخص اس بیت الخلا میں داخل ہوتا ہے اور اسے لاک کرلیتا ہے تو اس کے شیشے فوراً (اوپیک) ہوجاتے ہیں یعنی جس سے باہر کے کسی بھی شخص کو اندر کا نظر نہیں آتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جیسے ہی رات ہوجاتی ہے تو ان شفاف بیت الخلا کی خوبصورت روشنیاں جل اٹھتی ہیں جس سے یہ ہر شخص کی توجہ کا مرکز بنتا ہے – جاپان میں تعمیر کئے گئے یہ ٹرانسپرنٹ بیت الخلا نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی ہے اور اسے عوام کی نظروں میں پسندیدگی حاصل ہو رہی ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں