سپریم کورٹ کے احکامات، ضلعی انتظامیہ تجاوزات مافیا سے اراضی واگزار کروانے میں ناکام

فیصل آباد (آن لائن)

سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باجودہ ضلعی انتظامیہ شہر اور گردونواح کی سڑکوں اوربازاروں سے ناجائز تجاوزات، گرین بیلٹس وپارکوں اور سرکاری زمینوں کوقبضہ گروپ سے خالی کروانے مکمل طور پر ناکام ہوگئی،انتظامیہ کی کارگردگی صر ف تصویروں اور کاغذی کارروائی کے صرف کچھ نہیں ہے –

آن لائن کے مطابق گذشتہ روزسپریم کورٹ آف پاکستان پر احکامات کی روشنی میں ڈویژنل کمشنر عشرت علی نے ہدایت کی کہ تجاوزات مافیا کے خلاف بھرپور اپریشن پوری قانونی قوت سے جاری رکھتے ہوئے سرکاری اراضی قابضن سے واگزار کرائی جائے۔انہوں نے یہ ہدایت ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں ڈپٹی کمشنر محمد علی، ڈی جی ایف ڈی اے سہیل خواجہ، ڈی جی پی ایچ اے عاصمہ اعجاز، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ میاں آفتاب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی، اسسٹنٹ کمشنرز عمر مقبول، سید ایوب بخاری، پھاٹا اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسران بھی موجود تھے۔

ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ پی ایچ اے، ایف ڈی اے، پھاٹا اور میٹروپولیٹن کارپوریشن مزید متحرک ہوتے ہوئے گرین بیلٹس وپارکوں اور سرکاری زمینوں کوقبضہ گروپ سے خالی کرائیں اس سلسلے میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے واگزار کرائے گئے پارکس وگرین بیلٹس پر پلانٹیشن کرانے، مزید سروے کرکے قابض شدہ جگہوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں بھی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی تاکید کی۔انہوں نے ایف ڈی اے، پھاٹا اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کو بھی اپنی حدود میں تجاوزات کا صفایا کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران اینٹی انکروچمنٹ سیل کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا-

جبکہ تمام تر احکامات کے برعکس صورت کچھ اور ہے شہر کے مختلف مقامات جھنگ روڈ،نڑوالہ روڈ،سرکلر روڈ، غلام محمد آباد،رضا آباد، شہر کی اہم مارکیٹوں،سڑکوں اوربازاروں میں ناجائز تجاوزات، گرین بیلٹس وپارکوں اور سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا کا کنٹرول پرقرار ہے اربوں کی اراضی ضلعی انتظامیہ واگزار کرنے میں ناکام ہے، ناجائزتجاوزات کرنے والے تاجروں اور دوکاندارں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اہلکار ماہانہ مبینہ طور لاکھوں روپے رشوت وصول کرتے ہیں اور اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر قبضہ کے سلسلہ میں تمام رپورٹیں اور ریکارڈ تحیصلدار،حلقہ پٹوار کے پاس موجود ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کی شہر اور گردونواح کارروائیاں صرف تصویروں اور کاغذی کارگردگی کے سواء اور کچھ نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں