ففتھ جنریشن وار میں ہمارے دین اور اخلاقیات کی موت! …….. تحریر، محمد طاھر شہزاد

آج کل ففتھ جنریشن وار کے چورن کی فروخت عروج پر ھے ، مگر مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کے ففتھ جنریشن وار ھے کیا ؟ جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی تشہیر یا برین واشنگ ؟

کیونکہ میرے خیال کے مطابق تو اس چورن کی فروخت ھزاروں سال سے جاری ھے ، مگر آج اس چورن کی فروخت میں شدت اس لیے نظر آتی ھے کیونکہ آج کا دور سوشل میڈیا کادور ھے اور جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی تشہیر کا نام ھی ففتھ جنریشن وار ھے ۔ عراق یا افغانستان پر امریکہ کے حملے کو لے لیں ان جنگوں میں امریکہ نے جھوٹی اور من گھڑت خبروں کے ذریعے ہی پوری دنیا کو گمراہ کر کے ان جنگوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ جبکہ ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہم اپنے ملک میں رھتے ھوئے ہی اگر اپنی تاریخ دیکھیں تو پاکستان بننے سے لے کر آج تک ہمیں اس ہتھیار کا استعمال بے دریغ نظر آئے گا ۔۔ پاکستان کا نام تجویز کرنے والی شخصیت سے لے کر فاطمہ جناح تک اور شیخ مجیب سے لے کر بھٹو تک ، بینظیر سے لے کر نوازشریف تک سبھی کے خلاف یہ ھتھیار بلا دریغ استعمال ھوا ، کبھی یحیٰی نے تو کبھی ایوب خان نے غداری کے سرٹیفیکیٹس استعمال کر کے اس ھتھیار کا بے دریغ استعمال کیا تو کبھی جرنل ضیاء نے اور مشرف نے کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگا کر اس ھتھیار کا استعمال کیا تو کبھی راحیل شریف اور جرنل قمر جاوید باجوہ نے چور ڈاکو اور کرپٹ کا نعرہ لگا کر عدلیہ کو استعمال کرتے ھوےاس ہتھیار کا استعمال کیا ۔

اگر ھر ادوار میں جرنیلوں نے اس ھتھیار کواپنے مفاد میں استعمال کیا تو سیاست دان بھی اس ھتیار کے استعمال میں پیچھے نہیں رھے ۔ ھر سیاست دان نے اس ھتھیار کو اپنے مفاد میں اپنے مخالفین کے خلاف بھرپور استعمال کیا ۔ اگر پاکستان کی تاریخ دیکھی جائے تو 80٪ جرنیلوں نے یا اداروں نے اپنےمفادات کے تحفظ کے لیے قوم کی برین واشنگ کے لیے ھی اس ھتھیار کااستعمال کیا ، دیکھا جائے تو آج نیب و دیگر ادارے اسی ہتھیار سے قوم کا مائنڈ سیٹ اپ بنانے میں مگن نظر آتے ہیں ۔ آج پوراسوشل میڈیا اسی ھتیار کا استعمال کرتا نظر آتا ھے ۔ آج نہ ہی میڈیاسچ بتانا چاہتا ھے اپنی رینکنگ کی دوڑ میں اور نہ ہی ادارے پاکستان کے وسائل پر قبضے کی جنگ میں سچ سننے کی سکت رکھتے ہیں ۔

آج ہم گلبھوشن اور بھارت کے خلاف سوشل میڈیا پر تو قوم کے خون کو خوب گرماتے نظر آتے ہیں مگر گراؤنڈ میں ہم پوری دنیا اور اقوام متحدہ و عالمی عدالتوں میں سر نڈر کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔آج اپوزیشن کی تحریک شروع ھوتے ہی ایک بار پھر اس ہتھیار کی جنگ اپنے عروج پر نظر آتی ھے ۔ آج غداری کے سرٹیفکیٹس بھی فراخدلی سے وافر مقدار میں تقسیم کیے جارھے ہیں اور کرپشن و مہنگائی کی پردہ پوشی کے لیے بھی حکومتی وزراء اسی ہتھیار کا بے دریغ استعمال کرتے نظر آرھے ہیں ۔

آج ہم بھارت سے سوشل میڈیا پر جنگیں تو جیتتے نظر آتے ہیں مگر گراؤنڈ میں اب کے مار سے آگے بڑھتے نظر نہیں آتے ،
آج کے سوشل میڈیا دور میں جو جتنا جھوٹ پھیلا سکتا ھے اتنا ھی کامیاب ھے ۔ آج سچ اور اخلاقیات کی موت کا نام ھی ففتھ جنریشن وار ھے ۔

اسی ھتھیار کے ذریعے کبھی اخلاقیات کے سبق پڑھائے جاتے ہیں تو کبھی اخلاقیات کو بوٹوں کے نیچے روند ڈالا جاتا ھے ۔ اگر آصف ذرداری سندھ کا نعرہ لگاتا ھے تو سندھ کارڈ کااستعمال کہہ کر پیپلز پارٹی کو اخلاقیات کا درس دیا جاتا ھے تو کبھی مولانا کو مذھب کارڈ کا تعنہ دے کر تو کبھی میاں صاحب کو پنجاب کارڈ کے تعنے دے کر اخلاقیات کے سبق دینے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یحیی ، ایوب ، جرنل ضیاء ، جرنل مشرف ، راحیل شریف اور آج جرنل قمر جاوید باجوہ اور عاصم باجوہ تک سب فوج کارڈ کو ہی استعمال کر کے ادارے کے پیچھے چھپ کر اپنے غیر آئینی اقدامات کو چھپاتے نظر آتے ہیں ۔ صاف ظاھر ھے کہ اگر پیپلز پارٹی کی طاقت سندھ ، میاں صاحب کی طاقت پنجاب اور مولانا صاحب کی طاقت مذہبی حلقے ہیں تو وہ انہی کارڈزکااستعمال کریں گے مگر آج سیاست دانوں کو تو اخلاقیات کا درس دے کر ان کارڈز کے استعمال سے روکا جاتا ھے مگر جب جرنل عاصم باجوہ کی کرپشن پر بات آتی ھے تو فوج کارڈ کیوں استعمال کیا جاتا ھے ۔ مشرف سمیت تمام ڈکٹیٹرز نے فوج کارڈ کااستعمال اپنی بقاء کے لیے کیا مگر اس وقت کسی کو اخلاقیات کا درس یاد کیوں نہیں رھا ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو پاکستان کی قوم سب سے زیادہ پیار اسی ادارے کے جوانوں سے کرتی ھے مگر جند جرنیلوں نے اپنی طاقت اپنے مفادات اپنے غیر آئینی اقدامات کی پردہ پوشی کے لیے اپنی پیاری فوج کا کارڈ استعمال کر کے پوری پاک فوج کوبدنام کرنے کی کوشش کی ۔ تمام جرنیل تو فوج کارڈ استعمال کر کے اپنے آپ کو بچاتے رہے مگر اس پاک فوج سے بے انتہا محبت کرنے والی قوم کے دلوں میں اپنی ہی فوج کے خلاف نفرت کے بیج بو کر ملک کی بنیادیں کمزور کر گئے ۔ آج بھی جرنل قمر جاوید باجوہ پر سیاسی مداخلت کا سوال اٹھایا جاتا ھے یا عاصم باجوہ کی جائداد کی تفصیل سامنے آتی ھے تو ففتھ جنریشن وار کے ذریعے یہی جرنیل فوج کارڈ استعمال کر کے اس کارڈ کے پیچھے چھپتے نظر آتے ہیں ۔

میرے خیال کے مطابق آئین میں پاکستان کاسب سے مقدم ادارہ پارلیمنٹ ھے مگر پارلیمنٹ کو گالی دینا اور منتخب وزیر اعظم کے خلاف الزامات لگانے سے تو ملک کمزور نہیں ھوتا مگر جب کسی جرنیل سے اس کی جائداد کا سوال پوچھ لیا جائے تو ملک کی سلامتی خطرے میں کیوں آجاتا ھے ۔

میرے خیال کے مطابق آج سب اداروں کی چند شخصیات اور سیاست دان اپنے اپنے کارڈز کااستعمال بےدریغ کرتے نظر آرھے ہیں ۔
آج کی ففتھ جنریشن وار اخلاقیات اور ہمارے دین کی کمزوری کی جیتی جاگتی مثال ھے ۔ شائید ہم مسلمان گھرانے میں تو پیدا ھوئے مگر ہم میں آج مسلمانوں والی کوئی نشانی یا خوبی نظر نہیں آتی ۔ ہم آج اپنے نبی پر مر مٹنے کو تو تیار نظر آتے ہیں مگر آپنے نبی کے احکامات سے ہم کنار ا کشی کرتے کیوں نظر آتے ہیں ۔

ذراسوچئیے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں