غدار وطن ! ……………………. تحریر ، اورنگزیب اعوان

ملک پاکستان میں لفظ غدار کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے. یہ لقب ہر اس محب الوطن شخص کو دے دیا جاتا ہے. جس نے اس ملک کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہو. اس کا آغاز محترمہ فاطمہ جناح سے ہوا. جہنوں نے اس ملک کو آزاد کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا. ہم نے انہیں اس کے صلہ میں غدار کا لقب دے کر ان کی عزت افزائی کی. یہ سلسلہ یہی نہیں رکا.مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار قرار دیا گیا. ان کے خلاف بے جا طاقت کا استعمال کیا گیا. جس کے نتیجہ میں وہاں بغاوت نے سر اٹھایا. جس کا اختتام بنگلہ دیش کی صورت میں ہوا. مغربی پاکستان میں ملک پاکستان کو پہلا جمہوری آئین دینے والے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو غدار قرار دے کر پھانسی لگا دیا گیا . ان کی بیٹی وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک اور غدار قرار دیا گیا. جس کی پاداش میں انہیں قتل کروا دیا گیا. سردار اکبر بگٹی کو بھی اس لقب سے نوازا گیا. جہنوں نے ہر مشکل وقت میں بھارت کے خلاف اپنے بلوچ بھائیوں کے ہمراہ بھرپور مذمت کا مظاہرہ کیا. انہیں مقتدر حلقوں کی جانب سے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں شہید کر دیا گیا.

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو بھی اس لقب سے فیض یاب ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے. ان کا انجام بھی ساری پاکستانی قوم کے سامنے ہے. اب کی بار تین بار کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے رفقاء کار کو اس میڈل سے نوازا گیا ہے. اگر ان تمام لوگوں کی زندگیوں کا بغور جائزہ لیا جائے کہ ان سے ایسی کون سے غلطی سرزد ہوئی. جس کی بدولت انہیں غدار قرار دینا مجبوری بن گیا تھا. تو جو بات مشترکہ طور پر ان تمام لوگوں کی سامنے آتی ہے. وہ ہے فرسودہ اور غلامانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنا. اسی کی پاداش میں انہیں غدار کے لقب سے نوازا گیا. تب کے حالات اور اب کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے. اب قوم بہت باشعور ہوچکی ہے. اسے پتہ ہے کہ کون ان کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہا ہے. اور کون ان کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کر رہا ہے. عوام کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جاسکتی. اب یہ غدار کہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا.عوام کو بتانا پڑے گا کہ کس بات پر غداری کا لقب دیا جا رہا ہے. میاں محمد نواز شریف نے آل پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے. پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سیاہ اوراق سے پردہ اٹھایا تھا.انہوں نے ان حقائق سے قوم کو آگاہ کیا. جن کا جاننا ایک پاکستانی کے لیے بے حد ضروری تھا. تو اس میں کیا برائی ہے .

اگر ادارے اس چیز کو اپنے لیے گائیڈ لائن سمجھتے ہوئے آیندہ سے اپنی کوتاہیوں کو نہ دوہرانے کا پختہ عزم کر لے تو اس ملک کی آدھے سے زیادہ مشکلات کم ہو سکتی ہیں. مگر ہم لوگ شاید سچ سننے کے عادی نہیں. جو بھی سچی بات کرتا ہے. اسے ہم اپنا دشمن تصور کر لیتے ہیں. یہی سے خرابی جنم لیتی ہے.ہم اپنے ناجائز فعل کے دفاع کے لئے دوسروں پر غداری تک کے الزامات لگا دیتے ہیں. موجودہ حکومت مقتدر حلقوں سے اس قدر محبت کا مظاہرہ کر رہی ہے. کہ صبح شام اس کے وزراء پریس کانفرنسیں کرکے ان حلقوں کا دفاع کر رہے ہیں. حکومت وقت نااہل اور نالائق تو تھی ہی. اب تو اس نے حد ہی پار کر دی ہے. اس نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے پارٹی کے سرگردہ ریمنا پر لاھور میں غداری کا مقدمہ درج کروا دیا ہے. وزیراعظم عمران خان نےغیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر آرمی چیف مجھے مستعفی ہونے کا کہے گے تو میں ان سے استعفیٰ لے لو گا. جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک طاقت ور وزیراعظم ہے. تو ان سے ایک معصومانہ سا سوال ہے. کہ جب آپ اس ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو انڈیا کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے غدار کہتے ہیں. تو پھر ان کے ہاتھوں سے تمام اہم ملکی عہدوں پر کی گئی تعنیایتوں کو فی الفور ختم کر دے. کیونکہ یہ تمام لوگ بھی غدار ہیں . کیونکہ انہیں ایک غدار نے تعینات کیا تھا . ان میں آرمی چیف، عدلیہ کے جج صاحبان، و دیگر اہم عہدیداران شامل ہیں یا تو ان سے فی الفور استعفیٰ لے. یا پھر انہیں بھی غدار قرار دے. تاکہ قوم کو پتہ تو چلے کہ ہمارا وزیراعظم کس قدر بہادر ہے. خالی بھڑکیں مارنے سے کچھ نہیں ہو گا.میاں محمد نواز شریف کی تقریروں کو غور سے سنے تو پتہ چلتا ہے. کہ انہوں نے فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کی. انہوں نے تو اس بات کا اظہار کیا ہے. کہ فوج کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے چاہیے. اس بات میں تو کوئی غداری والی بات نہیں. یا اگر انہوں نے الیکشن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کو غلط طریقے سے جتوانے کی بات کا ذکر کیا ہے تو کیا غلط کیا ہے. ہر پاکستانی جانتا ہے. کہ آپ کس طرح سے حکومت میں آئے ہیں. چلے جیسے تھیسے آپ کو حکومت مل گئ. اب کچھ کر کے ہی دیکھا دیتے. محض باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا. آپ کی حکومتی حکمت عملی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے. آپ اپنی اس نالائقی کو انتقام کی چادر تلےکب تک چھپاتے رہے گے.

خدا نہ کرے کہ ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہو جائے. اس دفعہ پنجاب میں علیحدگی کے لیے تحریک چلے گی. کیونکہ آپ صوبہ پنجاب کی عوام سے دشمنی نکال رہے ہیں. اس کے لیے تو آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں. اب غداری کے القابات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا. عوام آپ کی ناقص کارکردگی سے مکمل طور پر مایوس ہو چکی ہے. جس دن اپوزیشن نے اپنی تحریک کا آغاز کرنا ہے. عوام نے جوق در جوق ان کے احتجاجی جلسوں میں شرکت کرنی ہے. ان کی محبت میں نہیں آپ کی نفرت میں. آپ نے اس قوم کو اس قدر مایوس کیا ہے کہ وہ آپ سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے. وہ تو موقع کی تلاش میں ہے. کہ کب کوئی اس حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور انہیں اس ظالم حکومت سے نجات دلوائے. حکومت کو ایک بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اب اوچھے ہتھکنڈوں سے یہ بغاوت دبنے والی نہیں. نہ ہی غداری کے سرٹیفکیٹ دینے سے.یہ سب حربے پرانے ہو چکے ہیں. میاں محمد نواز شریف واقعی ایک لیڈر ہے. ان کو جھکانے کے چکر میں بہت سے آمر و حکمران خود عہدوں سے فارغ ہو چکے ہیں. سابق صدر پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا خاتمہ کرکے ان کے خلاف طیارہ سازش کیس بنایا. جس کے تحت انہیں دس سال کے لیے جلاوطن کیا گیا. ان کا خیال تھا کہ دس سال میں پاکستانی عوام میاں محمد نواز شریف کا نام تک بھول جائے گی. مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا. اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بار پھر سے واضح اکثریت سے کامیاب کروا کر اس ملک کا وزیراعظم بنا دیا. ان کے مخالفین سے ان کی یہ کامیابی ہضم نہیں ہوئی. تو انہوں نے ان کے خلاف پانامہ کا جھوٹا افسانہ بنا دیا . جس میں سے کچھ نہیں نکل پایا تو بیٹےسے تنخواہ نہ لینے پر انہیں تاحیات نااہل کر دیا گیا. لیکن اس سے بھی عوام کے دلوں سے ان کی محبت کو نکالا نہ جاسکا. عوام پہلے سے زیادہ ان سے محبت کرنا شروع ہوگئی . تو اب ان پر غداری کا مقدمہ بنا دیا گیا. شاید یہ اس بات سے لاعلم ہیں. کہ جنہوں نے عوام کے لیے کچھ کیا ہو. عوام انہیں کبھی بھی نہیں بھولتی.

میاں محمد نواز شریف تو عوام کے دلوں میں بستے ہیں. انہیں کس طرح نکالا جاسکتاہے. میاں محمد نواز شریف کو عوام کے دلوں سے نکالتے نکالتے آپ خود مٹ جاؤ گے. آپ سے پہلے بھی کئی تخت نشین یہ فعل کرتے کرتے خود ہی صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں. آپ وقت کے یزید بنے ہوئے ہیں. آپ کو یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہیے. کہ حسنیت کے مانی کبھی بھی مٹتے نہیں. ہر دور میں یزیدیت ہی رسوا ہوئی ہے. آپ نے جو طرز حکومت اختیار کیا ہوا ہے. عوام اس سے تنگ آچکی ہے. اب آپ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے. انہیں زیر اعتاب لانا چاہتے ہیں. جو کسی صورت ممکن نہیں. بہت جلد آپ کی انتقامی سیاست کا خاتمہ ہونے والا ہے. آپ ناکام سیاست دان تو تھے ہی. مگر آپ نے خود کو ایک گھٹیا دشمن بھی ثابت کر دیا ہے. جس نے اپنے مخالف کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں تک کو نہیں بخشا. ایسے اقدامات انسان کی کامیابی نہیں. بلکہ اس کے زوال کی نشانی ہوتے ہیں. خدارا ابھی بھی وقت ہے اپنی اس انتقامی روش کو ترک کے عوام کی فلاح بہبود پر توجہ مرکوز کرے. ورنہ پاکستانی سیاست میں آپ کا نام ونشان تک نہیں رہے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں