جرنیلی سیاست کے ھاتھوں جمھوری سیاست کی چھترول … تحریرمحمد طاھر شہزاد

نواز دور میں ایک عسکری سیاسی میٹنگ کی باتیں باھر آنے پر جرنیلی سیاست نے نواز شریف کاجینا حرام کر دیا تھا ۔ یہی ڈان لیکس ہی تھی جس کی بنیاد پر نواز حکومت کو گرانے کے لیے جرنیلی سیاست نے وہ وہ گر اپنائے کہ میاں صاحب کی سیاست کو لپیٹ کر رکھ دیا گیا ۔

اس وقت بھی ایک طرف جرنیلی سیاست تھی تو دوسری طرف عوامی سیاست ۔ اس وقت بھی نوازشریف دو تہائی اکثریت کے باوجود منہ کے بل گرے اور ابھی تک اٹھنے میں کامیاب نہیں ھو سکے ۔

آج ایک بار پھر اسی ڈان لیکس کی یاد تازہ کر دی جرنل باجوہ صاحب نے – آج کی ڈان لیکس یا شیخ رشید لیکس اور کل کی ڈان لیکس میں فرق صرف اتنا ھے کہ کل میاں صاحب کی حکومت پر الزام تھا کہ عسکری و سیاسی میٹنگز کی باتیں باھر کیسے لیک ھوئیں ۔ مگر آج یہی لیکس جرنل باجوہ صاحب خود اپنے کٹھپتلی اپنی انگلیوں پرناچنے والے جوکروں سے کروا رھے ہیں اور ساتھ کہتے بھی جارھے ہیں کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ۔ آج جرنیلی سیاست نے ثابت کر دیا ھے کہ انہوں نے ھر حال میں نام نہاد جمھوریت کو جوتیاں ھی مارنی ہیں اور سیاست کے معزور اور اقتدار کے بھوکے سیاست دانوں نے ہمیشہ جوتیاں ھی کھاتے رھنا ھے ۔ چاہے معذور سیاست خود جا کر جوتیاں کھائے یا انہیں بلا کر جوتیاں ماری جائیں ۔ مگر آج کی لولی لنگڑی معزور سیاست کا مقدر ھر حال میں جوتیاں ھی ہیں ۔
اج تمام معزور سیاستدان چھترول بھی کروا رہے ہیں اپنی اور جرنیلی سیاست انہیں رونے بھی نہیں دے رہی ۔

اج اگر یہ لیکس فرشتوں کی مرضی کے خلاف ھوتی تو شیخ رشید جیسوں کی کیا اوقات ھوتی باھر نکل کر منہ کھولنے کی جرت بھی کرسکتے ۔ آج کسی ڈرپوک سیاست دان میں اتنی ہمت نہیں کہ جرنیلی سیاست کے سامنے کھڑا ھو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ سکے کہ اگر جرنل صاحب کا سیاست میں کوئی رول نہیں تو آج اس کا مطلب ھے شیخ رشید فوج کو بدنام کر رھے ہیں فوج ہر سیاسی مداخلت کا لیبل لگا کر ، آج ایک قومی ایشو گلگت پر میٹنگ ایک جرنیل کیسے کال کر رھا ھے جبکہ ایک جرنیل تابع ھے پارلیمنٹ کے احکامات کا ۔ جبکہ کسی بھی قومی ایشو جس میں گلگت ھو یا کشمیر یاسندھ و بلوچستان کے حالات ان میں وزیر اعظم کو ہی صرف استحقاق حاصل ھے میٹنگزچئیر کرنے کا ۔ آج شیخ رشید لیکس یا باجوہ لیکس پر جرنل صاحب گلگت ایشو پر میٹنگ چئیر کرتے ھوے مسکراتے ھوے صرف اتنا کہ کر خاموش ھو گئے کہ ا ن کا سیاست میں کوئی رول نہیں ، سرکس کے رنگ ماسٹر کی بات کو نا مانتے ھوے بھی رد کرنے کی جرات کسی میں نہیں آج ، کیونکہ سرکس کے گدھے ھوں یاشیر رنگ ماسٹر کی چھڑی اور چھتر و بلٹ کا خوف انہیں رنگ ماسٹر کی ھر بات ماننے پر مجبور کر دیتا ھے ۔ مگر مجھے امید ھے اتنی جوتیاں اور پیاز کھانے کے بعد بھی یہی معزور اقتدار کے بھوکے سیاست دان قومی مفاد کے نام پر انہی جرنیلوں کی ایک پکار پر آئندہ بھی سوجوتیاں اور سو پیاز کھانے کے لیے اپنی امیدوں کی جنت کی گیٹ پر قطار میں کھڑے نظر آئیں گے اسی امید پر کہ شائید اتنی چھترول کے بعد فرشتوں کو ان کی آنکھوں سے نکلتے آنسؤں پر ترس آجائے اور اقتدار کا لولی پاپ کا مزہ وہ بھی محسوس کر سکیں ۔

آج جمھوریت کے مضبوط ستون کہلوانے والے جرنیلی سیاست کے آگے منہ کے بل گرے سسکیوں کے ساتھ روتے نظر آرہے ہیں مگر فرشتے بھی کمال سیاست سے چھترول بھی کرتے جا رھے ہیں اور رونے بھی نہیں دے رھے سیاسی پنڈتوں کو ۔ آج نام نہاد جمھوریت کے قاتل ایک بار پھر ھار گئے اور جرنیلی سیاست جیت گئی ۔ جرنیلی سیاست کے بھی کیا خوب رنگ ہیں ۔ ایک ھاتھ میں اقتدار کا لولی پاپ اور دوسرے ھاتھ میں چھتر ، چھڑی اور بندوق ۔ لولی پاپ چوسنے کی آس میں جرنل صاحب کے ھلکے سے اشارے پر بھاگتے ھوے لولی پاپ پر مکھیوں کی طرح جھپٹنے والوں کو لولی پاپ کا مزا تو نصیب نہیں ھوتا مگرچھترول کا مزا ضروز انجوائے کر رھے ہیں اقتدار کی ہوس کے پجاری ۔ آج اے پی سی کا کمزور بیانیہ نام نہاد جمھوریت کی چھترول کے شور میں کہیں گم ھو گیا ھے ۔

میرے خیال کے مطابق کمزور اور معزور سیاسی شعبدہ بازوں کا مقدر سو جوتیاں بھی ہیں اور سو پیاز بھی ۔ اب بھی اقتدار کے بھوکے معزور سیاست دانوں نے جرنیلی سیاست کے دربار سے سجدہ ریزی سے توبہ نہ کی تو ان کا مقدر اگلے 100 سال بھی چھترول ھی رھے گا ۔ میرے خیال کے مطابق اے پی سی کے کمزور اور خود اعتمادی سے عاری فیصلوں کے بعد دھمال ڈالنے والوں کو اب اپنی اسی چھترول سے ہی سبق سیکھنا چاہیے کہ کیا اگلے 3 سال مزید اور آگے بھی سو جوتیاں اور سو پیاز ھی کھاتے رھنا ھے یا ابھی بھی وقت ھے اسمبلیوں سے باھر نکل کر پوری دنیا کو میسج دے دیں کہ ہم اس غلیظ سیاست سے اپنے آپ کو دور رکھیں گے ۔ اور تب تک سیاست میں نہیں آئیں گے جب تک تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں نہیں قید ھو جاتے ۔ نام نہاد عدالتوں اور کٹھپتلی نیب سے مزید اگلے 3 سال جرنیلی جوتیاں کھانے کی بجائے جیل میں بیٹھ کر دنیا اور اپنی قوم کو خاموش میسج دیں کہ اس ملک کے لیے گئے فیصلوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ، جبکہ فیصلے تو کوئی اور کرے مگر ان فیصلوں کے برے نتائج پر چھترول سیاستدان کا مقدر کیوں ؟ اور اگر اقتدار کے لولی پاپ کا چسکا نہیں اترا ابھی بھی تو مزید چھترول اور مزید پیاز کھانے کے لیے تیار رہیں ۔
ذرا سوچئے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں