سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر اقرار کو بحال کرنے کا عدالتی حکم ، لیکن کب تک؟؟

فیصل آباد (آن لائن)

لاہور ہاٸیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد کو آٸندہ سوار12اکتوبر تک بحال کرکے رپورٹ پیش کرنا کاحکم دیدیا اگربحال نہ کیا تو وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاررواٸی کی جاٸے گی-

یاد رہے کہ عدالت عالیہ نے سابق واٸس چانسلر کے خلاف انیٹی کرپشن پنجاب نے جو مقدمہ درج کیا تھا اس میں کاررواٸی سے بھی روک دیا تھا آن لاٸن کے مطابق لاہور ہاٸیکورٹ سابق فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی کے عہدے پر بحال کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو عدالت وزیراعلیٰ پنجاب کو توہین عدالت کے الزام میں 12اکتوبر سوار کو طلب کرلیاعلاوہ ازیں عدالت نے اینٹی کرپشن کی طرف سے پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد اور دیگر افراد کیخلاف درج ہونیوالے مقدمے کی کارروائی کو بھی تاحکم ثانی روک دیا ہے،

یاد رہے کہ عدالت عالیہ نے پروفیسر ڈاکٹر اقرار کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی، عدالت عالیہ کے دو رکنی بنچ نے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کو زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر کام جاری رکھنے کی اور وزیر اعلی پنجاب کو 12اکتوبر کو طلب کرلیا ہے درخواست دی تھی جس کے خلاف پروفیسر ڈاکٹر اقرار نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 7 ستمبر کو ابتدائی سماعت کے بعد پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد کی اپیل سماعت کیلئے منظور کر لی تھی اور عدالت عالیہ کے دو رکنی بنچ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے کر سنگل بنچ کا فیصلہ بحال کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں